ڈیمینشیا (Dementia) ایسی علامات کے مجموعے کا نام ہے جو یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور سماجی رویوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ علامات روزمرہ زندگی کے معمولات میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ڈیمینشیا خود کوئی ایک بیماری نہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیفیت ہے۔
علامات
ڈیمینشیا کی علامات اس کی بنیادی وجہ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔
ذہنی تبدیلیاں
٭ یادداشت کی کمزوری، جسے اکثر گھر کے افراد یا قریبی لوگ پہلے محسوس کرتے ہیں
٭ بات چیت کے دوران مناسب الفاظ تلاش کرنے یا اظہار میں دشواری
٭ دیکھنے، سمت پہچاننے اور فاصلے کا اندازہ لگانے میں مشکل، جیسے گاڑی چلاتے ہوئے راستہ بھول جانا
٭ سوچنے، فیصلہ کرنے اور مسئلہ حل کرنے میں دشواری
٭ پیچیدہ یا متعدد مراحل والے کام انجام دینے میں مشکل
٭ منصوبہ بندی اور روزمرہ معاملات کو منظم رکھنے میں دشواری
٭ جسمانی حرکات کے توازن اور کنٹرول میں کمی
٭ الجھن، وقت، مقام یا حالات کا درست اندازہ نہ رہنا
نفسیاتی تبدیلیاں
٭ شخصیت میں نمایاں تبدیلی
٭ افسردگی
٭ بے چینی
٭ بے قراری یا اشتعال
٭ حالات سے غیر مطابقت رکھنے والا رویہ
٭ دوسروں پر بلاوجہ شک کرنا
٭ ایسی چیزیں دیکھنا یا محسوس کرنا جو حقیقت میں موجود نہ ہوں
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر آپ یا آپ کے کسی عزیز کو یادداشت کی خرابی یا ڈیمینشیا سے ملتی جلتی دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بروقت تشخیص سے اصل وجہ معلوم کی جا سکتی ہے، جبکہ بعض طبی مسائل ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے علاج سے یہ علامات بہتر ہو سکتی ہیں۔
وجوہات
٭ ڈیمینشیا دماغ کے اعصابی خلیوں یا ان کے باہمی رابطوں کو نقصان پہنچنے سے پیدا ہوتا ہے
٭ کئی بیماریاں، جیسے تھائرائیڈ کی کم فعالیت، وٹامن بی 12 کی کمی، دماغی انفیکشن، ڈپریشن اور بعض اعصابی بیماریاں، ڈیمینشیا سے ملتی جلتی علامات پیدا کر سکتی ہیں
٭ بعض ادویات، جیسے نیند آور، الرجی اور مثانے پر کنٹرول کی بعض ادویات ڈیمینشیا جیسی علامات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح بعض وٹامنز اور ممنرلز کی کمی بھی دماغی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے
خطرے کے عوامل
کئی عوامل وقت کے ساتھ ڈیمینشیا کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ بعض عوامل تبدیل نہیں کیے جا سکتے، جبکہ بعض پر قابو پا کر خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔ وہ عوامل جنہیں تبدیل نہیں کیا جا سکتا یہ ہیں:
٭ عمر بڑھنا، خصوصاً 65 سال کے بعد
٭ فیملی ہسٹری
٭ ڈاؤن سنڈروم، جس میں درمیانی عمر کے بعد جلد شروع ہونے والی الزائمر بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
مندرجہ ذیل عوامل پر قابو پایا جا سکتا ہے:
٭ غیر صحت مند طرز زندگی، جیسے غیر متوازن غذا، ورزش کی کمی، ذہنی سرگرمیوں اور سماجی روابط سے دوری
٭ ضرورت سے زیادہ شراب نوشی
٭ دل اور خون کی شریانوں سے متعلق مسائل، جیسے موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی اور شریانوں میں چربی جمع ہونا
٭ سماعت یا بینائی کی خرابی کا علاج نہ کرانا
٭ افسردگی، خصوصاً درمیانی عمر میں
٭ فضائی آلودگی
٭ سر پر شدید چوٹ
٭ نیند کے مسائل
٭ بعض وٹامنز اور غذائی اجزا کی کمی
٭ ایسی دوائیں جو یادداشت کو متاثر کر سکتی ہیں، جیسے بعض نیند آور، الرجی یا مثانے کے علاج کی ادویات
پیچیدگیاں
ڈیمینشیا جسم کے کئی نظاموں اور روزمرہ زندگی کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ بیماری بڑھنے کے ساتھ درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
٭ غذائیت کی کمی، کیونکہ مریض کم کھانے لگتا ہے یا کھانا چھوڑ دیتا ہے۔ بعد میں چبانے اور نگلنے میں بھی دشواری ہو سکتی ہے
٭ نمونیا، کیونکہ نگلنے میں مشکل کے باعث خوراک یا پانی پھیپھڑوں میں جا سکتا ہے
٭ ذاتی دیکھ بھال میں دشواری، جیسے نہانا، کپڑے پہننا، دانت صاف کرنا یا دوائیں بروقت لینا
٭ روزمرہ زندگی میں حفاظتی خطرات، جیسے گاڑی چلانا، کھانا پکانا یا اکیلے رہنا
