Vinkmag ad

ایسوفیجائٹس: غذائی نالی کی سوزش

A man holding his throat because of esophagitis

غذائی نالی کی اندرونی جھلی میں سوجن اور جلن کی کیفیت کو ایسوفیجائٹس (Esophagitis) کہتے ہیں۔ غذائی نالی ایک عضلاتی نالی ہے جو منہ سے خوراک اور مشروبات کو معدے تک پہنچاتی ہے۔ ایسوفیجائٹس نگلنے میں درد اور دشواری پیدا کر سکتا ہے، اور بعض افراد میں سینے میں درد بھی محسوس ہوتا ہے۔

اس بیماری کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ عام وجوہات میں معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آنا، انفیکشن، بعض ادویات اور الرجی شامل ہیں۔ ایسوفیجائٹس کا علاج اس کی اصل وجہ اور غذائی نالی کی جھلی کو پہنچنے والے نقصان کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بیماری غذائی نالی کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور خوراک کو معدے تک پہنچانے کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ شدید صورتوں میں وزن میں غیر صحت مند کمی اور پانی کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔

علامات

ایسوفیجائٹس کی عام علامات درج ذیل ہیں:

٭  نگلنے میں دشواری ہونا

٭  نگلنے کے دوران درد محسوس ہونا

٭  خوراک کا غذائی نالی میں پھنس جانا

٭  سینے میں جلن یا جلنے جیسا درد، جسے ہارٹ برن کہا جاتا ہے

٭  معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آنا، جسے ایسڈ ریفلکس کہتے ہیں

بچوں میں علامات

کم عمر بچے اکثر اپنی تکلیف واضح طور پر بیان نہیں کر پاتے، اس لیے ان میں علامات مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔

٭  دودھ یا خوراک لینے میں مشکل ہونا

٭  کھانے کے دوران بے چینی، یا کمر کو پیچھے کی طرف موڑنا

٭  کھانے سے انکار کرنا

٭  مناسب جسمانی نشوونما نہ ہونا

٭  بڑے بچوں میں سینے یا پیٹ میں درد

وجوہات

ڈاکٹر عام طور پر اس بیماری کو اس کی وجہ کے مطابق مختلف اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔ بعض صورتوں میں ایک سے زیادہ عوامل بھی اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

ریفلکس ایسوفیجائٹس

غذائی نالی اور معدے کے درمیان ایک والو ہوتا ہے جسے لوئر ایسوفیجیئل اسفنکٹر کہا جاتا ہے۔ یہ والو معدے کے تیزاب کو غذائی نالی میں واپس آنے سے روکتا ہے۔ جب یہ والو صحیح طریقے سے کام نہیں کرتا تو معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس آ جاتا ہے۔ اس حالت کو گیسٹرو ایسوفیجیئل ریفلکس ڈیزیز یا گَرڈ (GERD)  کہا جاتا ہے۔ بار بار ہونے والا ایسڈ ریفلکس غذائی نالی میں سوزش اور ٹشوز کے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

ایوسینوفیلک ایسوفیجائٹس

یہ بیماری زیادہ تر الرجی سے متعلق ہوتی ہے۔ اس میں خون کے سفید خلیے غذائی نالی میں جمع ہو جاتے ہیں۔ بعض غذائیں مثلاً  دودھ،  انڈے،  گندم،  سویا،  مونگ پھلی اور سی فوڈ اس حالت کو متحرک کر سکتی ہیں۔ کچھ افراد میں ہوا میں موجود الرجی پیدا کرنے والے ذرات بھی اس بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

لیمفوسائٹک ایسوفیجائٹس

یہ غذائی نالی کی ایک نسبتاً کم پائی جانے والی بیماری ہے۔ اس میں لیمفوسائٹس نامی خلیے غذائی نالی کی جھلی میں غیر معمولی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات یہ حالت گرڈ یا ایوسینوفیلک ایسوفیجائٹس سے بھی متعلق ہو سکتی ہے۔

ادویات سے پیدا ہونے والا ایسوفیجائٹس

کچھ ادویات غذائی نالی کی جھلی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر جب گولی کم پانی کے ساتھ نگلی جائے۔ ایسی صورت میں دوا غذائی نالی میں زیادہ دیر تک رہ سکتی ہے اور سوزش پیدا کر سکتی ہے۔

ایسی ادویات میں شامل ہیں:

٭  اسپرین اور آئبوپروفین جیسی درد کش ادویات

٭  ٹیٹراسائکلین اور ڈوکسی سائکلین جیسی اینٹی بائیوٹکس

٭  پوٹاشیم کلورائیڈ

٭  بیسفاسفونیٹس ادویات

٭  کوئنڈین

متعدی ایسوفیجائٹس

بعض اوقات بیکٹیریا، وائرس یا فنگس کے انفیکشن کی وجہ سے بھی غذائی نالی میں سوزش پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر کمزور مدافعتی نظام والے افراد ( ایچ آئی وی/ ایڈز، یا کینسر کے مریضوں) میں پائی جاتی ہے۔

پیچیدگیاں

٭ اگر ایسوفیجائٹس کا علاج نہ کیا جائے تو غذائی نالی کی ساخت میں تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس سے غذائی نالی تنگ ہو سکتی ہے یا اس میں داغ بن سکتے ہیں

٭ بعض صورتوں میں غذائی نالی کی جھلی پھٹ بھی سکتی ہے

٭ ایک اور حالت (بیرٹ ایسوفیگس) غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر علامات چند دن سے زیادہ برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر اس صورت میں طبی مدد حاصل کریں جب تیزابیت کم کرنے والی ادویات (اینٹاسڈ) کے باوجود علامات بہتر نہ ہوں، کھانا کھانا مشکل ہو جائے یا وزن کم ہونے لگے۔ اگر علامات کے ساتھ بخار، سر درد یا جسمانی درد جیسی فلو کی علامات بھی ہوں تو فوری طبی مشورہ لینا چاہیے۔

فوری طبی امداد حاصل کریں اگر:

٭  سینے کا درد چند منٹ سے زیادہ برقرار رہے

٭  محسوس ہو کہ خوراک غذائی نالی میں پھنس گئی ہے

٭  دل کی بیماری کی ہسٹری کے ساتھ سینے میں درد ہو

٭  کھاتے وقت گلے یا منہ میں شدید درد ہو

٭  کھانے کے بعد سانس لینے میں دشواری ہو

٭  شدید یا بار بار قے ہو

٭  قے میں خون یا کافی کے ذرات جیسا مادہ نظر آئے

تشخیص

٭ ڈاکٹر مریض کی علامات، میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنے کی بنیاد پر مرض کی تشخیص کرتے ہیں

٭ مزید معلومات کے لیے بعض ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔ عام تشخیصی طریقوں میں اینڈوسکوپی، ایسوفیجیئل کیپسول ٹیسٹ اور بیریم ایکس رے شامل ہیں

٭ اینڈوسکوپی میں ایک باریک کیمرہ نما آلہ گلے کے ذریعے غذائی نالی میں داخل کیا جاتا ہے

٭ ضرورت پڑنے پر ٹشوز کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے جسے بائیوپسی کہا جاتا ہے

علاج

٭ ایسوفیجائٹس کے علاج کا مقصد علامات کو کم کرنا، پیچیدگیوں سے بچاؤ اور بیماری کی اصل وجہ کا علاج کرنا ہوتا ہے

٭ ریفلکس سے ہونے والی سوزش کے علاج میں اینٹاسڈ ادویات، H-2 ریسیپٹر بلاکرز اور پروٹون پمپ انہیبیٹرز استعمال کیے جاتے ہیں

٭ بعض شدید صورتوں میں سرجری بھی کی جا سکتی ہے جسے فنڈوپلیکیشن کہا جاتا ہے۔

٭ الرجی سے متعلق ایسوفیجائٹس کے علاج میں الرجی پیدا کرنے والی غذا سے پرہیز اور مخصوص ادویات شامل ہوتی ہیں۔

٭ ادویات سے پیدا ہونے والی سوزش میں مسئلہ پیدا کرنے والی دوا کو تبدیل کیا جاتا ہے۔ گولی لینے کے درست طریقے اپنائے جاتے ہیں

٭ اگر بیماری انفیکشن کی وجہ سے ہو تو ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک، اینٹی وائرل یا اینٹی فنگل ادویات تجویز کر سکتے ہیں

احتیاطی تدابیر

٭ طرزِ زندگی میں چند تبدیلیاں ایسوفیجائٹس کی علامات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں

٭ ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جو ایسڈ ریفلکس کو بڑھاتی ہیں، جیسے چکنائی والی غذا، چاکلیٹ، کیفین اور الکحل

٭ گولی ہمیشہ پانی کے ساتھ لیں اور دوا لینے کے بعد فوراً لیٹنے سے گریز کریں

٭ اضافی وزن کم کرنا اور سگریٹ نوشی ترک کرنا بھی مفید ثابت ہوتا ہے

٭ کھانے کے بعد کم از کم تین گھنٹے تک نہ لیٹیں

٭ بستر کا سرہانہ تقریباً چھ سے آٹھ انچ اونچا رکھیں تاکہ معدے کا تیزاب غذائی نالی میں واپس نہ آئے

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Esophagitis: The Inflammation of the Food Pipe

Read Next

مرگی

Leave a Reply

Most Popular