Vinkmag ad

ہیضہ: آنتوں کا بیکٹیریل انفیکشن

Minor girl admitted to a hospital bed receiving medical care for cholera

ہیضہ (Cholera) بیکٹیریا سے ہونے والی ایک بیماری ہے۔ یہ زیادہ تر غیر محفوظ پانی پینے سے پھیلتی ہے، تاہم آلودہ خوراک بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ شدید اسہال اور جسم میں پانی کی خطرناک کمی پیدا کرتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے پر ہیضہ چند گھنٹوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

علامات

ہیضے کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:

٭ اسہال

٭ متلی اور قے

٭ جسم میں پانی کی کمی

٭ پٹھوں میں کھچاؤ

٭ شاک، یعنی بلڈ پریشر گر جاتا اور جسم کو آکسیجن کم ملنا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

٭اگر آپ ہیضہ پھیلنے والے علاقے سے واپسی کے بعد شدید اسہال میں مبتلا ہو جائیں

٭ اگر آپ کو شدید اسہال ہو اور شبہ ہو کہ آپ ہیضے کے جراثیم کے رابطے میں آئے ہیں

وجوہات

ہیضے کے بیکٹیریا درج ذیل ذرائع میں موجود ہو سکتے ہیں:

٭ سطحی یا کنویں کا پانی

٭ سمندری غذا، خاص طور پر کچی یا اچھی طرح نہ پکی شیل فِش

٭ کچے پھل اور سبزیاں

٭ جن علاقوں میں ہیضہ عام ہو، وہاں نم اناج، جیسے چاول اور باجرہ بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل ہیضے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ ناقص صفائی کے حالات

٭ معدے میں تیزاب کی کم یا نہ ہونے کے برابر مقدار

٭ کسی متاثرہ شخص کے ساتھ رہنا

٭ او بلڈ گروپ ہونا، تاہم اس کی وجہ ابھی واضح نہیں

٭ کچی یا اچھی طرح نہ پکی شیل فِش کھانا

پیچیدگیاں

٭ شاک اور جسم میں پانی کی شدید کمی اس کی سب سے سنگین پیچیدگیاں ہیں۔ اس کے علاوہ درج ذیل مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں:

٭ خون میں شوگر کی کم سطح

٭ خون میں پوٹاشیم کی کم سطح

٭ گردوں کا فیل ہونا

بچاؤ کی تدابیر

درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہیضے کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے:

٭ اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے بار بار دھوئیں

٭ صرف محفوظ پانی استعمال کریں

٭ مکمل طور پر پکا ہوا اور گرم کھانا کھائیں

٭ اچھی طرح نہ پکی سی فوڈ سے پرہیز کریں

٭ ایسے پھل اور سبزیاں کھائیں جنہیں آپ خود چھیل سکیں

ہیضے کی ویکسین

یہ ویکسین 2 سے 64 سال عمر کے ان افراد کے لیے تجویز کی جاتی ہے۔ ایسے علاقوں کا سفر کرنے والوں کو اس کا مشورہ دیا جاتا ہے جہاں ہیضہ پھیل رہا ہو یا مستقل طور پر موجود ہو۔ یہ مائع ویکسین ہے، جو منہ کے ذریعے لی جاتی ہے۔ اسے سفر سے کم از کم 10 دن پہلے استعمال کرنا چاہیے۔

تشخیص

جن علاقوں میں ہیضہ عام ہو، وہاں شدید علامات سے بیماری کا شبہ ہو سکتا ہے، لیکن حتمی تشخیص صرف پاخانے کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے۔

علاج

ہیضے کے علاج میں درج ذیل طریقے شامل ہیں:

٭ جسم میں پانی اور ضروری نمکیات کی کمی پوری کرنا

٭ نس کے ذریعے سیال دینا

٭ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال، تاہم ہر مریض کو ان کی ضرورت نہیں ہوتی

٭ زنک بچوں میں اسہال کی شدت اور اس کا دورانیہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے

اور آر ایس

٭ زیادہ تر جگہوں پر او آر ایس کے پاؤڈر والے پیکٹ آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ اگر یہ دستیاب نہ ہو تو آپ گھر پر بھی محلول تیار کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے درج ذیل اجزا استعمال کریں:

٭ تقریباً ایک لیٹر بوتل بند یا اُبالا ہوا پانی

٭ چھ ہموار چائے کے چمچ (تقریباً 30 ملی لیٹر) عام چینی

٭ آدھا ہموار چائے کا چمچ (تقریباً 2.5 ملی لیٹر) عام نمک

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا ہیضہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں براہِ راست منتقل ہوتا ہے؟

ہیضہ عموماً آلودہ پانی یا خوراک کے ذریعے پھیلتا ہے۔ ایک شخص سے دوسرے شخص میں براہِ راست منتقل ہونے کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔

ہیضے میں سب سے بڑا خطرہ کیا ہوتا ہے؟

سب سے بڑا خطرہ جسم میں پانی اور ضروری نمکیات کی شدید کمی ہے، جو بروقت علاج نہ ہونے پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

کیا ہیضے کا علاج گھر پر کیا جا سکتا ہے؟

ہلکی علامات کی صورت میں او آر ایس اور مناسب مقدار میں پانی مفید ہو سکتے ہیں، لیکن شدید اسہال یا پانی کی شدید کمی کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist

Vinkmag ad

Read Previous

پروسٹیٹ کینسر کے لیے ہارمون تھراپی

Read Next

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی: اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی بیماری

Leave a Reply

Most Popular