٭ بیماری کے آخری مرحلے میں انفیکشن کے باعث بے ہوشی اور موت
بچاؤ کی تدابیر
اگرچہ ڈیمینشیا سے مکمل بچاؤ کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، تاہم درج ذیل اقدامات خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں:
٭ ذہنی سرگرمیاں جاری رکھیں
٭ جسمانی اور سماجی طور پر متحرک رہیں
٭ سگریٹ نوشی ترک کریں
٭ ضروری وٹامنز مناسب مقدار میں حاصل کریں
٭ دل اور خون کی شریانوں کی صحت کا خیال رکھیں
٭ ذہنی صحت کو بہتر بنائیں
٭ متوازن اور صحت بخش غذا کھائیں
٭ معیاری اور پوری نیند لیں
٭ سماعت کی خرابی کا بروقت علاج کرائیں
٭ باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کرائیں اور بینائی کے مسائل کا علاج کروائیں
تشخیص
ڈیمینشیا کی تشخیص کے لیے کوئی ایک ٹیسٹ کافی نہیں ہوتا۔ درست تشخیص کے لیے مختلف معائنے اور ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔
ذہنی اور اعصابی نفسیاتی ٹیسٹ: ان ٹیسٹوں کے ذریعے یادداشت، توجہ، زبان، فیصلہ سازی، سمت کا احساس اور سوچنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اعصابی معائنہ: اس معائنے میں حرکت، توازن، حس، ریفلیکسز اور دیگر اعصابی افعال کی جانچ کی جاتی ہے۔
دماغ کے سکین: سی ٹی سکین یا ایم آر آئی کے ذریعے فالج، خون بہنے، رسولی یا دماغ میں پانی جمع ہونے کی جانچ کی جاتی ہے
پی ای ٹی سکین: یہ دماغی سرگرمی اور الزائمر سے متعلق مخصوص پروٹین کی موجودگی ظاہر کر سکتا ہے
لیبارٹری ٹیسٹ: خون کے سادہ ٹیسٹوں سے وٹامن بی 12 کی کمی، تھائرائیڈ کی کم فعالیت اور دیگر طبی مسائل کا پتا چلایا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں ریڑھ کی ہڈی کے پانی کا معائنہ بھی کیا جاتا ہے تاکہ انفیکشن، سوزش یا مخصوص بیماریوں کی تشخیص ہو سکے۔
نفسیاتی معائنہ: ذہنی صحت کا ماہر یہ جانچتا ہے کہ افسردگی یا کوئی دوسری ذہنی بیماری علامات کا حصہ تو نہیں۔
علاج
زیادہ تر اقسام کے ڈیمینشیا کا مکمل علاج ممکن نہیں، تاہم مختلف طریقوں سے علامات کو کم کیا جا سکتا ہے اور مریض کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے:
٭ ادویات
٭ آکوپیشنل تھراپی
٭ گھر کے ماحول میں ایسی تبدیلیاں جو شور اور غیر ضروری سامان کم کریں تاکہ مریض بہتر توجہ دے سکے
٭ مشکل کاموں کو آسان مراحل میں تقسیم کرنا اور روزمرہ معمول کو باقاعدہ رکھنا
طرزِ زندگی اور گھریلو نگہداشت
٭ مریض سے سادہ، واضح اور مؤثر انداز میں بات کریں
٭ باقاعدہ ورزش کی حوصلہ افزائی کریں
٭ مریض کو پسندیدہ سرگرمیوں، جیسے باغبانی، مصوری، کھانا پکانے، گانے یا رقص میں شامل رکھیں
٭ رات کے وقت پرسکون معمول اپنائیں اور سونے سے پہلے شور اور غیر ضروری سرگرمیوں سے گریز کریں
٭ سونے کے کمرے، راہداری اور غسل خانے میں ہلکی روشنی رکھیں تاکہ الجھن کم ہو
٭ کیفین کم استعمال کریں۔ دن میں مناسب ورزش کروائیں اور زیادہ دیر سونے سے گریز کریں
٭ اہم تاریخوں، روزمرہ کاموں اور دواؤں کے اوقات یاد رکھنے کے لیے کیلنڈر استعمال کریں
٭ مستقبل کی دیکھ بھال، قانونی، مالی اور حفاظتی معاملات کی منصوبہ بندی بروقت کر لیں، جبکہ مریض فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا ڈیمینشیا اور الزائمر ایک ہی بیماری ہیں؟
نہیں۔ الزائمر ڈیمینشیا کی سب سے عام وجہ ہے، لیکن ڈیمینشیا کئی بیماریوں کے نتیجے میں بھی ہو سکتا ہے۔
کیا ہر بھولنے والا شخص ڈیمینشیا کا مریض ہوتا ہے؟
نہیں۔ یادداشت کی کمزوری کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں، اس لیے درست تشخیص کے لیے طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا ڈیمینشیا مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
زیادہ تر اقسام مکمل طور پر قابل علاج نہیں، تاہم بعض صورتوں میں اصل وجہ کا علاج ہونے سے علامات میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
کیا صحت مند طرز زندگی ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کر سکتا ہے؟
جی ہاں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، ذہنی سرگرمیاں، سماجی روابط اور اچھی نیند ڈیمینشیا کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurologist