ایڈرینالیکٹومی (Adrenalectomy) ایک سرجیکل پروسیجر ہے، جس میں ایک یا دونوں ایڈرینل غدود نکالے جاتے ہیں۔ یہ آپریشن عموماً رسولی، ہارمونز کی زیادتی یا کینسر کے علاج کے لیے کیا جاتا ہے۔
اگرچہ ایڈرینل غدود سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں، لیکن ان کے بنائے گئے ہارمونز جسم کے تقریباً ہر حصے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ہارمونز میٹابولزم، مدافعتی نظام، بلڈ پریشر، خون میں شوگر کی مقدار اور دیگر اہم جسمانی افعال کو منظم رکھتے ہیں۔
کیوں کی جاتی ہے
آپ کو ایڈرینالیکٹومی کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اگر ایک یا دونوں ایڈرینل غدود:
٭ رسولی پر مشتمل ہوں۔ زیادہ تر ایڈرینل رسولیاں غیر سرطانی ہوتی ہیں
٭ ضرورت سے زیادہ ہارمون بنا رہے ہوں
٭ سی ٹی سکین، ایم آر آئی یا دیگر امیجنگ ٹیسٹ میں مشکوک یا غیر واضح تبدیلیاں نظر آئیں
ممکنہ خطرات
دیگر بڑے آپریشنز کی طرح ایڈرینالیکٹومی میں بھی کچھ خطرات موجود ہوتے ہیں، جن میں خون بہنا، انفیکشن اور بے ہوشی کی دوا پر منفی ردعمل شامل ہیں۔ دیگر ممکنہ خطرات درج ذیل ہیں:
٭ ایڈرینل غدود کے قریب موجود اعضا کو نقصان پہنچنا
٭ خون کے کلاٹ
٭ نمونیا
٭ بلڈ پریشر میں اچانک تبدیلی آنا
٭ آپریشن کے بعد جسم میں ہارمونز کی کمی پیدا ہونا
بعض افراد میں وہ بیماری دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے یہ آپریشن کیا گیا تھا۔ کچھ صورتوں میں سرجری مسئلے کو مکمل طور پر ختم نہیں کر پاتی۔
تیاری
٭ آپریشن سے پہلے کچھ عرصے تک بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے جانچ کی جا سکتی ہے۔ اس دوران مخصوص غذا اختیار کرنے اور بعض ادویات استعمال کرنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے
٭ سرجری کی منصوبہ بندی کے لیے امیجنگ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔
٭ آپریشن سے قبل کچھ وقت تک کھانے پینے سے پرہیز کرنا پڑ سکتا ہے
٭ پہلے سے اہل خانہ یا کسی دوست کا انتظام کر لیں، جو آپریشن کے بعد آپ کو گھر واپس لے جا سکے۔
سرجری کی اقسام
٭ ایڈرینالیکٹومی کے دوران مریض مکمل بے ہوشی کی حالت میں ہوتا ہے
٭ سرجن مریض کی طبی کیفیت، رسولی کی نوعیت اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے سرجری کے لیے مناسب طریقہ اختیار کرتا ہے۔
کم مداخلت والی سرجری
کیا جاتا ہے۔ چونکہ ایڈرینل غدود سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں، اس لیے یہ طریقہ اکثر مریضوں کے لیے موزوں ہوتا ہے۔ اس میں زخم نسبتاً چھوٹے ہوتے ہیں، درد کم ہوتا ہے اور صحت یابی بھی اوپن سرجری کے مقابلے میں تیزی سے ہوتی ہے۔
کم مداخلت والی جراحی میں لیپروسکوپک سرجری، پوسٹیریئر ریٹروپیریٹونیو سکوپک سرجری (پی آر اے) اور روبوٹک سرجری شامل ہیں۔
لیپروسکوپک سرجری
اس طریقے میں سرجن لیپروسکوپ کو پیٹ کے ایک کٹ سے جسم کے اندر داخل کرتا ہے۔ یہ اندرونی اعضا کی واضح تصویر فراہم کرتا ہے اور آپریشن کے دوران رہنمائی کرتا ہے۔ دیگر کٹس کے ذریعے خصوصی سرجیکل آلات داخل کیے جاتے ہیں، جن کی مدد سے ایڈرینل غدہ نکالا جاتا ہے۔
پوسٹیریئر ریٹروپیریٹونیو اسکوپک سرجری (پی آر اے)
اس طریقے میں بھی چھوٹا کیمرہ اور سرجیکل آلات استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن تمام کٹس کمر پر لگائے جاتے ہیں۔ انہی کے ذریعے ایڈرینل غدود نکال دیا جاتا ہے۔
روبوٹک سرجری
روبوٹ کی مدد سے بھی لیپروسکوپک ایڈرینالیکٹومی کی جا سکتی ہے۔ یہ طریقہ عام لیپروسکوپک سرجری سے ملتا جلتا ہے، لیکن بعض اوقات اس میں صرف ایک یا دو کٹ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اوپن سرجری
اوپن ایڈرینالیکٹومی میں پیٹ کے اگلے حصے پر ایک بڑا کٹ لگا کر ایڈرینل غدود نکالا جاتا ہے۔ یہ طریقہ عموماً بڑی رسولیوں یا ان رسولیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اردگرد کے ٹشوز تک پھیل چکی ہوں۔ اگر پہلے کیے گئے آپریشنز کی وجہ سے داغ دار ٹشو موجود ہوں یا موٹاپا سرجری میں رکاوٹ بن سکتا ہو، تو بھی اوپن سرجری کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
آپریشن کے بعد
آپریشن کے بعد ہسپتال میں قیام کا دورانیہ سرجری کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔
کم مداخلت والی سرجری کے بعد زیادہ تر مریض اسی دن گھر چلے جاتے ہیں یا ایک رات ہسپتال میں گزارتے ہیں۔ اگر اوپن سرجری کی گئی ہو، تو عموماً تین سے پانچ دن ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔
نتائج
٭ آپریشن کے دوران نکالا گیا ایڈرینل غدود مزید جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجا جاتا ہے
٭ زیادہ تر مریضوں میں صرف ایک ایڈرینل غدود نکالا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں دوسرا غدود دونوں کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا ہے
٭ اگر ایک غدود ضرورت سے زیادہ ہارمون بنانے کی وجہ سے نکالا گیا ہو، تو دوسرے غدود کے مکمل طور پر فعال ہونے تک ہارمون کی متبادل دوا لینا پڑ سکتی ہے
٭ اگر دونوں ایڈرینل غدود نکال دیے جائیں تو جسم میں ہارمونز کی کمی پوری کرنے کے لیے عمر بھر متبادل ادویات استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ایڈرینالیکٹومی کے بعد معمول کی زندگی گزاری جا سکتی ہے؟
جی ہاں، زیادہ تر افراد مکمل صحت یابی کے بعد معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اگر دونوں ایڈرینل غدود نکال دیے جائیں تو عمر بھر ہارمون کی متبادل دوا استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ایڈرینالیکٹومی کے بعد صحت یابی میں کتنا وقت لگتا ہے؟
کم مداخلت والی سرجری کے بعد صحت یابی نسبتاً جلد ہوتی ہے، جبکہ اوپن ی سرجری کے بعد مکمل بحالی میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
کیا ایڈرینالیکٹومی کے بعد باقاعدہ معائنہ ضروری ہوتا ہے؟
جی ہاں، آپریشن کے بعد معالج کی ہدایت کے مطابق فالو اپ، خون کے ٹیسٹ اور ضرورت پڑنے پر امیجنگ ٹیسٹ کرانا ضروری ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=general-surgeon