گھٹنے کا درد (Knee pain) ایک عام مسئلہ ہے جو ہر عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ کسی چوٹ، مثلاً لیگامنٹ پھٹ جانے یا کارٹیلیج کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کچھ طبی کیفیات جیسے گنٹھیا، گاؤٹ اور انفیکشن بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔
معمولی درد کی صورت میں سیلف کیئر کے اقدامات اچھا اثر ڈالتے ہیں۔ فزیو تھیراپی اور گھٹنے کے بریس بھی درد کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔
علامات
گھٹنے کے درد کی جگہ اور شدت کا تعلق مسئلے کی وجہ سے ہے۔ عموماً درج ذیل علامات سامنے آتی ہیں:
* سوجن اور سختی
* لال ہونا، چھونے پر گرمی کا احساس
* کمزوری یا عدم استحکام
* چٹخنے کی آوازیں
* گھٹنے کو مکمل سیدھا نہ کر پانا
وجوہات
گھٹنے کے درد کی وجوہات میں چوٹیں، مکینیکل مسائل، مختلف اقسام کے گنٹھیا اور دیگر مسائل شامل ہیں۔
چوٹیں
گھٹنے کی چوٹ لیگامنٹس، ٹینڈنز، کارٹیلیج اور ہڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ عام چوٹوں میں شامل ہیں:
اے سی ایل چوٹ: یہ ان لوگوں میں عام ہے جو باسکٹ بال، فٹبال یا ایسے کھیل کھیلتے ہیں جن میں اچانک سمت بدلنی پڑتی ہے
فریکچر: گھٹنے کی ہڈیاں گرنے یا حادثات کی وجہ سے ٹوٹ سکتی ہیں۔ کمزور ہڈیوں والے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں
مینسکس ٹوٹنا: مینسکس سخت اور ربڑ جیسا کارٹیلیج ہے جو ہڈیوں کے درمیان جھٹکے کم کرتا ہے۔ اچانک گھٹنے کو موڑنے سے یہ پھٹ سکتا ہے
گھٹنے کے برسیز: کچھ چوٹیں بروسے (bursae) میں سوجن پیدا کر دیتی ہیں، یہ چھوٹے سیال والے تھیلے ہیں جو لیگامنٹس اور ٹینڈنز کو ہموار حرکت کرنے میں مدد دیتے ہیں
ٹینڈنائٹس: ٹینڈنز،خاص طور پر پٹیلر ٹینڈن میں میں سوجن اس کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ ٹینڈن گھٹنے کی ہڈی سے پنڈلی کی ہڈی تک جاتا ہے۔ یہ چوٹ دوڑنے، سکیئنگ یا چھلانگ والے کھیل کھیلنے والوں میں عام ہے
مکینیکل مسائل
کچھ مکینیکل مسائل بھی گھٹنے کے درد کا سبب بن سکتے ہیں:
٭ چوٹ یا ہڈی/کارٹیلیج کے کمزور ہونے سے اس کا کوئی چھوٹا ٹکڑا جوڑ میں آ کر حرکت میں مشکل پیدا کر سکتا ہے
٭ کولہے سے گھٹنے تک پھیلا سخت ٹشو جب رگڑ کھاتا ہے تو گھٹنے میں درد ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر دوڑنے والے اور سائیکل سواروں میں ہوتا ہے
٭ گھٹنے کی ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ جانا۔ بعض اوقات یہ ہٹنا مستقل ہو جاتا ہے
٭ کولہے یا پاؤں کا درد: کولہے یا پاؤں کا درد چلنے کے انداز کو بدل سکتا ہے، جس سے گھٹنے پر اضافی دباؤ پڑتا ہے
گنٹھیا کی اقسام
اس کی 100 سے زیادہ اقسام ہیں، جو گھٹنے کو متاثر کر سکتی ہیں:
آسٹیوآرتھرائٹس: سب سے عام گنٹھیا، جو عمر بڑھنے اور گھٹنے کی کارٹیلیج خراب ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے
