ماہرین طویل عرصے تک یہ سمجھتے رہے کہ دو ماہ کے بچوں کی بصارت بہت محدود ہوتی ہے۔ تاہم ایک نئی تحقیق نے اس تصور کو چیلنج کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ان بچوں کی دیکھنے کی صلاحیت اندازوں سے کہیں بہتر ہوتی ہے۔ یہ بچے مختلف اقسام کی اشیا میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ ابتدائی دماغی نشوونما کی ایک اہم نشانی ہے۔
تحقیق میں دو ماہ کے 130 بچوں کے فنکشنل میگنیٹک ریزونینس امیجنگ (fMRI) کے ذریعے دماغی سکین کیے گئے۔ بچوں کو روزمرہ زندگی میں عام اشیا کی تصاویر دکھائی گئیں تاکہ ان کے دماغی ردعمل کو ریکارڈ کیا جا سکے۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ جاندار اور بے جان اشیا دیکھنے پر دماغ کے مختلف حصے متحرک ہوئے۔ اس سے واضح ہوا کہ بچے اشیا کو ذہنی طور پر درجہ بند کر رہے ہیں۔ بعض بچوں کا نو ماہ کی عمر میں دوبارہ جائزہ لیا گیا، جس میں فرق کرنے کی صلاحیت مزید مضبوط پائی گئی۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق شیر خوار بچوں کی ذہنی نشوونما سے متعلق ایک اہم پیش رفت ہے۔ تحقیق کے نتائج معتبر جریدے نیچر نیوروسائنس میں شائع ہوئے ہیں۔