Vinkmag ad

لائپو سکشن: چربی کم کرنے کی سرجیکل تکنیک

A patient being prepared for a liposuction procedure to remove excess abdominal fat

لائپو سکشن (Liposuction) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں سکشن، یعنی ویکیوم پیدا کر کے جسم کے مخصوص حصوں سے چربی نکالی جاتی ہے۔ یہ عمل پیٹ، کولہوں، رانوں، بازوؤں، گردن اور دیگر حصوں پر کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے جسم کی ساخت کو بہتر بنایا جاتا ہے، جسے کونٹورنگ کہا جاتا ہے۔ اسے لائپوپلاسٹی یا باڈی کونٹورنگ بھی کہا جاتا ہے۔

لائپو سکشن مکمل طور پر وزن کم کرنے کا پروسیجر یا اس کا متبادل نہیں ہے۔ زیادہ وزن والے افراد کے لیے غذا، ورزش یا دیگر سرجریز زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ اگر جسم کے مخصوص حصوں میں ضدی چربی ہو اور مجموعی وزن مستحکم ہو تو یہ طریقہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ “ضدی چربی” سے مراد وہ چربی ہے جو عام طریقوں سے آسانی سے کم نہیں ہوتی۔

کیوں کیا جاتا ہے

لائپو سکشن ان حصوں سے چربی ہٹانے کے لیے کیا جاتا ہے جہاں غذا اور ورزش کے باوجود چربی مکمل طور پر کم نہیں ہوتی۔ ان حصوں میں شامل ہو سکتے ہیں:

٭ پیٹ

٭ بازوؤں کا اوپری حصہ

٭ کولہے

٭ پنڈلیاں اور ٹخنے

٭ سینہ اور پیٹھ

٭ کولہے اور رانیں

٭ ٹھوڑی اور گردن

کن مسائل میں فائدہ مند

مردوں میں اضافی چھاتی کے ٹشو کو کم کرنے کے لیے بھی یہ پروسیجر استعمال ہوتا ہے۔ وزن بڑھنے سے چربی کے خلیے بڑے ہو جاتے ہیں۔ لائپو سکشن مخصوص حصے میں ان کی تعداد کم کرتا ہے۔ نکالی جانے والی چربی کی مقدار اس حصے کی حالت پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر وزن برقرار رہے تو نتائج عموماً مستقل رہتے ہیں۔

سرجری کے بعد جلد نئی ساخت کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔ اگر جلد میں لچک اچھی ہو تو وہ ہموار نظر آتی ہے، ورنہ ڈھیلی محسوس ہو سکتی ہے۔ یہ طریقہ سیلولائٹ یا سٹریچ مارکس کو ختم نہیں کرتا۔ سیلولائٹ جلد کی سطح پر گڑھے یا ناہمواری کو کہتے ہیں، جبکہ سٹریچ مارکس جلد پر لکیروں کی صورت میں ہوتے ہیں۔ لائپو سکشن صرف چربی کم کرتا ہے، جلد کی سطح کے مسائل کو درست نہیں کرتا۔

لائپو سکشن کے لیے مریض کا عمومی صحت مند ہونا ضروری ہے۔ خون کی روانی کے مسائل، دل کی شریانوں کی بیماری، ذیابیطس یا کمزور مدافعتی نظام سرجری کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

خطرات

ہر سرجری کی طرح لائپو سکشن میں بھی کچھ خطرات شامل ہوتے ہیں، جیسے خون بہنا یا بے ہوشی کی دوا کا ری ایکشن کر جانا۔ دیگر ممکنہ پیچیدگیاں یہ ہیں:

٭ جلد کی ساخت میں مسائل، جیسے ناہمواری

٭ جلد کے نیچے سیال جمع ہونا جسے نکالنا پڑ سکتا ہے

٭ متاثرہ حصے میں عارضی یا مستقل سن پن

٭ جلد کا انفیکشن، جو شدید صورت میں خطرناک ہو سکتا ہے

٭ کسی اندرونی عضو کو نقصان، اگر نالی زیادہ اندر چلی جائے

٭ چربی کے ذرات کا خون میں پھنس جانا، جو ایمرجنسی صورت حال پیدا کر سکتا ہے

٭ گردوں، دل یا پھیپھڑوں کے مسائل، خاص طور پر زیادہ چربی نکالنے کی صورت میں

٭ درد کم کرنے والی دواکے مضر اثرات

اگر ایک ہی وقت میں بڑے حصے پر کام کیا جائے یا متعدد پروسیجرز کیے جائیں تو خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس بارے میں سرجن سے تفصیلاً بات کرنا ضروری ہے۔

