دل بڑا ہوجانا (Enlarged heart) بذات خود کوئی بیماری نہیں بلکہ کسی بنیادی طبی مسئلے کی علامت ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے کارڈیو میگالی کہا جاتا ہے۔ اس کیفیت میں دل معمول سے بڑا دکھائی دیتا ہے، جس کی نشاندہی عموماً سینے کے ایکسرے یا دیگر امیجنگ ٹیسٹ سے ہوتی ہے۔ تاہم، دل کے بڑھنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید طبی معائنے ضروری ہوتے ہیں۔
دل کے پٹھوں کو نقصان، مختلف قلبی بیماریاں یا حمل جیسی عارضی جسمانی حالتیں دل کے سائز میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے، جبکہ کچھ میں مستقل رہ سکتی ہے۔ علاج کا انحصار دل کے بڑھنے کی بنیادی وجہ پر ہوتا ہے۔
علامات
بعض افراد میں دل بڑا ہوجانے کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جبکہ دیگر میں درج ذیل علامات سامنے آ سکتی ہیں:
٭ سانس پھولنا، خاص طور پر سیدھا لیٹنے پر
٭ رات کے وقت سانس رکنے یا شدید کمی کے باعث اچانک جاگ جانا
٭ دل کی دھڑکن کا بے ترتیب ہونا
٭ پیٹ یا ٹانگوں میں سوجن
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ کو دل کی صحت سے متعلق کوئی تشویش ہو تو جلد ڈاکٹر سے رجوع کریں، کیونکہ بروقت تشخیص اور علاج سے پیچیدگیوں کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے. درج ذیل علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد حاصل کریں:
٭ سینے میں شدید درد
٭ درد کا بازو، گردن، جبڑے، کمر یا معدے تک پھیل جانا
٭ شدید سانس پھولنا
٭ بے ہوش ہو جانا
وجوہات
دل کا بڑھ جانا ان بیماریوں یا حالات کے نتیجے میں ہوتا ہے جو دل کو معمول سے زیادہ محنت کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بعض اوقات اس کی واضح وجہ معلوم نہیں ہو پاتی۔ اس کی اہم وجوہات میں شامل ہیں:
٭ دل کی پیدائشی خرابی
٭ دل کا دورہ پڑنے سے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنا
٭ دل کے پٹھوں کی بیماریاں
٭ دل کے گرد موجود جھلی میں پانی جمع ہونا
٭ دل کے والوز کی بیماریاں
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ پلمونری ہائپرٹینشن یعنی پھیپھڑوں تک خون لے جانے والی شریانوں میں خون کا دباؤ بڑھ جانا
٭ خون کی کمی
٭ تھائرائیڈ کی کمی یا زیادتی
٭ جسم میں آئرن کی غیر معمولی مقدار جمع ہونا
٭ دل میں غیر معمولی پروٹین جمع ہونا
٭ بعض کھلاڑیوں میں طویل عرصے تک سخت جسمانی ورزش
٭ دل کے گرد اضافی چربی جمع ہونا
٭ بعض صورتوں میں نامعلوم وجہ
خطرے کے عوامل
چند عوامل دل کے بڑھ جانے کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ فیملی میں دل کے پٹھوں کی بیماری کی ہسٹری
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ دل کی پیدائشی بیماریاں
٭ دل کے والوز کی خرابیاں
ممکنہ پیچیدگیاں
علاج نہ ہونے کی صورت میں درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ دل کی کمزوری
٭ خون کے کلاٹ بننا
٭ دل کے والوز کا رِسنا، جس سے خون واپس بہنے لگتا ہے
٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن
٭ اچانک دل بند ہو جانا
٭ اچانک موت
بچاؤ کی تدابیر
دل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔ اس کے لیے:
٭ بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھیں
٭ کولیسٹرول اور ذیابیطس کا مناسب علاج کروائیں
٭ ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے استعمال کریں
٭ متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا کھائیں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں
٭ سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں
٭ شراب نوشی سے اجتناب کریں یا اسے محدود رکھیں
٭ منشیات استعمال نہ کریں
اگر خاندان میں کسی فرد کو دل کے پٹھوں کی بیماری یا دل کے بڑھ جانے کا مسئلہ رہا ہو تو اپنے ڈاکٹر کو ضرور آگاہ کریں۔
تشخیص
ڈاکٹر پہلے جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور علامات و میڈیکل ہسٹری کے بارے میں معلومات لیتے ہیں۔ اس کے بعد ضرورت کے مطابق مختلف ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں:
٭ خون کے ٹیسٹ
٭ سینے کا ایکسرے
٭ ای سی جی
٭ ایکو کارڈیو گرافی
٭ ایکسرسائز سٹریس ٹیسٹ
٭ سی ٹی سکین
٭ ایم آر آئی
٭ کارڈیک کیتھیٹرائزیشن
٭ ضرورت پڑنے پر دل کے ٹشو کا نمونہ
علاج
دل کے بڑھ جانے کا علاج اس کا سبب بننے والی بیماری پر منحصر ہوتا ہے۔
ادویات
ڈاکٹر مریض کی حالت کے مطابق درج ذیل ادویات تجویز کر سکتے ہیں:
٭ پیشاب آور ادویات، تاکہ جسم سے اضافی پانی اور نمک خارج ہو سکے
٭ بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات
٭ خون پتلا کرنے والی ادویات
٭ دل کی بے ترتیب دھڑکن کو قابو کرنے والی ادویات
سرجری اور دیگر طریقۂ علاج
اگر ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں تو درج ذیل طبی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
٭ پیس میکر لگانا
٭ امپلانٹیبل کارڈیوورٹر ڈیفبریلیٹر (آئی سی ڈی) لگانا
٭ دل کے والو کی مرمت یا تبدیلی
٭ کورونری بائی پاس سرجری
٭ بائیں وینٹریکل کی مدد کرنے والا پمپ (ایل وی اے ڈی) لگانا
٭ دل کی پیوندکاری
گھریلو احتیاطیں
دل کی صحت بہتر رکھنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
٭ نمک کا استعمال کم کریں
٭ سیر شدہ اور ٹرانس چکنائی سے پرہیز کریں
٭ سبزیاں، پھل اور ثابت اناج زیادہ استعمال کریں
٭ شراب اور کیفین کا استعمال محدود کریں یا ترک کر دیں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں اور وزن متوازن رکھیں
٭ ذیابیطس، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا دل کا بڑھ جانا ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے؟
ضروری نہیں۔ بعض افراد میں یہ عارضی کیفیت ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر صورتوں میں اس کی بنیادی وجہ معلوم کرکے علاج کرنا ضروری ہوتا ہے۔
کیا دل کا سائز دوبارہ معمول پر آ سکتا ہے؟
اگر بنیادی بیماری کا بروقت اور مؤثر علاج ہو جائے تو بعض مریضوں میں دل کا سائز بہتر ہو سکتا ہے، تاہم یہ بیماری کی وجہ پر منحصر ہے۔
کیا دل کے بڑھ جانے کی صورت میں ورزش کی جا سکتی ہے؟
ہلکی اور مناسب ورزش بعض مریضوں کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے، لیکن ورزش کی نوعیت ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے طے کرنی چاہیے۔
کیا صرف ادویات سے علاج ممکن ہے؟
بہت سے مریض صرف ادویات سے بہتر ہو جاتے ہیں، تاہم بعض افراد کو پیس میکر، سرجری یا دل کی پیوندکاری کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist