ماہواری شروع ہی نہ ہو یا ہو کر رک جائے

اکثر خواتین میں ماہواری (ماہانہ ایام) کا دورانیہ 28 سے 35 دن جبکہ کچھ میں 21 دن ہوتا ہے۔ بعض صورتوں مثلاً بریسٹ فیڈنگ یا حمل کے دوران یہ سلسلہ عارضی طور پر رک جاتا اور پھر جاری ہو جاتا ہے۔ اسی طرح سن یاس (مینو پاز) کے قریب بھی ایسا ہوسکتا ہے جو پریشانی کی بات نہیں۔

اگر 15 سال یا اس سے زائد عمر میں ماہواری شروع ہی نہ ہوا ہو یا معمول کے مطابق پیریڈز ہوں اور پھر مسلسل تین یا زائد ماہ تک رک جائیں تو اس کیفیت کو امینوریا (amenorrhea) کہا جاتا ہے۔  اس سے ملتی جلتی ایک کیفیت وہ ہے جس میں پیریڈز اپنے وقت پر نہیں ہوتے یا ان کا بہاؤ معمول سے کم یا زیادہ ہو تا ہے۔ یہ امینوریا نہیں ہے۔

امینوریا کی صورت میں ماہواری میں بے قاعدگی کے ساتھ ساتھ چھاتی سے دودھ کی طرح کا مادہ خارج ہوسکتا ہے۔ بال گرنا، سر درد، چہرے پر بہت زیادہ بال آجانا یا ایکنی ہوجانا اور پیڑو میں درد بھی اس کی علامات ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے

حمل ٹھہرنے، بریسٹ فیڈنگ اور سن یاس کے علاوہ اس کی مختلف وجوہات ہیں جو معمولی سے شدید نوعیت کی ہوسکتی ہیں۔ مثلاً مانع حمل ادویات یا آلات استعمال کرنا۔ نفسیاتی مسائل، الرجی، بلڈ پریشر اور کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کے سائیڈ افیکٹس بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔ دیگر وجوہات یہ ہیں:

٭ایسے مسائل کا شکار ہونا جن کے باعث ہارمونز کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ مثلاً تھائی رائیڈ کی خرابی ، پی سی او ایس اور پچوٹری گلینڈ میں رسولی۔

٭تولیدی اعضاء کی ساخت میں خرابی۔

٭طرز زندگی سے جڑے عوامل۔

٭وزن غیر معمولی طور پر کم یا زیادہ ہونا۔

٭ایسی سرگرمیوں یا کھیلوں میں حصہ لینا جن میں سخت ٹریننگ کی ضرورت ہو یا زیادہ توانائی استعمال ہو۔

٭ذہنی تناؤکا شکار ہونا۔

تشخیص کیسے ہوتی ہے

اس کے لئے خواتین کے پیڑو کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اگر ماہواری شروع ہی نہ ہوئی ہو تو چھاتی اور تولیدی اعضاء میں بلوغت کے اثرات کو جانچنے کے لئے معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سب سے پہلے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ایسا حمل ٹھہرنے کی وجہ سے تو نہیں۔

٭تھائی رائیڈ اور بیضہ دانیوں کی کارکردگی دیکھنے کے لئے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

٭پرولیکٹن (اس کی کمی پچوٹری گلینڈ میں رسولی کی طرف اشارہ ہوسکتی ہے) یا مردانہ ہارمون کی مقدار معلوم کرنے کے لئے ٹیسٹ کیے جاسکتے ہیں۔

٭بعض صورتوں میں ہارمونز کی حامل دوائیں دی جاتی ہیں جنہیں 7سے 10 دن کھانا ہوتا ہے۔ اس کے بعد پیریڈز ہو جائیں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان میں رکاوٹ کا سبب ایسٹروجن ہارمون کی کمی تھی۔

٭تصویری ٹیسٹوں مثلاً الٹرا ساؤنڈ کی مددسے تولیدی اعضاء کی ساخت کو دیکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایم آر آئی کے ذریعے پچوٹری گلینڈ میں رسولی کی موجودگی یا غیر موجودگی کے بارے میں بھی علم ہوجاتا ہے۔

٭اوپر ذکر کردہ ٹیسٹو ں سے وجہ معلوم نہ ہوتو رحم میں پتلی لچکدار ٹیوب کے ذریعے کیمرہ داخل کرکے اس کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

امینوریا کا حل کیا ہے

بعض صورتوں میں ہارمون تھیراپی سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔ اگر اس کا سبب تھائی رائیڈیا پچوٹری گلینڈ ہوں تو ان کے مسائل کو بھی دواؤں سے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ اگر تولیدی اعضاء کی ساخت صحیح نہ ہو یا رسولی ہو تو سرجری کی جاسکتی ہے تاہم بہت کم صورتوں میں اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔

علاج نہ کروانے سے بانجھ پن یا حمل ٹھہرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ذہنی تناؤ، وقت سے پہلے ہڈیاں بھر بھری ہوجانے اور امراض قلب کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

امینوریا کے لئے مفید ٹِپس

ہماری خوراک اور روزمرہ کا معمول دیگر مسائل کی طرح اس سلسلے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہٰذا اس سے نپٹنے کے لئے مناسب مقدار میں پانی پیئیں،کوئی بھی کھانا بالخصوص ناشتہ نہ چھوڑیں اور اگر ڈائٹنگ کرتی ہیں تو ماہواری شروع ہونے سے تقریباً ایک ہفتہ قبل اسے چھوڑ دیں۔

رات کو دیر سے مت سوئیں، ماہواری کی تاریخوں کو اپنے پاس نوٹ کرتی رہیں، ذہنی تناؤ سے بچیں یا اس کے اثرات کو کم کرنے والی سرگرمیاں کریں۔ وزن بہت کم یا بہت زیادہ ہے تو اسے نارمل حد میں لائیں اور ہر ہفتے دو سے پانچ گھٹنے کی درمیانی شدت کی ورزش کریں۔ اگرسخت ورزشیں کرنی ہوں تو ان کا وقت کم کردیں۔

amenorrhea, absence of menstruation, absence of periods, absent periods , female health, reproductive health, menstruation, health, shifa news

Vinkmag ad

Read Previous

Get regular pre-season checkups

Read Next

Exercises for Bell’s Palsy | لقوہ کے لئے مؤثر ورزشیں

Leave a Reply

Most Popular