ماہرین کے مطابق، وزن کم کرنے والی گولی GLP-1 فوڈ انڈسٹری میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ امریکہ میں یہ دوا جنوری سے دستیاب ہوگی اور عام شہری بھی انجیکشن کے بجائے گولی استعمال کر سکیں گے۔ اس کی وجہ اس کا کم قیمت ہونا اور بعض مریضوں کا انجیکشن سے ہچکچانا ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے نووو نورڈسک کی ویگووی GLP-1 گولی کی منظوری دے دی ہے۔ اس منظوری کے بعد سے فوڈ کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ ایلی للی کی اسی نوعیت کی دوا اگلے سال منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، وزن کم کرنے والی ادویات کے بڑھتے استعمال سے نمکین سنیکس، مشروبات اور بیکری مصنوعات کی خریداری کم ہو رہی ہے۔ دوسری طرف پروٹین اور فائبر والی خوراک کی طلب بڑھ رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 40 فیصد امریکی بالغ موٹاپے کا شکار ہیں اور تقریباً 12 فیصد بالغ افراد GLP-1 ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ کارنیل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، یہ دوا استعمال کرنے والے گھرانوں نے گروسری اخراجات میں 5.3 فیصد اور فاسٹ فوڈ میں 8 فیصد کمی کی ہے۔