خوابوں کی حیرت انگیز دنیا

179

دنیا میں بعض اوقات ایسے حالات اور واقعات پیش آتے ہیں جو فرضی کہانیوں اورافسانوں سے بھی زیادہ دلچسپ اور حیرت انگیز ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہوتے ہیںکہ ان پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے تاہم ان کی سند اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ انہیں جھٹلایابھی نہیں جا سکتا۔ایسی ہی ایک کہانی مشہور امریکی صدر ابراہام لنکن کے ایک خواب سے متعلق ہے۔ اس کا ذکرچونکہ امریکہ کی تاریخ میں بھی موجود ہے‘ اس لئے اس کے مصدقہ ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں۔

ابراہم لنکن نے جب 1860ءمیں ملک کی باگ ڈور سنبھالی تو امریکہ میں غلامی کا دور دورہ تھا۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً40لاکھ سیاہ فام باشندوں کو اُن کی مرضی کے خلاف افریقہ کے جنگلوں سے امریکہ لا کر جانوروں کی طرح بیچاگیا۔ان زرخرید غلاموں کے کوئی حقوق نہ تھے۔ ان سے جانوروں جیسا برتاﺅ کیا جاتااورمالکان ان سے ہر طرح کے پرمشقت کام کرواتے۔ اُس زمانے میں جنوبی امریکہ کی ریاستوں کازیادہ ترمعاشی انحصار کپاس کی فصل پر تھا اور فیکٹریوں وغیرہ نے ابھی زیادہ ترقی نہیں کی تھی۔ کپاس کے ان کھیتوں کی دیکھ بھال انہی غلاموں کی ذمہ داری تھی۔
مذکورہ امریکی صدر ایک خداترس انسان تھے جو اپنے ملک میں غلامی کے ادارے کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ ان کی یہ خواہش مقتدر اور متمول افراداور طبقات کے مفادات کے برعکس اور ان کے لئے ناقابل قبول تھی۔ چنانچہ امریکی صدر نے جب اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا تو جنوبی ریاستوں نے اس حکم کی تعمیل کرنے سے انکار کرتے ہوئے بغاوت کردی اور حکومت کے خلاف ہتھیار اُٹھالئے۔اس طرح امریکہ ایک طویل اور خون ریز خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔ ملک کی شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان یہ جنگ اگلے چارسال تک جاری رہی تھی جس میں تقریباً ساڑھے سات لاکھ فوجی جاں بحق ہوئے۔ ان کے علاوہ ہزاروں سویلین افراد جن میں بوڑھے‘ بچے اورخواتین شامل تھیں‘ بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے اپنی جانیں گنوا بیٹھے ۔ایسے لوگ بھی کثیر تعداد میں تھے جو اپنے زخموں کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے معذور ہو گئے۔ ابراہم لنکن کی صدارت کابیشتر حصہ اسی خانہ جنگی کی نذر ہوگیا۔ اپریل1865ءمیں باغی فوجوں کے سپہ سالار” رابرٹ لی“ نے ہتھیارڈال دئیے جس کے بعد اس طویل خانہ جنگی کا خاتمہ ہو گیا۔بالآخر لنکن کا خواب پورا ہوا اور غلامی کو امریکہ میں خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔

خانہ جنگی کے آخری چند ہفتوں میں سخت حالات کی وجہ سے امریکی صدر کا ذہنی تناﺅ بہت زیادہ بڑھ گیا۔ ان دنوں انہوں نے ایک خواب دیکھا جسے بعد میں انہوںنے اپنی اہلیہ” میری“ اور ایک قریبی دوست ”وارڈ ہل لیمان “ کے سامنے تفصیل سے بیان کیا۔ ابرااہم لنکن کی زبانی خواب کچھ یوں ہے :

