ماہرین کے مطابق دماغی ٹریننگ الزائمر اور دیگر ڈیمنشیا کے خطرے کو تقریباً 25 فیصد تک کم کر سکتی ہے۔ ایک تحقیق میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے 2,832 افراد کو 20 سال تک فالو کیا گیا۔ شرکاء کو مختلف پہلوؤں سے دماغی ٹریننگ دی گئی، جن میں یادداشت، یاد کرنے کی سپیڈ، اور استدلال شامل تھے۔ تحقیق کی قیادت جانز ہاپکنز یونیورسٹی سکول آف میڈیسن، بالٹی مور کی ماہر ڈاکٹر میری لینڈ البرٹ نے کی۔
یادداشت کی ٹریننگ میں شرکاء کو معلومات یاد رکھنے اور بعد میں یاد کرنے کی مشقیں دی گئیں۔ استدلال کی ٹریننگ میں شرکاء نے مسائل حل کرنے اور منطقی فیصلے کرنے کی مشقیں کیں۔ سپیڈ ٹریننگ میں کمپیوٹر پر بصری تفصیلات فوری یاد کرنے کی مشق شامل تھی۔ کنٹرول گروپ میں کوئی مخصوص تربیت نہیں دی گئی اور شرکاء نے اپنی روزمرہ سرگرمیاں جاری رکھیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ سپیڈ گروپ میں ڈیمنشیا کا خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔ دیگر گروپس یا بغیر اضافی سیشن والی ٹریننگ میں کوئی قابل ذکر کمی نہیں دیکھی گئی۔
محققین کے مطابق دماغی ٹریننگ دماغی ذخیرہ مضبوط کرتی، توجہ بڑھاتی اور اعصابی رابطے بہتر کرتی ہے۔ ماہرین نئی مہارتیں سیکھنے، کھیل اور تخلیقی سرگرمیاں بھی دماغی صحت کے لیے مفید قرار دیتے ہیں۔