ہارٹ اٹیک (Heart Attack) اس وقت ہوتا ہے جب دل تک خون کی روانی بہت کم ہو جائے یا مکمل طور پر رک جائے۔ خون کی فراہمی متاثر ہونے سے دل کے پٹھے کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایسی کیفیت میں فوری طبی امداد نہ ملنے پر جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اس لیے بروقت علاج بہت اہم ہوتا ہے۔
علامات
ہارٹ اٹیک کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:
٭ سینے میں درد، دباؤ، جکڑن یا بوجھ محسوس ہونا
٭ درد کندھے، بازو، کمر، گردن، جبڑے یا پیٹ کے اوپری حصے تک پھیلنا
٭ ٹھنڈا پسینہ آنا
٭ شدید تھکاوٹ محسوس ہونا
٭ سینے میں جلن یا بدہضمی محسوس ہونا
٭ چکر آنا یا بے ہوش ہو جانا
٭ متلی یا سانس پھولنا
بعض ہارٹ اٹیک اچانک ہوتے ہیں، لیکن بہت سے لوگوں میں گھنٹوں، دنوں یا ہفتوں پہلے انتباہی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں جیسے بار بار سینے میں درد یا دباؤ جو آرام کرنے سے بھی ختم نہ ہو۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو فوراً ایمرجنسی نمبروں پر رابطہ کر کے ہنگامی طبی امداد حاصل کریں۔ اگر ڈاکٹر نے نائٹروگلیسرین تجویز کی ہو تو ہدایت کے مطابق استعمال کریں جبکہ اسپرین صرف ڈاکٹر یا طبی عملے کی ہدایت پر لیں۔
وجوہات
ہارٹ اٹیک ان وجوہات کے باعث ہو سکتا ہے:
٭ دل کی ایک یا زیادہ شریانوں میں چکنائی جمع ہو کر خون کا بہاؤ بند ہو جانا
٭ شریان میں خون کا لوتھڑا بن جانا
٭ دل کی شریان کا اچانک سکڑ جانا
٭ بعض وائرل انفیکشن مثلاً کووڈ-19 سے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنا
٭ دل کی شریان میں اچانک اندرونی پھٹاؤ (SCAD) ہونا
خطرے کے عوامل
یہ عوامل ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ تمباکو نوشی
٭ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس یا میٹابولک سنڈروم ہونا
٭ کولیسٹرول، ٹرائی گلیسرائیڈز یا لیپوپروٹین (a) کی سطح زیادہ ہونا
٭ موٹاپا
٭ فیملی ہسٹری
٭ جسمانی سرگرمیوں کی کمی یا غیر صحت بخش غذا کھانا
٭ ذہنی دباؤ، منشیات کا استعمال یا حمل میں پری ایکلیمپسیا ہونا
٭ آٹو امیون بیماریاں
پیچیدگیاں
اگر ہارٹ اٹیک کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن (اریتھمیا)
٭ دل کا خون پمپ نہ کر پانا (کارڈیوجینک شاک)
٭ دل کی کمزوری (ہارٹ فیلئر)
٭ دل کے گرد جھلی میں سوزش ہونا
٭ اچانک دل بند ہونا یا اچانک موت واقع ہونا
بچاؤ کے تدابیر
ہارٹ اٹیک سے بچاؤ کے لیے یہ احتیاطیں کریں:
٭ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں
٭ متوازن غذا کھائیں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں
٭ ذہنی دباؤ پر قابو رکھیں
٭ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کو کنٹرول میں رکھیں
٭ ادویات ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں
٭ سی پی آر کی تربیت حاصل کریں
تشخیص
ہارٹ اٹیک کی تشخیص علامات، جسمانی معائنے اور میڈیکل ہسٹری کی بنا پر ہوتی ہے۔ اس کے علوہ یہ ٹیسٹ بھی کیے جاسکتے ہیں:
٭ الیکٹروکارڈیوگرام
٭ بلڈ ٹیسٹ
٭ ایکسرے
٭ ایکوکارڈیوگرام
٭ کورونری اینجیوگرام
٭ دل کا سی ٹی سکین یا ایم آر آئی
علاج
ہارٹ اٹیک کے علاج میں یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
٭ فوری طور پر خون کی روانی بحال کرنا اور آکسیجن دینا
٭ خون کا لوتھڑا ختم کرنے یا خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرنا
٭ ڈاکٹر کی تجویز کردہ دل کی ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنا
٭ ضرورت پڑنے پر اینجیو پلاسٹی اور سٹنٹ لگوانا
٭ شدید صورت میں بائی پاس سرجری
صحت یابی کے لیے کارڈیک ری ہیبلیٹیشن پروگرام میں حصہ لیا جاسکتا ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ہر سینے کا درد ہارٹ اٹیک ہوتا ہے؟
نہیں، لیکن شدید درد کی صورت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں۔
کیا خواتین میں ہارٹ اٹیک کی علامات مختلف ہو سکتی ہیں؟
جی ہاں، متلی، شدید تھکاؤٹ اور سانس پھولنا زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔
کیا ہارٹ اٹیک سے بچاؤ ممکن ہے؟
جی ہاں، صحت مند طرز زندگی اور خطرے کے عوامل پر قابو رکھ کر۔
نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ اگر آپ یا آپ کے کسی قریبی شخص میں ہارٹ اٹیک کی علامات ظاہر ہوں تو وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist