اریتھمیا (Heart arrhythmia) ایسی کیفیت ہے جس میں دل کی دھڑکن نارمل رفتار اور ترتیب سے ہٹ جاتی ہے۔ یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دل کے برقی سگنلز میں خرابی آ جائے۔ نتیجتاً دل کبھی غیر معمولی طور پر تیز، کبھی سست اور کبھی بے ترتیب انداز میں دھڑکنے لگتا ہے۔ کچھ صورتوں میں یہ کیفیت عارضی اور بے ضرر ہوتی ہے، جبکہ بعض حالات میں یہ سنگین اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
اقسام
دل کی بے ترتیب دھڑکن کو عام طور پر دل کی رفتار کے مطابق تقسیم کیا جاتا ہے۔
تیز دھڑکن (ٹیکی کارڈیا): دل کی رفتار 100 دھڑکن فی منٹ سے زیادہ ہو جانا
سست دھڑکن (بریڈی کارڈیا): جب دل کی رفتار 60 دھڑکن فی منٹ سے کم ہو جانا
تیز دھڑکن کی اقسام
ایٹریل فبریلیشن (اے ایف آئی بی)
اس میں دل کے اوپری حصوں کے برقی سگنلز بے ترتیب ہو جاتے ہیں۔ یہ حالت عارضی بھی ہو سکتی ہے اور مستقل بھی، اور اس کا تعلق فالج کے خطرے سے بھی ہوتا ہے۔
ایٹریل فلیٹر
اس میں دھڑکن تیز تو ہوتی ہے مگر نسبتاً زیادہ منظم انداز میں چلتی ہے۔ یہ بھی فالج کے خطرے سے منسلک ہو سکتی ہے۔
سپرا وینٹریکولر ٹیکی کارڈیا
یہ دل کے اوپری حصے سے شروع ہونے والی تیز دھڑکن ہے جو اچانک شروع ہو کر اچانک ختم ہو سکتی ہے۔
وینٹریکولر فبریلیشن
اس حالت میں دل کے نچلے خانے مؤثر طریقے سے خون پمپ کرنے کے بجائے کانپنے لگتے ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک کیفیت ہے اور فوری علاج نہ ملے تو موت کا خطرہ ہوتا ہے۔
وینٹریکولر ٹیکی کارڈیا
یہ دل کے نچلے خانوں میں پیدا ہونے والی تیز اور بے ترتیب دھڑکن ہے جو خون کی مناسب ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے اور بعض صورتوں میں ایمرجنسی بن جاتی ہے۔
سست دھڑکن کی اقسام
سِک سائی نس سنڈروم
دل کی رفتار کو کنٹرول کرنے والا قدرتی نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس سے دھڑکن کبھی بہت سست اور کبھی غیر معمولی تیز ہو سکتی ہے۔ یہ زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں دیکھا جاتا ہے۔
کنڈکشن بلاک
دل کے برقی سگنلز کے راستے میں رکاوٹ آ جاتی ہے، جس سے دھڑکن سست، بے ترتیب یا کبھی کبھی عارضی طور پر رک بھی سکتی ہے۔
دل کی اضافی دھڑکنیں
پری میچور ایٹریل کانٹریکشنز (پی اے سیز)
دل کے اوپری حصے سے آنے والی اضافی دھڑکنیں جو عام طور پر الگ تھلگ یا ہلکے وقفوں میں ہوتی ہیں
پری میچور وینٹریکولر کانٹریکشنز (پی وی سیز)
دل کے نچلے حصے سے پیدا ہونے والی اضافی دھڑکنیں جو بعض اوقات ترتیب کو متاثر کر سکتی ہیں
علامات
دل کی بے ترتیب دھڑکن بعض اوقات بغیر کسی علامت کے بھی ہو سکتی ہے اور معمول کے معائنے میں سامنے آ جاتی ہے۔ عام علامات میں سینے میں پھڑپھڑاہٹ، تیز یا سست دھڑکن، سینے میں درد اور سانس کی کمی شامل ہیں۔ دیگر علامات میں چکر آنا، تھکن، بے چینی، پسینہ آنا اور بے ہوشی شامل ہو سکتی ہے۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں
اگر دل کی دھڑکن بار بار بے ترتیب محسوس ہو تو طبی معائنہ ضروری ہے۔ سینے میں درد، سانس کی شدید کمی یا بے ہوشی کی صورت میں فوری ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کریں۔ بعض خطرناک اقسام میں فوری علاج نہ ملنے پر جان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
وجوہات
دل کی دھڑکن کا نظام برقی سگنلز پر کام کرتا ہے جو سائی نس نوڈ سے شروع ہوتے ہیں اور دل کے مختلف حصوں تک پہنچتے ہیں۔ جب یہ نظام متاثر ہو جائے تو دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ اس کی عام وجوہات میں دل کا دورہ، شریانوں کی بندش، دل کی ساختی خرابیاں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، تھائیرائیڈ کی خرابی، نیند کی کمی، انفیکشن اور بعض ادویات شامل ہیں۔ کیفین، الکحل، تمباکو اور نشہ آور اشیاء بھی اس خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
خطرے کے عوامل
دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، پیدائشی دل کے نقائص، تھائیرائیڈ کی خرابی، نیند کی کمی، الیکٹرولائٹس کا عدم توازن، بعض ادویات، زیادہ الکحل، کیفین، تمباکو اور نشہ آور اشیاء اس خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
پیچیدگیاں
اس بیماری کی پیچیدگیوں میں خون کے کلاٹ بننا، فالج، دل کی کمزوری اور اچانک موت شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض اقسام میں فوری طبی مداخلت نہ ہونے پر صورت حال جان لیوا ہو سکتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
٭ تمباکو نوشی سے پرہیز
٭ متوازن اور کم نمک والی غذا
٭ روزانہ باقاعدہ ورزش
٭ وزن کا توازن برقرار رکھنا
٭ ذہنی دباؤ میں کمی
٭ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کا کنٹرول
٭ مناسب نیند
٭ کیفین اور الکحل کا کم استعمال
تشخیص
ڈاکٹر مریض کی علامات اور میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیتے ہیں۔ تشخیص کے لیے دل کے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں ای سی جی، ہولٹر مانیٹر، ایونٹ ریکارڈر، ایکو کارڈیوگرام اور امپلانٹیبل لوپ ریکارڈر شامل ہیں۔ بعض صورتوں میں سٹریس ٹیسٹ، ٹلٹ ٹیبل ٹیسٹ اور ای پی سٹڈی بھی کی جاتی ہے تاکہ خرابی کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔
علاج
علاج کا انحصار دھڑکن کی نوعیت اور شدت پر ہوتا ہے۔ بعض مریضوں کو صرف نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کچھ کو باقاعدہ علاج درکار ہوتا ہے۔ ادویات دل کی رفتار کو کنٹرول کرتی ہیں اور خون کے کلاٹس کا خطرہ کم کرتی ہیں۔
دیگر علاج میں ویگل مینیوورز، کارڈیوورژن، کیتھیٹر ایبلیشن، پیس میکر، امپلانٹیبل کارڈیوورٹر ڈیفبریلیٹر، میز پروسیجر اور بائی پاس سرجری شامل ہیں۔ علاج کے بعد باقاعدہ چیک اپ اور ادویات کی پابندی ضروری ہے۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا دل کی بے ترتیب دھڑکن ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے؟
نہیں، بعض اقسام عارضی اور بے ضرر ہوتی ہیں، تاہم کچھ صورتیں فالج، دل کی کمزوری یا اچانک موت جیسے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
دل کی بے ترتیب دھڑکن کی عام وجوہات کیا ہیں؟
اس کی وجوہات میں دل کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر، تھائیرائیڈ کی خرابی، ذہنی دباؤ، کیفین، تمباکو اور بعض ادویات شامل ہو سکتی ہیں۔
کیا طرزِ زندگی میں تبدیلی سے دل کی بے ترتیب دھڑکن بہتر ہو سکتی ہے؟
جی ہاں، صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور محرک اشیاء سے پرہیز علامات کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist