سی سیکشن کی اے بی سی

417

نارمل ڈیلیوری کے برعکس سیزیرین یاسی سیکشن (عرف عام میں بڑاآپریشن) میں بچہ دانی (یوٹرس) کے اوپر پیٹ پر کٹ لگا کر بچے کو پیدا کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس میں متوقع ماں کو دردزہ (labor pain) کی تکلیف نہیں اٹھانا پڑتی، تاہم بعض اوقات یہ زچہ اور اس کے خاندان کے لئے ذہنی تناو کا باعث بھی بن جاتا ہے۔

بڑا آپریشن بعض اوقات ماں کی طبی کیفیات کے سبب بھی ہوتاہے لیکن زیادہ تراس کی وجہ بچے سے متعلق پیچیدگیاں ہی ہوتی ہیں۔ ماں کی وجوہات میں اس کے بلڈپریشریا شوگرلیول کا اچانک بلند ہو جانا نمایاں ہیں۔ اس کی ایک اور وجہ درد زہ میں بےی قاعدگی ہے۔ اگر اسے درد تو ہو رہا ہو لیکن یہ بہت زیادہ وقت لے رہا ہو یا درد کے باوجود یوٹرس کا منہ نہ کھل رہا ہو توآپریشن کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ماں کی طرف سے بچہ سست رفتاری سے باہر کی جانب دکھیلا جا رہاہوتا ہے لہٰذا سی سیکشن ضروری ہو جاتا ہے۔ کچھ صورتوں میں گولیاں رکھنے کے باوجود درد زہ کے مرحلے کا آغاز نہیں ہوپاتایا پانی کی تھیلیاں وقت سے پہلے پھٹ جاتی ہیں۔ ایسے میں اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں بچہ دانی میں انفیکشن نہ ہو جائے۔
بچے کی طرف سے سی سیکشن کا سبب بننے والی وجوہات میں اس کا سر نیچے نہ آنا، اس کی دھڑکن کا اچاانک تیز ہو جانا (اس مرحلے پر زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا ورنہ بچے کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے)، بچے کا ماں کے پیٹ میں رفع حاجت کر دینا، اس کے گرد موجود پانی میں کمی آ جانا یا اس کا ضرورت سے زیادہ کمزور ہونا شامل ہیں۔

آپریشن کی شرح میں اضافہ کیوں
خواتین کی بڑی تعداد پہلے گھروں پر ڈےلےوری کروا تی تھی لیکن اب وہ ہسپتالوں کا رخ کرتی ہے۔ گھروں میںزچگی کی پیچیدگیوں کی وجہ سے بہت سے بچے فوت ہوجاتے تھے۔ چونکہ ایسی خواتین اب ہسپتالوں میں زیادہ آتی ہیں لہٰذا سی سیکشن کی شرح میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے لوگوںکے پاس وسائل زےادہ نہےں تھے لیکن اب صورت حال ذرا بہتر ہوئی ہے۔ اس لئے لوگ سرکاری ہسپتالوں میں ہی نہیں، اپنی مالی حےثےت کے مطابق پرائےوےٹ ہسپتالوں مےں بھی چلے جاتے ہےں۔ ایسے میں ڈاکٹروں پرکام کا دباﺅ بھی بڑھ گےا ہے۔
ڈےلےوری کا عمل (جو کم و بیش 10 گھنٹوں پر محےط ہو سکتا ہے) شروع ہونے کے بعد ڈاکٹروں کو بچے کی پیدائش کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔ ان کے پاس چونکہ وقت کم ہوتا ہے لہٰذا بعض صورتوں میں وہ سی سیکشن کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک اور وجہ یہ ہے کہ اگر زچگی میں پیچیدگی کا امکان ہو اور اور ڈاکٹر نارمل ڈیلوری کا خطرہ مول لے تو بعد میں کسی متوقع گڑبڑ کی صورت میں سارا ملبہ معالج پر ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس لئے بھی وہ نارمل ڈیلوری کا خطرہ مول لینے سے گریز کرتے ہیں۔

سی سیکشن، خوف کیوں
نارمل ڈلیوری یا سی سیکشن کے حوالے سے لوگوں کی ترجیحات کا موازنہ کیا جائے تو بالعموم نارمل ڈلیوری کا پلڑا ہی بھاری ہوتاہے ،تاہم مریضوں کی قابل ذکر تعداد ضرورت نہ ہونے کے باوجود سی سیکشن کے لئے اصرار کرتی نظرآتی ہے۔ ڈاکٹروں کے سمجھانے پر خواتین پہلے تو مان جاتی ہےں لیکن جب درد زہ شروع ہوجائے تو آپریشن کے لئے منتیں کرنا شروع کر دیتی ہیں۔
کچھ خواتین ایسی بھی ہوتی ہیں جو آپریشن سے ڈرتی ہیں اور ہر صورت نارمل ڈیلوری چاہتی ہیں۔ تجربے اور مشاہدے کی بات یہ ہے کہ اکثر صورتوں میں متوقع ماں آپریشن پر تیار ہوتی ہے لیکن اہل خانہ اس کے لئے نہےں مان رہے ہوتے۔ اس کی ایک وجہ آپریشن فوبیا ہے جس کا سبب یہ ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے اس کے بارے میں منفی باتیں ہی سن رکھی ہوتی ہیں۔ ان کے آپریشن کے لئے تیار نہ ہونے کی ایک اور وجہ خواتین کا یہ تصور ہے کہ تین سےزےرےن کے بعد چوتھا بچہ نہےں ہوسکتا۔ بدترین صورت حال تب پیش آتی ہے جب حالات تشویش ناک رخ اختیار کر جائیں اور واحد راستہ ہی سیزیرین ہو اور وہ یا اس کے اہل خانہ اس پر تیار نہ ہو رہے ہوں ۔تاہم اب زےادہ تر مرےض تعاون کرتے ہےں اور ایسا نہ کرنے والوں کی تعدادکم ہوتی جا رہی ہے۔
دونوں پہلووں پر نظر ڈالنے کے بعد یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ نارمل ڈلیوری یا سی سیکشن میں سے بہترکیا ہے؟ اس سلسلے میں طبی مشورہ یہی ہے کہ عام حالات میں نارمل ڈلیوری ہی بہتر ہے لےکن آپرےشن ناگزےر ہو توپھر اس سے گریز نہیں کرناچاہئے۔

