ہچکیاں (Hiccups) ڈایافرام کے بار بار اور غیر ارادی جھٹکوں کو کہتے ہیں، جنہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ڈایافرام وہ پٹھا ہے جو سینے اور پیٹ کو الگ کرتا ہے اور سانس لینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس پٹھے کے اچانک سکڑنے سے آواز کی نالیاں بند ہو جاتی ہیں، جس سے "ہک” کی آواز پیدا ہوتی ہے۔
زیادہ کھانا، الکحل یا گیس والے مشروبات پینا، یا اچانک پیدا ہونے والے جذبات ہچکی کا سبب بن سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ کسی اندرونی طبی مسئلے کی علامت بھی ہوتی ہے۔ زیادہ تر افراد میں ہچکی چند منٹ میں خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ شاذ و نادر صورتوں میں یہ مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے، جس سے وزن میں کمی اور شدید تھکن ہو سکتی ہے۔
علامات
علامات میں ڈایافرام کے بے قابو جھٹکے اور "ہک” کی آواز شامل ہیں۔ بعض افراد کو سینے، پیٹ یا گلے میں ہلکی جکڑن بھی محسوس ہو سکتی ہے۔
وجوہات
48 گھنٹوں سے کم دورانیے والی ہچکی کے عام اسباب درج ذیل ہیں:
٭ گیس والے مشروبات پینا
٭ زیادہ مقدار میں الکحل کا استعمال
٭ حد سے زیادہ کھانا
٭ جذباتی دباؤ یا شدید خوشی
٭ درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی
٭ ہوا نگلنا، جیسے چیونگم چبانے یا سگریٹ نوشی کے دوران
اعصابی نقصان
طویل عرصے تک جاری رہنے والی ہچکی کی ایک اہم وجہ ویگس یا ڈایافرام کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کو نقصان پہنچنا ہے۔ یہ اعصاب ڈایافرام کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ درج ذیل عوامل ان اعصاب کو متاثر کر سکتے ہیں:
٭ کان میں بال یا کوئی چیز جو پردہ سماعت کو چھو لے
٭ گردن میں تھائی رائیڈ غدود پر رسولی یا سسٹ
٭ معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آنا
٭ گلے کی سوزش یا آواز کی نالی کی سوزش
48 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہنے والی ہچکی کے ممکنہ اسباب درج ذیل ہیں:
٭ مرکزی اعصابی نظام کی بیماریاں
٭ میٹابولک مسائل
٭ بعض ادویات یا الکحل سے متعلق مسائل
مرکزی اعصابی نظام کی بیماریاں
دماغ یا اعصابی نظام میں رسولی، انفیکشن یا چوٹ ہچکی کے قدرتی کنٹرول کو متاثر کر سکتی ہے۔ مرکزی اعصابی نظام کی درج ذیل بیماریاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں:
٭ دماغ کی سوزش (اینسیفلائٹس)
٭ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی جھلیوں کی سوزش (میننجائٹس)
٭ ملٹی پل سکلروسیس، جس میں اعصابی ٹشوز سخت ہو جاتے ہیں
٭ سٹروک
٭ شدید دماغی چوٹ
٭ رسولیاں
میٹابولک مسائل
جب جسم کا میٹابولک سسٹم درست کام نہ کرے تو ہچکی طویل ہو سکتی ہے۔ اس کی مثالیں یہ ہیں:
٭ ذیابیطس
٭ الیکٹرولائٹ عدم توازن، جیسے پوٹاشیم یا سوڈیم کی زیادتی یا کمی
٭ گردے کی بیماری
ادویات اور الکحل کے مسائل
کچھ ادویات اور الکحل کا استعمال بھی طویل ہچکی کا سبب بن سکتا ہے۔ مثلاً:
٭ سکون آور ادویات یا بے ہوشی میں استعمال ہونے والی دوائیں
٭ ڈیکسامیتھاسون نامی سٹیرائیڈ، جو سوزش کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے
٭ دیگر سٹیرائڈ ادویات
٭ شراب نوشی کی عادت جو قابو میں نہ رہے
خطرے کے عوامل
مردوں میں طویل ہچکی کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ دیگر عوامل میں شامل ہیں:
٭ ذہنی یا جذباتی مسائل، جیسے بے چینی، دباؤ یا شدید خوشی
٭ سرجری، خاص طور پر جنرل اینستھیزیا یا پیٹ کے اعضاء سے متعلق پروسیجرز کے بعد
پیچیدگیاں
مسلسل ہچکی کھانے، پینے، سونے اور بات کرنے میں خلل ڈال سکتی ہے۔ یہ درد کی شدت میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر ہچکی 48 گھنٹوں سے زیادہ برقرار رہے یا کھانے، سونے یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرے تو ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔
تشخیص
معائنے کے دوران ڈاکٹر اعصابی نظام کا جائزہ لے سکتا ہے، جس میں درج ذیل چیزیں شامل ہوتی ہیں:
٭ توازن اور ہم آہنگی
٭ پٹھوں کی طاقت اور حالت
٭ ریفلیکسز
٭ نظر اور چھونے کی حس
اگر کسی بنیادی بیماری کا شبہ ہو تو مزید ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں۔
لیبارٹری ٹیسٹ
خون کے نمونوں کے ذریعے ذیابیطس، انفیکشن یا گردے کی بیماری کے آثار تلاش کیے جاتے ہیں۔
امیجنگ ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ جسم کے اندر ایسے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں جو ڈایافرام یا اس کے اعصاب کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان میں ایکس رے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی شامل ہیں۔
اینڈوسکوپک ٹیسٹ
اس طریقہ کار میں باریک کیمرہ والی نلی گلے کے ذریعے غذائی نالی تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کا مقصد غذائی نالی یا سانس کی نالی کے مسائل کی جانچ کرنا ہوتا ہے۔
علاج
زیادہ تر کیسز میں ہچکی بغیر علاج کے خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی بنیادی بیماری موجود ہو تو اس کے علاج سے ہچکی رک سکتی ہے۔
اگر ہچکی دو دن سے زیادہ برقرار رہے تو ادویات یا مخصوص پروسیجر کی ضرورت پڑ سکتی ہے:
٭ اگر سادہ علاج مؤثر ثابت نہ ہوں تو ڈاکٹر ڈایافرام کو کنٹرول کرنے والے اعصاب کو بلاک کرنے کے لیے اینستھیٹک انجیکشن تجویز کر سکتا ہے
٭ جسم میں بیٹری سے چلنے والا آلہ نصب کیا جا سکتا ہے، جو ویگس اعصاب کو ہلکی برقی تحریک دیتا ہے
یہ طریقہ مرگی کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے اور طویل ہچکی کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔
طرزِ زندگی اور گھریلو علاج
ہچکی روکنے کا کوئی یقینی طریقہ موجود نہیں، تاہم درج ذیل گھریلو تدابیر وقتی آرام دے سکتی ہیں:
٭ پیپر بیگ میں سانس لینا
٭ برف ملے پانی سے غرارے کرنا
٭ کچھ دیر کے لیے سانس روکنا
٭ ٹھنڈا پانی آہستہ آہستہ پینا
اگر ہچکی بار بار ہو تو درج ذیل تبدیلیاں مفید ثابت ہو سکتی ہیں:
٭ گیس والے مشروبات اور گیس پیدا کرنے والی غذاؤں سے پرہیز
٭ کم مقدار میں کھانا کھانا
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