”اللہ تینوں سَت حج کرائے“

259

انسان کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو‘ اسے ایسے مواقع مل جاتے ہیں جب وہ کسی ضرورت مند کی غیرمعمولی حاجت پوری کرنے کاذریعہ بن جائے۔ طب کا میدان اس اعتبار سے غیرمعمولی ہے۔ اس میدان میں سرگرم افراد کسی بھی شعبے سے متعلق ہوں اور کوئی بھی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہوں ‘ان کے پاس آنے والا ہر فرد ضرورت مند ہوتا ہے۔ یہ ضرورت مند محض طبی مشاورت اور علاج کی ہی خواہش نہیں رکھتا بلکہ بحیثیت انسان احترام ، محبت اور ہمدردی کا خواہش مند بھی ہوتا ہے۔ اس کی یہ خواہش پوری ہوتو اس کی جانب سے ادا کیے جانے والے تشکر کے الفاظ اور دعائیں اس کے دل سے نکلی ہوتی ہیں۔خالد رحمٰن کی ایک خوبصورت تحریر

تذکرہ ہوا کہ انہوں نے کئی بار حج کیا ہے تو تفصیل جاننے کا تجسس ہوا۔وہ بولے:” اپنی لاابالی طبیعت کی بنا پر میں نے حج یا عمرہ کے بارے میںازخود کبھی نہیں سوچا لیکن اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح اس کا انتظام ہوتا رہا۔ ایک دوبارتوایساہواکہ میری کسی کوشش کے بغیر ہی رقم کا انتظام بھی ہوگیا، لیکن بدقسمتی سے میں نے اس رقم کو ادھر اُدھر کے اخراجات میں اڑادیا۔ اب آٹھویں بار حج کاموقع مل رہا ہے ۔ جب پلٹ کر دیکھتا ہوں تو یوں لگتا ہے کہ مجھے یہ سعادت ایک معمولی سی پیشہ وارانہ ذمہ داری کی ادائیگی کے عوض مل رہی ہے۔ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا:
” وہ موسم سرما کی ایک لمبی اور انتہائی ٹھنڈی رات تھی۔ میری ڈیوٹی ایمرجنسی وارڈ میں تھی جہاں ایک دیہاتی نوجوان کولایاگیا۔اس پر چاقوﺅں سے حملہ کیاگیا تھا جس کی وجہ سے وہ کافی زخمی تھا۔ اس کے زیادہ تر زخم دل کے قریب تھے جن سے مسلسل خون بہہ رہاتھا۔سرجن کو فوری طور پر بلایاگیا اوررات ایک بجے تک ہم نے مل کر اس کی سرجری کی۔ فراغت کے بعد ہسپتال سے باہر نکلتے ہوئے ایک بوڑھی اور پریشان حال خاتون سے سامنا ہوا۔

”ڈاکٹر صاحب !میرا بچہ بچ جائے گا؟“ اپنی مقامی زبان اور دیہاتی لب ولہجہ میں اس نے سوال کیا!
”ہاں اماں! اس کا آپریشن کامیاب ہوگیا ہے۔“ اسے مختصر ساجواب دیتے ہوئے میں ہسپتال سے ملحق اپنے گھر آکر سوگیا۔
اگلی صبح سویرے تیارہوکر ہسپتال کے لیے گھرسے نکلاتو رات والی خستہ حال بڑھیا پر نظر پڑی۔وہ میرے مکان کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اونگھ رہی تھی۔اندازہ ہوا کہ وہ ساری رات وہیں بیٹھی رہی تھی۔ طویل سرد رات میں وہ کانپتی رہی لیکن بیٹے کی محبت نے اسے واپس جانے نہ دیا تھا۔ میرے قدموں کی آہٹ سے وہ چونک اٹھی۔ اس نے ایک بار پھررات والا سوال دہرایا: ”ڈاکٹر صاحب ! میرا بچہ بچ جائے گا ناں!“آپریشن کامیاب ہونے کے بعد مجھے اس کے بیٹے کی صحت یابی کی امید تھی چنانچہ میں نے اسے پھر تسلی دی ۔اس کے ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ اگریہ خاتون رات بھر اسی طرح بیٹھی ٹھٹھرتی رہی ہے تو اس نے شاید کچھ کھایا پیا بھی نہ ہوگا۔
” اماں !تم نے ناشتہ کرنا ہے؟ “میرے دریافت کرنے پر اس نے اثبات میں سرہلایا ۔ناشتے کے لیے میں اسے اپنے گھر لے گیااور واپسی پر اسے ا س کے بیٹے سے بھی ملوادیا۔
”اماں !کوئی اور کام؟“ میں نے چلتے چلتے خاتون سے پوچھا۔ جواباً اس نے دعائیں دیں اور پھر کسی قدر جھجکتے ہوئے یہ افسوس ناک بات بتائی کہ رات کے وقت ہسپتال کے عملے کے کسی فرد نے اس کے پاس موجود رقم لوٹ لی تھی ۔خاتون نے بتایا کہ اس نے دھمکی دی کہ’ اگرتم نے رقم نہ دی تو میں تھانے میں پرچہ کٹوا دوں گا کہ تم نے اس لڑکے کو زخمی کیا ہے اور یوںتجھے جیل جانا پڑے گا ۔‘

ڈاکٹرصاحب کے بقول ’میرے غم وغصے کی انتہانہ تھی۔میں نے عملے کے اس رکن کو بلوا کر سختی سے بازپرس کی تو اس نے نہ صرف اپنا جرم قبول کرلیابلکہ بڑھیاسے لی گئی رقم بھی واپس کر دی ۔ بوڑھی خاتون کی آنکھیں آنسوﺅں سے بھر آئیں۔آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے اس نے جھولی پھیلائی اور مجھے دعاد ی کہ ڈاکٹر صاحب !اللہ تینوں ست حج کرائے ۔مجھے یقین ہے کہ یہ اس مظلوم خاتون کی دل سے نکلی دعا کی قبولیت ہے کہ اس کے بعد سے اب تک اللہ نے مجھے بار بار اپنے گھربلایا ہے۔‘
انسان کا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو‘ کام کے دوران اسے ایسے مواقع مل جاتے ہیں جب وہ کسی ضرورت مند کی حاجت پورا کرنے کاذریعہ بن جائے۔ طب کا میدان اس اعتبار سے غیرمعمولی ہے۔ اس میدان میں سرگرم افراد کسی بھی شعبے سے متعلق ہوں اور کوئی بھی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہوں ‘ان کے پاس آنے والا ہر فرد ضرورت مند ہوتا ہے۔ یہ ضرورت مند محض طبی مشاورت اور علاج کی ہی خواہش نہیں رکھتا بلکہ بحیثیت انسان احترام ، محبت اور ہمدردی کا خواہش مند بھی ہوتا ہے۔ اس کی یہ خواہش پوری ہوتو اس کی جانب سے ادا کیے جانے والے تشکر کے الفاظ اور دعائیں اس کے دل سے نکلی ہوتی ہیں ، اوراس میں کوئی شک نہیں کہ:
دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں‘ طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
(اقبال)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts