Vinkmag ad

بدہضمی

A man in a cafe grimacing and clutching his chest because of indigestion

بدہضمی (Indigestion) پیٹ میں بے آرامی، گڑبڑ یا درد کا نام ہے۔ اس میں کھانے کے دوران یا بعد میں زیادہ دیر تک پیٹ بھرا ہوا محسوس ہو سکتا ہے۔

زیادہ تر صورتوں میں بدہضمی کسی خاص بیماری کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ تاہم بعض اوقات یہ نظام انہضام سے متعلق اعضاء میں کسی مسئلے کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ بدہضمی کو اپ سیٹ سٹامک یا ڈیسپیپشیا (dyspepsia) بھی کہا جاتا ہے۔

علامات

بدہضمی کی علامات میں شامل ہو سکتی ہیں:

٭ کھانے کے دوران جلدی پیٹ بھر جانا یا معمول کے کھانے کو مکمل نہ کر پانا

٭ کھانے کے بعد زیادہ دیر تک پیٹ بھرا رہنے اور بے آرامی کا احساس ہونا

٭ اوپری پیٹ میں ہلکا یا شدید درد، جو چھاتی کی ہڈی کے نیچے اور ناف کے درمیانی حصے میں ہوتا ہے

٭ پیٹ کے اوپری حصے میں جلن کا احساس

٭ پیٹ میں سوجن یا سختی کا احساس

٭ قے کرنے کی ضرورت محسوس ہونا یا قے ہونا

٭ ڈکار آنا

کبھی کبھار بدہضمی کے ساتھ ہارٹ برن بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں سینے کے درمیان میں درد یا جلن کا احساس ہوتا ہے جو گردن یا پیٹھ میں پھیل سکتا ہے۔

وجوہات

بغیر وجہ کے طویل یا بار بار ہونے والی بدہضمی کو فنکشنل بدہضمی کہا جاتا ہے۔ فنکشنل بدہضمی میں کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جیسے:

٭ زیادہ یا تیز کھانا کھانا

٭ چکنائی، مصالحہ دار یا تلی ہوئی غذا

٭ کیفین، الکحل یا گیس والی مشروبات

٭ کھٹے پھل جیسے ٹماٹر اور مالٹے کھانا

٭ اضطراب، ڈپریشن یا ذہنی صدمہ

٭ سگریٹ نوشی

٭ کچھ اینٹی بائیوٹکس اور درد کم کرنے والی ادویات

ایچ پائلوری بیکٹیریا معدے یا چھوٹی آنت میں السر پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بدہضمی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

عمر کے مطابق وجوہات

عمر کے مختلف حصوں میں بدہضمی کے بنیادی اسباب مختلف ہوتے ہیں۔

بچوں میں

٭ ایچ پائلوری انفیکشن

٭ ہاضمے کے نظام میں دیگر انفیکشن

٭ معدے کی خوراک ذخیرہ کرنے، اور اسے خالی کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہونے والی کیفیتات

٭ ذہنی دباؤ

نوجوانوں میں

٭ ایچ پائلوری انفیکشن

٭ گیسٹروایسوفیجیل ریفلکس بیماری (جی ای آر ڈی)، جب معدے کا تیزاب بار بار غذائی نالی میں واپس آتا ہے

٭ خوراک

٭ دباؤ

40 سے 60 سال کی عمر

٭ ایچ پائلوری انفیکشن

٭ معدے یا چھوٹی آنت کے السر

٭ جی ای آر ڈی

٭ پین کلرز کا استعمال

60 سال سے زائد

٭ معدے یا چھوٹی آنت کے السر

٭ جی ای آر ڈی

٭ معدے کا کینسر

٭ پین کلرز

خطرے کے عوامل

کچھ عوامل بدہضمی کے امکانات بڑھا سکتے ہیں، جیسے:

٭ تیز یا زیادہ کھانا، مصالحہ دار، چکنائی یا کھٹی غذا

٭ زیادہ الکحل، کیفین یا گیس والی مشروبات

٭ ڈپریشن، اضطراب یا ذہنی صدمہ

٭ سگریٹ نوشی یا تمباکو کی دیگر مصنوعات

٭ حمل کے دوران ہارمونز میں تبدیلی اور معدے پر دباؤ

٭ اضافی وزن، خاص طور پر پیٹ کے گرد

پیچیدگیاں

بدہضمی عام طور پر سنگین پیچیدگیاں پیدا نہیں کرتی، لیکن یہ معیار زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کی وجہ سے کھانے کی مقدار کم، یا سکول/کام کی جگہوں سے چھٹی کرنا پڑ سکتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

ہلکی بدہضمی عام طور پر تشویش کی بات نہیں، لیکن اگر علامات دو ہفتے سے زیادہ رہیں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر بدہضمی کے ساتھ یہ علامات ہوں تو فوری رابطہ کریں:

٭ شدید یا مسلسل پیٹ درد

٭ بغیر وجہ کے وزن کم ہونا یا بھوک میں کمی

٭ بار بار قے یا خون کے ساتھ قے آنا

٭ سیاہ، چکنا پاخانہ

٭ نگلنے میں دشواری

٭ تھکن یا کمزوری

٭ جلد یا آنکھوں کا پیلا ہونا

اگر بدہضمی کے ساتھ یہ علامات ہوں تو بلاتاخیر ایمرجنسی سروسز حاصل کریں:

٭ سانس لینے میں دشواری، پسینہ آنا، یا سینے کا درد جو جبڑے، گردن یا بازو میں پھیلتا ہو

٭ جسمانی سرگرمی یا دباؤ کے دوران سینے میں درد

تشخیص

٭ ڈاکٹر علامات، کھانے کی عادات، میڈیکل ہسٹری اور ذہنی دباؤ کے بارے میں سوالات کرتے ہیں

٭ وہ معدے کا مکمل معائنہ کرتے ہیں

٭ علامات، میڈیکل ہسٹری اور معائنے کی بنیاد پر فنکشنل بدہضمی کی تشخیص کرتے ہیں

ایچ پائلوری ٹیسٹ

٭ ڈاکٹر ایچ پائلوری بیکٹیریا کے لیے ٹیسٹ کروا سکتے ہیں، جو معدے کے ٹشو، سانس یا پاخانہ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے

دیگر ٹیسٹ

اگر علامات یا معائنے کے نتائج تشویش پیدا کریں یا ابتدائی علاج سے بہتری نہ ہو تو دیگر ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں

بلڈ ٹیسٹ: یہ خون کے نمونوں کی جانچ کے ذریعے بدہضمی کی دیگر ممکنہ وجوہات معلوم کرتے ہیں

اینڈوسکوپی: خاص طور پر 50 سال یا اس سے زائد عمر کے بالغوں میں نئی علامات ظاہر ہونے پر کی جاتی ہے

امیجنگ ٹیسٹ: ہاضمے کے نظام میں کسی بیماری، رکاوٹ یا غیر معمولی علامات کو دکھاتے ہیں

علاج

بدہضمی کے لیے مختلف علاج کیے جا سکتے ہیں۔

خوراک اور ادویات میں تبدیلی

٭ چکنائی، کھٹی یا مصالحہ دار غذا سے پرہیز

٭ کیفین، الکحل اور گیس والے مشروبات سے پرہیز

٭ درد کم کرنے والی ادویات جیسے اسپرین، آئی بپروفین اور نیپروکسن سے پرہیز

٭ ڈاکٹر سے پوچھیں کہ کوئی نسخہ شدہ دوا علامات کا سبب تو نہیں بن رہی۔ ایسا ہو تو اس کا متبادل تلاش کریں

٭ غذائی سپلیمنٹس یا ہربل ادویات کے اثرات پر ڈاکٹر سے بات کریں

ذہنی صحت کی دیکھ بھال

٭ سائیکو تھیراپی سے ڈپریشن، اضطراب اور دیگر عوامل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے

٭ نسخہ شدہ ادویات بھی علامات کم کر سکتی ہیں

ہاضمے کے لیے ادویات

اینٹی بائیوٹکس: ایچ پائلوری مثبت ہونے پر اینٹی بائیوٹکس اور ایسڈ کم کرنے والی دوا سے علامات بہتر ہو سکتی ہیں

پروٹن پمپ انہیبیٹرز (پی پی آئز): یہ معدے میں ایسڈ کی پیداوار کم کرتے ہیں، نسخہ اور بغیر نسخہ دستیاب ہیں

H-2 ریسیپٹر بلاکرز: ایسڈ کم کرتے ہیں، نسخہ اور بغیر نسخہ دستیاب ہیں

پروکینیٹکس (Prokinetics): معدے کو جلد خالی کرنے اور ایسوفیگس کے والو کو مضبوط کرنے میں مدد دیتے ہیں

طرز زندگی اور گھریلو تدابیر

٭ چکنائی، کھٹی یا مصالحہ دار غذا، کیفین، الکحل اور گیس والی مشروبات سے پرہیز

٭ تین بڑے کھانوں کی بجائے پانچ یا چھ چھوٹے کھانے کھائیں

٭ ورزش کریں اور صحت مند وزن برقرار رکھیں

٭ سگریٹ نوشی سے اجتناب کریں

٭ ممکن حد تک ذہنی دباؤ سے بچیں

٭ میڈیٹیشن یا ذہنی سکون کی ورزشیں کریں

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

ہچکیاں

Read Next

ارٹیبل باؤل سنڈروم (آئی بی ایس)

Leave a Reply

Most Popular