روماٹائیڈ آرتھرائٹس: ایک آٹو امیون بیماری جو تقریباً ہر جوڑ کو متاثر کر سکتی ہے
گاؤٹ: یورک ایسڈ کے کرسٹل جوڑمیں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ عام طور پر انگوٹھے میں ہوتا ہے، لیکن گھٹنے میں بھی ہو سکتا ہے
سوڈوگاؤٹ: کیلشیم کے کرسٹل جوڑ میں جمع ہو کر سوجن اور درد پیدا کرتے ہیں۔ گھٹنے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں
سیپٹک آرتھرائٹس: جوڑ کا انفیکشن، جس کے ساتھ بخار، سوجن اور لالی ہوتی ہے۔ فوری علاج ضروری ہے
خطرے کے عوامل
٭ زیادہ وزن گھٹنے پر اضافی دباؤ اور آرتھرائٹس کا خطرہ بڑھاتا ہے
٭ پٹھوں کی کمزوری یا لچک کی کمی گھٹنے کی چوٹوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
٭ کچھ کھیل یا پیشے، مثلاً باسکٹ بال، سکیئنگ، رننگ یا بھاری کام گھٹنے پر دباؤ بڑھاتے ہیں
٭ پچھلی چوٹ دوبارہ چوٹ کا امکان بڑھا سکتی ہے
پیچیدگیاں
تمام گھٹنے کے درد سنگین نہیں ہوتے، لیکن بعض چوٹیں اور حالتیں، جیسے آسٹیوآرتھرائٹس، درد، جوڑ کی خرابی اور معذوری پیدا کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
ڈاکٹر سے رابطہ کریں اگر آپ:
* اپنے گھٹنے پر وزن برداشت نہیں کر سکتے یا لگتا ہے کہ گھٹنا غیر مستحکم ہے
* گھٹنے میں شدید سوجن ہو
* گھٹنے کو مکمل طور پر موڑ یا سیدھا نہیں کر پا رہے
* ٹانگ یا گھٹنے میں واضح تبدیلی دیکھیں
* گھٹنے میں لالی، درد اور سوجن کے ساتھ بخار ہو
* گھٹنے پر شدید چوٹ لگی ہو
تشخیص
ڈاکٹر معائنہ کے دوران:
* گھٹنے کی سوجن، درد، حساسیت، لالی اور زخم دیکھیں گے
* ہلنے کی حد جانچیں گے
* جوڑ کے ڈھانچے کی مضبوطی کو چیک کریں گے
امیجنگ ٹیسٹ
* ہڈیوں اور جوڑ کی بیماری دیکھنے کے لیے ایکسرے
* ہڈی اور چھوٹے فریکچر دیکھنے کے لیے سی ٹی سکین
* نرم ٹشوز کی حرکت اور مسائل جانچنے کے لیے الٹرا ساؤنڈ
* لیگامنٹس، ٹینڈنز اور کارٹیلیج کے نقصان کی نشاندہی کیلئے ایم آر آئی
٭ انفیکشن یا سوجن کے شک کی صورت میں بلڈ ٹیسٹ یا جوڑ کے سیال کا معائنہ
علاج
٭ ڈاکٹر درد کم کرنے یا بنیادی بیماری، جیسے رمیٹائڈ آرتھرائٹس یا گاؤٹ، کے لیے دوا تجویز کر سکتا ہے
٭ گھٹنے کے ارد گرد پٹھے مضبوط کرنا، جوڑ کو مستحکم رکھتا ہے۔ فزیو تھیراپی یا مضبوطی کی ورزشیں اس میں مددگار ہیں
٭ کچھ صورتوں میں انجیکشن لگایا جاتا ہے
٭ بعض صورتوں میں سرجری کی ضرورت پڑتی ہے
* گھٹنے کی جزوی تبدیلی
* مکمل گھٹنے کی تبدیلی
طرز زندگی اور گھر پر علاج
* بغیر نسخے کی کچھ دوائیں
* لگانے کیلئے کریمیں
* آرام کرنا، گرم یا ٹھنڈی ٹکور، کمپریشن اور اسے اونچا رکھنا
بچاؤ کی تدابیر
* وزن کنٹرول کریں
* کھیل کی ٹریننگ اور پٹھوں کی مضبوطی، اور لچک پر توجہ دیں
* صحیح تکنیک سے ورزش کریں
* ایسی جسمانی سرگرمیاں کریں جن میں گھٹنوں پر دباؤ کم پڑے
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