آپریشن کے بعد کی دیکھ بھال
سےزےرےن اےک بڑا آپرےشن ہے جس مےں پورا پےٹ چاک کیا جاتاہے اس لئے اس کے بعد دیکھ بھال کی زےادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں چند امور خاص طور پر قابل ذکر ہیں:

صفائی کے معاملات:
صفائی اور جراثیم سے پاک ہونادو الگ باتیں ہیں لہٰذا آپریشن کے بعد دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ زخم میںپڑنے والی پےپ کا سبب دونوں کا خیال نہ رکھنا ہو سکتا ہے۔ اگرپےپ آپرےشن کے دوسرے یا تےسرے روز پڑجائے تو اس کا مطلب ہے کہ ایساہسپتال کی وجہ سے ہے۔ اگرایسا آپرےشن کے کافی دنوں بعد ہوا ہو تویہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خاتون نے صفائی کا خیال نہیں رکھا۔
کچھ عورتیں ڈلیوری کے بعد 40 دن تک نہیں نہاتیں جو بہت غلط رویہ ہے۔ انہیں چاہئے کہ زچگی کے بعد جب پٹی ہٹ جائے تو تےسرے روز نہا لیں۔غسل کے بعد آپرےشن والی جگہ خشک کر کے اس پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ کرےم ےا پاو¿ڈر لازماً لگائےں۔ خواتین کو چاہئے کہ اپنے زخم کو سپرٹ سے صاف کرےں اور اسے خشک رکھیں۔اس کے علاوہ اٹھنے بیٹھے میں احتیاط کریں۔

اگلی ڈلیوری
سیزیرین کے بعد اگلے حمل کا انحصار مرےضہ کی صحت پر ہے اور جس ڈاکٹر نے آخری آپرےشن کےا ہوتا ہے وہی بہتر بتا سکتا ہے کہ اگلا آپرےشن کتنا محفو ظ ہے۔ اگر کسی کے نو آپرےشن ٹھیک طرح سے ہو چکے ہوں تو وہ 10وں بھی کروا سکتی ہے، لےکن بہتر ےہ ہے کہ تےن سے زےادہ آپرےشن نہ ہوں۔ سیزیرین کے بعد بچے کی پیدائش میں وقفہ اوسطاً دو سال کا ہونا چاہئے تاکہ عورت کی جسمانی حالت نارمل سطح پر آ سکے۔ اگر زےادہ سےزےرےن ہو چکے ہوں تو زےادہ وقفہ دےنا بہتر ہے۔

چیک اَپ
آپریشن کے بعد کچھ معمول کے معائنے ہوتے ہےں۔ مثلاً آپرےشن کے اےک ہفتہ بعد مریض کو ہسپتال بلایا جاتا ہے جبکہ کچھ کو آپرےشن کے پانچ دن بعد بھی بلا یا جاسکتا ہے۔ پہلا چےک اَپ بہت اہم ہے جسے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے بعد اگر ضرورت ہو ، زخم مےں خرابی ےا کوئی اور شکاےت ہو تو باقی کے چیک اپ کے درمیان کم وقفہ رکھا جاسکتا ہے۔

چلنا پھرنا
سیزیرین کے بعد بظاہر مریض دوسرے یا تیسرے دن چلنے پھرنے کے قابل ہو جاتا ہے لیکن زخم کو بھرنے اور جسم کے اندرونی اعضاء کو صحت مند ہونے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں۔ اس کے باوجود سیزیرین کے بعد چلنا پھرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگرایسا نہ کیا جائے تو ٹانگوں اور پاوں میں خون جم سکتا ہے جس کا اثر دماغ ، دل اور پھیپھڑوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ تصور انتہائی غلط ہے کہ 40 دن تک عورت بستر پرمکمل آرام کرے۔ اس لئے زیادہ سے زیادہ چلیں پھریں تاہم تھکا دینے والے کام سے گریز کریں۔

غذائی احتیاطیں
ڈیلیوری کے بعد کھانے پینے کے حوالے سے کچھ غلط تصورات عام ہیں۔ زیادہ حلوﺅں اور پنجیریوں سے پرہیز کیا جائے اور متوازن غذا کھائی جائے۔ اس کے علاوہ بچے کو دودھ بھی پلایا جا سکتا ہے۔
مختصراً یہ کہ عام حالات میں نارمل ڈیلوری کو ترجیح دی جائے تاہم آپریشن کی ضرورت ہو تو پھر اس سے انکار یا گریز نہ کیا جائے۔ آپریشن کے بعد صفائی کا خیال رکھا جائے، متوازن غذا کھائی جائے اور چلا پھرا جائے تاہم جسمانی طور پر تھکا دینے والے کاموں سے پرہیز کیا جائے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts