پارکنسنز کی بیماری (Parkinson’s disease) اعصابی نظام کی ایک خرابی ہے جو جسم کی حرکت کو متاثر کرتی ہے اور وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے باعث حرکت اور جسمانی توازن سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اس کا مکمل علاج موجود نہیں، لیکن ادویات اور بعض صورتوں میں دیگر علاج سے علامات کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
علامات
پارکنسنز کی بیماری عموماً جسم کے ایک طرف سے شروع ہوتی ہیں اور وقت کے ساتھ دونوں طرف اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس کی علامات یہ ہیں:
٭ ہاتھ، انگلیوں، پاؤں یا جبڑے کا کپکپانا
٭ جسم کی حرکت سست ہو جانا
٭ پٹھوں میں اکڑاؤ یا درد
٭ توازن برقرار رکھنے میں دشواری
٭ پلک جھپکنے، مسکرانے یا چلتے وقت بازو ہلانے جیسی خودکار حرکات میں کمی
٭ بولنے میں تبدیلی، جیسے دھیمی، تیز یا غیر واضح آواز
٭ لکھنے میں دشواری یا بہت چھوٹا لکھنا
٭ ڈپریشن، قبض، نیند کے مسائل، یادداشت اور شدید تھکاؤٹ وغیرہ
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر پارکنسنز کی علامات ظاہر ہوں تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں، تاکہ تشخیص ہو سکے اور دیگر ممکنہ وجوہات کو خارج کیا جا سکے۔
وجوہات
پارکنسنز کی بیماری کی درست وجہ معلوم نہیں، لیکن یہ عوامل اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں:
٭ دماغ کے اعصابی خلیوں کا آہستہ آہستہ خراب ہونا
٭ دماغ میں حرکت کو کنٹرول کرنے والے کیمیائی مادوں کی کمی
٭ جینیاتی تبدیلیاں
٭ بعض زہریلے یا ماحولیاتی عوامل سے واسطہ
٭ دماغ میں غیر معمولی پروٹین کا جمع ہونا
٭ خلیوں میں توانائی بنانے والے حصوں میں تبدیلیاں
خطرے کے عوامل
پارکنسنز کی بیماری عموماً 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مردوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ والدین، بہن یا بھائی میں اس بیماری کی موجودگی اور جڑی بوٹی مار یا کیڑے مار زہریلے مادوں کے مسلسل رابطے میں رہنا بھی اس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
پیچیدگیاں
یہ بیماری وقت کے ساتھ یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے:
٭ یادداشت، سوچنے یا سمجھنے میں دشواری
٭ ڈیمنشیا
٭ ڈپریشن، بے چینی یا چڑچڑاپن
٭ چبانے یا نگلنے میں دشواری
٭ نیند کے مسائل
٭ مثانے کے مسائل، جیسے بار بار یا فوری پیشاب کی حاجت
٭ قبض
٭ کھڑے ہونے پر بلڈ پریشر کم ہونا، جس سے چکر یا بے ہوشی آ سکتی ہے
٭ سونگھنے کی حس کم یا ختم ہونا
٭ شدید تھکاؤٹ یا کمزوری
٭ پٹھوں اور جوڑوں میں درد یا کھچاؤ
٭ جنسی خواہش یا کارکردگی میں کمی
تشخیص
اس کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات، میڈیکل ہسٹری، جسمانی اور اعصابی معائنہ کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر یہ ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:
٭ بلڈ ٹیسٹ
٭ ایم آر آئی، دماغ کا الٹراساؤنڈ یا پی ای ٹی اسکین
٭ ڈی اے ٹی (DAT) اسکین
٭ جینیاتی ٹیسٹ، اگر فیملی ہسٹری موجود ہو یا کم عمر میں بیماری شروع ہوئی ہو
٭ پارکنسنز کی ادویات دے کر ان کے اثرات کا جائزہ لینا
٭ وقتاً فوقتاً نیورولوجسٹ سے فالو اَپ معائنہ
٭ الفا سائنوکلین (Alpha-synuclein) ٹیسٹ
علاج
پارکنسنز کی بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں۔ تاہم علاج میں یہ اقدامات ہو سکتے ہیں:
٭ پارکنسنز کی ادویات، جیسے کاربیڈوپا-لیووڈوپا، پرامیپیکسول وغیرہ
٭ فزیوتھیراپی، اسپیچ تھیراپی اور باقاعدہ ورزش
٭ ڈیپ برین اسٹیمولیشن (DBS) سرجری، اگر ادویات مؤثر نہ رہیں
٭ ایم آر آئی گائیڈڈ فوکسڈ الٹراساؤنڈ (MRgFUS)، بعض مریضوں میں کپکپی کم کرنے کے لیے
بچاؤ کے تدابیر
یہ عادات خطرہ کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہیں:
٭ باقاعدگی سے ایروبک ورزش کریں
٭ اعتدال کے ساتھ کیفین والے مشروبات، جیسے کافی یا گرین ٹی استعمال کریں
٭ کوئی بھی دوا، جیسے آئبوپروفین یا سٹیٹن، صرف ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں
Frequently Asked Questions (FAQs)
پارکنسنز کی بیماری کیا ہے؟
یہ اعصابی نظام کی ایک بیماری ہے جو جسم کی حرکت کو متاثر کرتی ہے۔
پارکنسنز کی پہلی علامت کیا ہو سکتی ہے؟
اکثر ابتدا ایک ہاتھ، پاؤں یا جبڑے میں ہلکی کپکپی سے ہوتی ہے۔
کیا پارکنسنز کی بیماری مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے؟
نہیں، لیکن علاج سے علامات کو کافی حد تک قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ اگر آپ کو کپکپی، حرکت میں سستی، توازن کے مسائل یا پارکنسنز کی دیگر علامات محسوس ہوں تو مستند نیورولوجسٹ سے ضرور مشورہ کریں۔