انوریکسیا نرووسا (Anorexia nervosa) کھانے سے متعلق ایک ڈس آرڈر ہے جس میں جسمانی وزن غیر معمولی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کی بنیادی وجہ وزن بڑھنے کا شدید خوف اور جسمانی شکل کے بارے میں بگڑا ہوا تصور ہے۔ مریض خود کو موٹا سمجھ سکتا ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ بہت دبلا ہوتا ہے۔ اسی خوف کے باعث وہ خوراک محدود کر دیتا ہے اور وزن پر سخت کنٹرول کی کوشش کرتا ہے۔
انوریکسیا صرف کھانے کا مسئلہ نہیں بلکہ دماغی اور جسمانی تبدیلیوں سے جڑی ایک سنگین حالت ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
علامات
جسمانی علامات
٭ دھڑکن کی بے قاعدگی، کم بلڈ پریشر اور جسم میں پانی کی کمی
٭ جلد کی خشکی، رنگت زرد ہونا اور جسمانی کمزوری
٭ بال کمزور ہو کر گرنا
٭ وزن میں شدید کمی یا عمر کے مطابق وزن نہ بڑھنا
٭ مسلسل تھکن اور کمزوری
٭ چکر آنا یا بے ہوشی
٭ قبض اور پیٹ درد
٭ شدید سردی محسوس ہونا
٭ ہاتھوں اور پیروں میں سوجن
٭ دانتوں کا خراب ہونا اور انگلیوں پر زخم
٭ بھوک کا ختم ہونا یا بہت جلد پیٹ بھر جانا
٭ توجہ مرکوز کرنے میں مشکل
٭ موڈ میں کمی اور بے چینی
٭ ہڈیوں کی کمزوری اور فریکچر
خواتین میں ماہواری رک سکتی ہے، خاص طور پر اگر ہارمونل ادویات استعمال نہ کی جا رہی ہوں۔
رویے کی علامات
٭ کھانے کے بارے میں غیر معمولی حساسیت
٭ دوسروں کے لیے کھانا بنانا مگر خود نہ کھانا
٭ کھانا چھوڑنا، فاسٹنگ یا سخت ڈائٹنگ کرنا
٭ کھانا چبانے کے بعد تھوک دینا
٭ عوامی جگہوں پر کھانے سے گریز کرنا
٭ کھانے کی مقدار کے بارے میں جھوٹ بولنا یا چھپانا
بعض مریض بے قابو ہو کر بہت زیادہ کھاتے ہیں اور پھر قے کے ذریعے جسم سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جذباتی و رویے کی دیگر علامات
٭ حد سے زیادہ ورزش کرنا حتیٰ کہ چوٹ یا تھکن کے باوجود
٭ وزن بڑھنے کا شدید خوف اور بار بار وزن کرنا
٭ آئینے میں بار بار جسم دیکھنا اور خامیاں تلاش کرنا
٭ سماجی تنہائی اور کم میل جول
٭ جذباتی بے حسی، چڑچڑاپن یا غصہ
٭ نیند کی کمی (انسومنیا)
٭ خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات یا رجحانات
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
انوریکسیا میں غذائی کمی دماغی سوچ اور ادراک کو متاثر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے مریض اکثر اپنی حالت کی سنگینی کو نہیں سمجھ پاتے۔ اگر کسی قریبی فرد میں علامات نظر آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
وجوہات
انوریکسیا کی کوئی ایک واضح وجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ کئی عوامل کا مجموعہ ہے:
جینیاتی عوامل: موروثی رجحانات خطرہ بڑھا سکتے ہیں
ذہنی صحت: پرفیکشن کی خواہش اور وسواسی سوچ خطرہ بڑھا سکتی ہے
ماحولیاتی اثرات: سماجی دباؤ، میڈیا اور خوبصورتی کے معیار اہم کردار ادا کرتے ہیں
خطرے کے عوامل
انوریکسیا کسی بھی عمر، جنس یا پس منظر کے فرد کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم نوجوانوں میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
٭ فیملی میں کھانے کی بیماریوں کی ہسٹری
٭ وزن یا شکل پر دوسروں کی تنقید یا بدمعاشی
٭ بار بار ڈائٹنگ کی عادت
٭ بڑی جذباتی یا سماجی تبدیلیاں
پیچیدگیاں
انوریکسیا شدید اور بعض اوقات جان لیوا پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ یہ دل کی بے قاعدگی اور الیکٹرولائٹ عدم توازن کے باعث اچانک موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
دیگر پیچیدگیاں یہ ہیں:
٭ خون کی کمی
٭ دل کی بیماریاں اور ہارٹ فیلیئر
٭ ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپوروسس)
٭ پٹھوں کا کمزور اور کم ہو جانا
٭ معدے کے مسائل جیسے قبض اور متلی
٭ گردوں کی خرابی
شدید غذائی کمی میں جسم کے تمام نظام متاثر ہو سکتے ہیں اور بعض نقصانات مستقل بھی ہو سکتے ہیں۔
علاج
٭ انوریکسیا کا علاج ایک ماہر ٹیم کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں ڈاکٹر، ماہر نفسیات اور ڈائیٹیشن شامل ہوتے ہیں
٭ شدید حالت میں ہسپتال میں داخلہ ضروری ہو سکتا ہے، خاص طور پر دل یا غذائی توازن کے مسائل میں
٭ کچھ مریضوں کے لیے خصوصی علاجی پروگرام بھی دستیاب ہوتے ہیں
٭ فی الحال کوئی مخصوص دوا اس بیماری کا براہ راست علاج نہیں ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا انوریکسیا صرف کم کھانے کی عادت ہے؟
یہ ایک ذہنی اور جسمانی بیماری ہے جس میں سوچ اور رویہ دونوں متاثر ہوتے ہیں
کیا انوریکسیا کا علاج ممکن ہے؟
صحیح طبی اور نفسیاتی علاج سے بہتری ممکن ہے
کیا یہ بیماری صرف کم وزن افراد کو ہوتی ہے؟
نہیں، بعض افراد بظاہر نارمل وزن میں بھی متاثر ہو سکتے ہیں
کیا انوریکسیا دوبارہ واپس آ سکتی ہے؟
جی ہاں، ذہنی دباؤ کے دوران دوبارہ ظاہر ہونے کا خطرہ رہتا ہے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist