سی ٹی سکین (CT Scan)، جسے کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی سکین بھی کہا جاتا ہے، ایک امیجنگ ٹیسٹ ہے۔ یہ جسم کی تفصیلی تصاویر بنانے کے لیے ایکس رے تکنیک استعمال کرتا ہے۔ بعد ازاں کمپیوٹر ہڈیوں، خون کی نالیوں اور نرم ٹشوز کی کراس سیکشنل تصاویر تیار کرتا ہے۔ سی ٹی سکین کی تصاویر عام ایکس رے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تفصیل فراہم کرتی ہیں۔
سی ٹی سکین کے متعدد استعمال ہیں۔ یہ بیماریوں اور چوٹوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ طبی، سرجیکل اور ریڈی ایشن علاج کی منصوبہ بندی میں بھی مدد دیتا ہے۔
کیوں کیا جاتا ہے
معالج مختلف وجوہات کی بنا پر سی ٹی سکین تجویز کر سکتا ہے۔ مثلاً:
٭ پٹھوں اور ہڈیوں کی کیفیات اور بیماریوں مثلاً ہڈیوں کے ٹیومر اور فریکچر کی تشخیص
٭ ٹیومر، انفیکشن یا خون کے کلاٹ کی درست جگہ معلوم کرنا
٭ سرجری، بائیوپسی اور ریڈی ایشن تھراپی جیسے میڈیکل پروسیجرز میں مدد
٭ بیماریوں اور طبی حالتوں مثلاً کینسر، دل کی بیماری، اور جگر کی رسولیوں کی مانیٹرنگ
٭ علاج کے مؤثر یا غیر مؤثر ہونے کی جانچ
٭ اندرونی چوٹوں اور خون بہنے کی نشاندہی
خطرات
تابکاری کے اثرات
سی ٹی سکين میں استعمال ہونے والی کم مقدار کی تابکاری سے طویل مدتی نقصان ثابت شدہ نہیں۔ تاہم، بار بار سکين کروانے سے کینسر کے خطرے میں معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ خطرہ بالغوں کے مقابلے میں بچوں میں نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
سی ٹی سکين کے فوائد اس کے ممکنہ معمولی خطرات سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ جدید اور تیز رفتار مشینیں پرانی مشینوں کے مقابلے میں کم تابکاری خارج کرتی ہیں۔ اس لیے سی ٹی سکين کے فوائد اور خطرات کے بارے میں اپنے معالج سے ضرور بات کریں۔
حاملہ خواتین
اگر آپ حاملہ ہیں تو اپنے معالج کو اس سے ضرور آگاہ کریں۔ سی ٹی سکين کی تابکاری سے بچے کو نقصان پہنچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، سوائے ان صورتوں کے جب سکين پیٹ یا پیلوک حصے کا کیا جا رہا ہو۔ ایسی صورت میں معالج کوئی متبادل ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔ الٹراساؤنڈ اور ایم آر آئی ایسے ٹیسٹ ہیں جن میں تابکاری استعمال نہیں ہوتی۔
کنٹراسٹ مواد
کچھ سی ٹی سکينز میں ایک خاص رنگ استعمال کیا جاتا ہے جسے کنٹراسٹ مواد کہا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے خون کی نالیاں، آنتیں اور دیگر ساختیں بہتر انداز میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
کنٹراسٹ مواد مختلف طریقوں سے دیا جا سکتا ہے:
منہ کے ذریعے: اگر غذائی نالی یا معدے کا سکين کیا جا رہا ہو تو آپ کو کنٹراسٹ مواد والا مائع پلایا جا سکتا ہے۔
انجیکشن کے ذریعے: کنٹراسٹ مواد بازو کی شریان یا رگ میں دیا جا سکتا ہے۔ اس دوران جسم میں گرمی کا احساس یا منہ میں دھاتی ذائقہ محسوس ہو سکتا ہے
اینیما کے ذریعے: آنتوں کو نمایاں کرنے کے لیے کنٹراسٹ مواد ریکٹم میں ڈالا جا سکتا ہے۔ اس سے پیٹ پھولنے کا احساس ہو سکتا ہے
کنٹراسٹ مواد پر ری ایکشن
اگرچہ ایسا کم ہوتا ہے، لیکن کنٹراسٹ مواد بعض اوقات طبی مسائل یا الرجی کا باعث بن سکتا ہے۔ زیادہ تر ری ایکشنز معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، جیسے خارش یا جلد پر دانے نکل آنا۔
شاذ و نادر صورتوں میں الرجی شدید اور جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔ اگر آپ کو پہلے کبھی کنٹراسٹ مواد سے ری ایکشن ہوا ہو تو اپنے معالج کو ضرور آگاہ کریں۔
سی ٹی سکین کے لیے تیاری
سکين سے پہلے آپ سے درج ذیل ہدایات پر عمل کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے:
٭ کچھ یا تمام کپڑے اتار کر ہسپتال کا گاؤن پہنیں
٭ دھات سے بنی اشیاء، جیسے بیلٹ، زیورات، مصنوعی دانت اور چشمہ اتار دیں
٭ سکين سے چند گھنٹے پہلے کھانے پینے سے پرہیز کریں
بچے کی تیاری
اگر شیر خوار یا کم عمر بچے کا سی ٹی سکين ہونا ہو تو معالج سکون آور دوا تجویز کر سکتا ہے تاکہ بچہ پرسکون اور ساکت رہے۔
حرکت کرنے سے تصاویر دھندلی ہو سکتی ہیں اور نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔ اپنے معالج سے پوچھیں کہ بچے کو سکين کے لیے کس طرح تیار کیا جائے۔
پروسیجر
سی ٹی سکين ہسپتال یا آؤٹ پیشنٹ مرکز میں کیا جا سکتا ہے۔ جدید مشینوں کی مدد سے سکين چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ پورے عمل میں عموماً تقریباً 30 منٹ لگتے ہیں۔
پروسیجر کے دوران
سی ٹی سکينر ایک بڑے ڈونٹ کی شکل کا ہوتا ہے جو عمودی انداز میں نصب ہوتا ہے۔ آپ ایک تنگ میز پر لیٹتے ہیں جو موٹر کی مدد سے سکينر کے درمیان موجود سرنگ نما حصے میں داخل ہوتی ہے۔
آپ کو ایک ہی حالت میں رکھنے کے لیے پٹے اور تکیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ سر کے سکين کے دوران میز کے ساتھ ایک خاص سہارا بھی لگایا جا سکتا ہے جو سر کو ساکت رکھتا ہے۔
جب میز سکينر کے اندر حرکت کرتا ہے تو ایکس رے ٹیوب آپ کے گرد گھومتی رہتی ہے۔ اس دوران بھنبھناہٹ یا مشین کی حرکت کی آوازیں سنائی دے سکتی ہیں۔
سی ٹی ٹیکنالوجسٹ دوسرے کمرے میں موجود ہوتا ہے اور آپ کو دیکھ اور سن سکتا ہے۔ انٹرکام کے ذریعے آپ اس سے بات بھی کر سکتے ہیں۔ واضح تصاویر حاصل کرنے کے لیے آپ سے بعض اوقات سانس روکنے کو کہا جا سکتا ہے۔ حرکت کی صورت میں تصاویر دھندلی ہو سکتی ہیں۔
پروسیجر کے بعد
معائنے کے بعد آپ اپنی معمول کی سرگرمیوں میں واپس جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کو کنٹراسٹ مواد دیا گیا ہو تو آپ سے کچھ دیر انتظار کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے۔
آپ کو زیادہ مقدار میں پانی پینے کی بھی ہدایت دی جا سکتی ہے تاکہ گردوں کو کنٹراسٹ مواد جسم سے خارج کرنے میں مدد مل سکے۔
نتائج
سی ٹی سکین کی تصاویر الیکٹرانک فائلوں کی صورت میں محفوظ کی جاتی ہیں اور عموماً کمپیوٹر سکرین پر دیکھی جاتی ہیں۔
ریڈیولوجسٹ ان تصاویر کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کرتا ہے۔ یہ رپورٹ آپ کے طبی ریکارڈ کا حصہ بن جاتی ہے۔ بعد ازاں آپ کا معالج نتائج سے آگاہ کرتا ہے اور ان کی وضاحت کرتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=radiologist