سائنس دانوں نے بائی پولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا کی بروقت شناخت کے لیے نیا کلینیکل ماڈل تیار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل دونوں بیماریوں کے خطرات کی بیک وقت پیشگوئی کر سکتا ہے۔
تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی، کنگز کالج لندن اور این آئی ایچ آر آکسفورڈ ہیلتھ بائیومیڈیکل ریسرچ سینٹر کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس میں برطانیہ کے مختلف مراکز سے ہزاروں مریضوں کے گمنام الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز استعمال کیے گئے۔ تجزیے سے ماڈل کی درستگی اور افادیت واضح ہوئی۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام طبی ماحول میں آسانی سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ ذہنی صحت میں ابتدائی مداخلت اور بیماری کی روک تھام کے لیے بہت اہم پیش رفت ہے۔ توقع ہے کہ اس سے بائی پولر ڈس آرڈر اور شیزوفرینیا جیسے ذہنی امراض کے شکار لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ تحقیق کے نتائج عالمی جریدے دی لینسیٹ سائیکاٹری میں شائع ہوئے ہیں۔