ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیوں میں موجود ایک پروٹین ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتی ہے۔ خون میں ہیموگلوبن کی کم مقدار (Low Hemoglobin Count) کسی بیماری یا خاص طبی حالت کی طرف اشارہ ہو کتی ہے۔
مردوں میں اگر ہیموگلوبن 13 گرام فی ڈیسی لیٹر اور خواتین میں 12 گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہو تو اسے کم سمجھا جاتا ہے۔ بچوں میں یہ مقدار عمر اور جنس کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ مختلف لیبارٹریوں میں ان حدود میں کچھ فرق ہو سکتا ہے۔
زیادہ تر صورتوں میں ہیموگلوبن کی تھوڑی بہت کمی روزمرہ زندگی کو متاثر نہیں کرتی۔ اگر کمی زیادہ ہو اور علامات ظاہر ہوں تو یہ اینیمیا (خون کی کمی) کی علامت ہو سکتی ہے۔
کم ہیموگلوبن کی وجوہات
عام کیفیات
کچھ افراد میں اس کی ہلکی کمی بیماری نہیں ہوتی۔ مثلاً حیض اور حمل کے دوران خواتین میں ہیموگلوبن کم ہونا نارمل ہے۔
طبی وجوہات
ہیموگلوبن اس وقت کم ہوتا ہے جب:
٭ جسم میں خون کے سرخ خلیے کم بنیں
٭ سرخ خلیے تیزی سے ٹوٹنے لگیں
٭ جسم سے خون ضائع ہو
سبب بننے والی بیماریاں
٭ اے پلاسٹک اینیمیا
٭ کینسر
٭ کچھ دوائیں، مثلاً کیموتھراپی یا ایچ آئی وی کی ادویات
٭ گردے کی پرانی بیماری
٭ جگر کا سخت ہونا (سیروسس)
٭ ہاجکن اور نان ہاجکن لیمفوما
٭ ہائپو تھائی رائیڈزم
٭ آئی بی ڈی (آنتوں کی سوزش کی بیماری)
٭ آئرن کی کمی سے اینیمیا
٭ وٹامن کی کمی سے اینیمیا
٭ لیوکیمیا
٭ ملٹی پل مائیلوما
٭ مائیلوڈیسپلاسٹک سنڈروم
٭ روماٹائیڈ آرتھرائٹس
٭ سیسے کا زہر
خلیے تیزی سے ٹوٹنے کا سبب بننے والی بیماریاں
٭ تلی کا بڑھ جانا (سپلینو میگالی)
٭ ہیمولیسز
٭پورفیریا
٭ سِکل سیل اینیمیا
٭تھیلیسیمیا
خون ضائع ہونے کی وجوہات
٭ معدے یا آنتوں سے خون بہنا (السر، کینسر، بواسیر وغیرہ)
٭ بار بار خون عطیہ کرنا
٭ حیض کے دوران زیادہ خون آنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
کچھ لوگوں کو ہیموگلوبن کم ہونے کا پتا خون عطیہ کرتے وقت چلتا ہے۔ اگر ہیموگلوبن تھوڑا سا کم ہو تو چند ماہ بعد دوبارہ ٹیسٹ کروائیں۔ اگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اگر یہ علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں:
٭ مسلسل تھکن
٭ جلد یا مسوڑھوں کا پیلا ہونا
٭ سانس لینے میں دشواری
٭ دل کی تیز یا بے ترتیب دھڑکن
تشخیص و علاج
ہیموگلوبن کی کمی کی تصدیق کیلئے ڈاکٹر سی بی سی ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ میں ہیموگلوبن کم ظاہر ہو تو وجہ معلوم کرنے کے لیے مزید ٹیسٹ ضروری ہوں گے۔ علاج کا فیصلہ اس کے سبب کی بنیاد پر کیا جائاے گا۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