”چونکہ مجھے جنگ کے محاذ سے اہم خبروں کا شدت سے انتظار ہوتا تھا‘ اس لئے میںاکثر رات کو دیر سے سوتا تھا۔اپریل کی ایک رات میں حسب معمول تاخیر سے بستر پر لیٹا تو تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی اُونگھ اور پھر نیندآگئی۔ نیند ہی کی حالت میں مجھے ایسے لگا جیسے وہائٹ ہاﺅس کے قریبی کمروں میں کوئی رورہا ہو۔ دورانِ خواب میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے بستر سے اُٹھا اور مختلف کمروں میں چکر لگانے لگاتاکہ اس رونے دھونے اور بین کرنے کی وجہ معلوم کر سکوں۔ اس دوران مجھے ایسے لگا جیسے ایک نہیں بلکہ بہت سے لوگ آہ و بکا اور گریہ زاری میںمصروف ہیں۔ میں ایک ایک کر کے تمام کمروں میں داخل ہوا اور ہر ایک میں وہی سماں تھا۔ ہر کمرے میں روشنی تھی‘ رونے کی آوازیں تھیں لیکن کوئی نظر نہیں آ رہاتھا۔ میں اسی پریشانی اور گھبراہٹ کے عالم میں بالآخر کار اس کمرے میں پہنچاجسے ہم ”ایسٹ روم“ یعنی مشرقی کمرہ کہتے ہیں۔وہاں داخل ہوتے ہی مجھے ایک نرالا منظر دکھائی دیا۔میں نے وہاں رونے والوں کے علاوہ کئی فوجی جوان بھی دیکھے۔ اسی اثناءمیں کیا دیکھتا ہوں کہ کمرے کے عین وسط میں سٹیج پر ایک انسانی نعش پڑی ہے جس کا چہرہ کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ میں نے وہاں کھڑے ایک فوجی جوان سے پوچھا کہ یہ سارا معاملہ کیا ہے؟اس نے بتایا کہ کسی ظالم نے امریکہ صدر کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔ کمرے میں رکھی نعش انہی کی ہے اور شہری یہاں ان کا سوگ منانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد میں خواب سے جاگ اُٹھا۔“

تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ لنکن کو جب یہی خواب دو یاتین بار آیا تو وہ متفکر ہوئے۔ اور کچھ نہ سوجھا توانہوں نے ”انجیل مقدس“ کھول لی۔ یہ محض اتفاق تھا یا کوئی غیبی اشارہ کہ کتاب مقدس کا جو صفحہ انہوں نے کھولا‘ وہ خوابوں کی پشین گوئیوں سے متعلق تھا۔ اس مماثلت کی وجہ سے انہیں ایک لمحے کے لئے گمان گزرا کہ اس میں ان کے لئے کوئی پیغام بھی ہو سکتا ہے۔ قرآن کریم میں حضرت یوسفؑ اور فرعون مصر کے خوابوں اور ان کی تعبیر ات کا ذکرموجود ہے اور یہی قصہ انجیل مقدس میں بھی مذکورہے۔

جب وہ اپنا خواب مخصوص حلقہ احباب میں سنارہے تھے تواسے دیکھے تقریباً10روز گزر چکے تھے۔ اس کے تقریباًدویاتین دن بعد ایک رات وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ فورڈ تھیٹر میں ایک ڈرامہ دیکھنے چلے گئے۔ ان کے ساتھ ایک باڈی گارڈ تھا جو وقفے کے دوران اپنی جگہ چھوڑ کر ساتھ والے شراب خانے میں پینے پلانے چلاگیا۔اُس وقت تھیٹر میں جو ڈرامہ چل رہا تھا‘ اسی میں اداکاری کرنے والا ایک اہم اداکار ولکس بوتھ( Wilkes Booth) اس خاص کمرے میں بلا روک ٹوک داخل ہوا جہاں صدرامریکہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیٹھے ڈرامے سے محظوظ ہو رہے تھے۔ وہاں پہنچتے ہی اس نے پستول نکالا اور صدرمملکت کوگولی مار دی ۔ گولی ابراہم لنکن کو دائیں کان کے پیچھے سر میں لگی۔ وہ فوراً بے ہوش ہوگئے اور اگلے 10 گھنٹوں میں صبح 7بج کر22منٹ پر اُن کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح انہیں جس خوفناک انجام کی پشین گوئی خواب میں کی گئی تھی‘ وہ ہوبہو سچ ثابت ہوئی۔ایسے واقعات اور اس معمے کی سائنسی تعبیر پر پھر کبھی گفتگو ہو گی۔