نوزائیدہ بچوں میں یرقان (Infant jaundice) ایک عام کیفیت ہے جس میں بچے کی جلد اور آنکھوں کی سفیدی پیلی نظر آنے لگتی ہے۔ یہ خون میں بلیروبن نامی زرد مادے کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ زیادہ تر بچوں میں یہ مسئلہ عارضی ہوتا ہے اور خود ہی بہتر ہو جاتا ہے لیکن بعض صورتوں میں بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہوتا ہے تاکہ ممکنہ پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
علامات
نوزائیدہ یرقان کی بنیادی علامت جلد اور آنکھوں کی سفیدی کا پیلا ہونا ہے، جو عموماً پیدائش کے چند دن بعد ظاہر ہوتی ہے۔ قدرتی روشنی میں یہ پیلاہٹ زیادہ واضح نظر آ سکتی ہے۔ بچے کی پیشانی یا ناک پر ہلکا سا دباؤ دینے کے بعد اگر جلد پیلی نظر آئے تو یہ یرقان کی علامت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
ہسپتال میں نوزائیدہ بچے کو یرقان کے لیے باقاعدگی سے چیک کیا جاتا ہے۔ ضرورت کے مطابق پیدائش کے بعد پہلے 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بلی روبن کی سطح بھی جانچی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان صورتوں میں ڈاکٹر کو دکھائیں:
٭ بچے کی جلد کا پیلا رنگ بڑھنے لگے
٭ پیٹ، بازو یا ٹانگیں بھی پیلی نظر آئیں
٭ آنکھوں کی سفیدی پیلی ہو جائے
٭ بچہ بہت زیادہ سست ہو یا جگانے میں مشکل ہو
٭ بچہ دودھ صحیح طرح نہ پی رہا ہو یا وزن نہ بڑھ رہا ہو
٭ بچہ بہت تیز آواز میں رونے لگے
٭ کوئی اور تشویشناک علامت ظاہر ہو
وجوہات
نوزائیدہ بچوں میں یرقان کی بنیادی وجہ خون میں بلیروبن کی مقدار بڑھ جانا ہے۔ اس کی وجوہات میں یہ ہو سکتی ہیں:
٭ پیدائش کے بعد خون کے سرخ خلیوں کا تیزی سے ٹوٹنا
٭ جگر کا مکمل طور پر نشوونما نہ پانا، جس سے بلیروبن بروقت خارج نہیں ہو پاتا
٭ جسم کے اندر خون بہنا
٭ خون کا انفیکشن (سیپسس) یا دیگر بیکٹیریل اور وائرل انفیکشن
٭ ماں اور بچے کے خون کا آپس میں مطابقت نہ رکھنا
٭ جگر کا صحیح طرح کام نہ کرنا
٭ بائل ڈکٹس کا بند یا خراب ہونا
٭ بعض انزائمز کی کمی
خطرے کے عوامل
اگرچہ یرقان کسی بھی نوزائیدہ بچے میں ہو سکتا ہے، لیکن یہ عوامل اس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ 37 ہفتوں سے پہلے پیدائش ہونا
٭ پیدائش کے دوران زیادہ چوٹ یا نیل پڑنا
٭ ماں اور بچے کے خون کا مختلف گروپ ہونا
٭ دودھ پلانے میں دشواری یا بچے کو مناسب مقدار میں دودھ نہ ملنا
٭ خاندان میں بعض خون کی بیماریوں کی ہسٹری
٭ والدین یا بہن بھائی میں پہلے یرقان کا علاج ہو چکا ہو
٭ ڈاؤن سنڈروم
٭ ذیابیطس والی ماں کے معمول سے زیادہ وزن والے بچے
پیچیدگیاں
اگر شدید یرقان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دماغ پر بلیروبن کے اثر سے سستی، دودھ پینے میں مشکل، تیز آواز میں رونا، بخار وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مستقل دماغی نقصان کے باعث غیر ارادی جسمانی حرکات، سماعت سے محرومی اور دانتوں کی غیر معمولی نشوونما جیسی پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
تشخیص
نوزائیدہ یرقان کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر پہلے بچے کا معائنہ کرتا ہے۔ یرقان کی شدت جانچنے اور علاج کا فیصلہ کرنے کے لیے خون میں بلیروبن کی مقدار یا جلد پر مخصوص آلے سے بلیروبن کی جانچ کی جا سکتی ہے۔ اگر کسی دوسری بیماری کا شبہ ہو تو مزید ٹیسٹ بھی تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
علاج
نوزائیدہ بچوں میں یرقان کا علاج اس کی شدت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ علاج میں یہ اقدامات ہو سکتے ہیں:
٭ ہلکے یرقان میں صرف نگرانی عموماً 2 سے 3 ہفتوں میں خود ٹھیک ہو جانا
٭ فوٹو تھیراپی
٭ بچے کو زیادہ بار دودھ پلانا یا اضافی غذائیت دینا
٭ آئی وی آئی جی، اگر مسئلہ ماں اور بچے کے خون کی عدم مطابقت کی وجہ سے ہو
٭ شدید صورت میں ایکسچینج بلڈ ٹرانسفیوژن
بچاؤ کے تدابیر
نوزائیدہ بچوں میں یرقان سے بچاؤ کے لیے پیدائش کے بعد پہلے چند دن بچے کو مناسب مقدار میں دودھ پلانا بہت اہم ہے۔ دودھ پینے والے بچوں کو عموماً دن میں 8 سے 12 بار دودھ پلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
نوزائیدہ بچوں میں یرقان کیوں ہوتا ہے؟
زیادہ تر بچوں میں خون میں بلیروبن بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کیا ہر نوزائیدہ یرقان خطرناک ہوتا ہے؟
نہیں، زیادہ تر صورتوں میں یہ خود ٹھیک ہو جاتا ہے، لیکن شدید یرقان کا علاج ضروری ہوتا ہے۔
کیا فوٹو تھراپی محفوظ علاج ہے؟
جی ہاں، ضرورت پڑنے پر یہ ایک عام اور مؤثر علاج ہے۔
یرقان میں بچے کو دودھ پلانا چاہیے؟
جی ہاں، بچے کو بار بار دودھ پلانا بہت اہم ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=pediatrician