پروسیجر کے لیے تیاری

سرجری سے پہلے سرجن آپ کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لے گا اور موجودہ بیماریوں کے بارے میں پوچھے گا۔ آپ جو بھی دوائیں، سپلیمنٹس یا ہربلز استعمال کرتے ہیں، ان کی معلومات دینا ضروری ہے۔

سرجن بعض دوائیں، خاص طور پر خون پتلا کرنے والی ادویات سرجری سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے بند کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔ کچھ لیبارٹری ٹیسٹ بھی درکار ہو سکتے ہیں۔

اگر چربی کم مقدار میں نکالنی ہو تو پروسیجر کلینک میں کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ مقدار کی صورت میں ہسپتال میں سرجری کی جاتی ہے۔ ہر صورت میں کسی فرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے جو آپ کو گھر لے جائے اور پہلی رات آپ کے ساتھ رہے۔

پہلے

سرجری سے پہلے سرجن جسم کے مطلوبہ حصوں پر نشان لگاتا ہے۔ بعض اوقات تصاویر بھی لی جاتی ہیں تاکہ پہلے اور بعد کے نتائج کا موازنہ کیا جا سکے۔ استعمال ہونے والی تکنیک علاج کے مقصد، جسم کے حصے اور سابقہ سرجری کے تجربے کے مطابق منتخب کی جاتی ہے۔

سکشن اسسٹڈ لائپو سکشن: سب سے عام طریقہ، جس میں محلول داخل کر کے باریک نالی سے چربی نکالی جاتی ہے

الٹراساؤنڈ اسسٹڈ لائپو سکشن: انرجی کے ذریعے چربی کے خلیے توڑ کر نکالے جاتے ہیں

لیزر اسسٹڈ لائپو سکشن: لیزر کے ذریعے چربی کو پگھلا کر نکالا جاتا ہے

پاور اسسٹڈ لائپو سکشن: حرکت کرنے والی نالی سے سخت چربی آسانی سے نکالی جاتی ہے

دوران

کچھ صورتوں میں لوکل جبکہ کچھ میں جنرل انستھیزیا دیا جاتا ہے۔

سرجری کے دوران دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اور آکسیجن کی سطح کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ اگر درد محسوس ہو تو فوراً سرجن کو آگاہ کریں۔ یہ پروسیجر چند گھنٹوں تک جاری رہ سکتا ہے۔ جنرل انستھیزیا کی صورت میں مریض کو بعد میں ریکوری روم میں رکھا جاتا ہے۔

بعد میں

سرجری کے بعد درد، جلد پر سوجن اور نیلاہٹ ہونا عام ہے۔ ان علامات کے لیے ادویات دی جاتی ہیں تاکہ تکلیف کم ہو اور انفیکشن کا خطرہ گھٹے۔

زخموں سے سیال نکالنے کے لیے عارضی نالیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ سوجن کم کرنے کے لیے چند ہفتوں تک تنگ لباس پہننا ضروری ہوتا ہے۔ کام پر واپسی میں چند دن لگ سکتے ہیں، جبکہ معمول کی سرگرمیوں، خاص طور پر ورزش، کے لیے چند ہفتے درکار ہوتے ہیں۔ حتمی نتائج ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہے کیونکہ سوجن بتدریج کم ہوتی ہے۔

نتائج

لائپو سکشن کے بعد سوجن عموماً چند ہفتوں میں کم ہو جاتی ہے اور متاثرہ حصہ ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ چند ماہ بعد جسم زیادہ متناسب اور بہتر شکل میں نظر آتا ہے۔

عمر کے ساتھ جلد کی لچک کم ہو سکتی ہے، تاہم وزن برقرار رکھنے سے نتائج طویل عرصے تک قائم رہتے ہیں۔ اگر وزن دوبارہ بڑھ جائے تو چربی مختلف حصوں، خصوصاً پیٹ، میں جمع ہو سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

٭ ڈاکٹر سے رابطے کے لئے لنک پر کلک کریں:

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=plastic-surgery

 

Vinkmag ad

Read Previous

طاعون کیا ہے؟

Read Next

جگر کی پیوندکاری

Leave a Reply

Most Popular