ڈسکوگرام ایک امیجنگ ٹیسٹ ہے جو کمر درد کی وجہ جاننے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے ڈاکٹر یہ تعین کر سکتا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کی کون سی ڈسک درد کا سبب بن رہی ہے۔ اس ٹیسٹ کو ڈسکوگرافی بھی کہا جاتا ہے۔
ریڑھ کی ہڈی کی ڈسکس، مہروں کے درمیان نرم گدّوں کا کام کرتی ہیں۔ ڈسکوگرام کے دوران ایک یا زیادہ ڈسکس کے مرکز میں رنگ دار مادہ داخل کیا جاتا ہے۔ یہ رنگ ڈسک کی بیرونی سطح کی دراڑوں میں بھی پھیل سکتا ہے۔ بعد میں یہ ایکسرے یا سی ٹی سکین میں واضح دکھائی دیتا ہے۔
ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے
ڈسکوگرام عموماً کمر درد کے ابتدائی معائنے میں استعمال نہیں ہوتا۔ اگر دوائیں اور فزیوتھیراپی مؤثر نہ ہوں تو یہ ٹیسٹ تجویز کیا جا سکتا ہے۔
کچھ ڈاکٹر سرجری سے پہلے ڈسکوگرام تجویز کرتے ہیں۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ کون سی ڈسک نکالنی ہے۔ یہ ٹیسٹ ہمیشہ درست نشاندہی نہیں کرتا۔ اسی لیے زیادہ تر ڈاکٹر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین پر انحصار کرتے ہیں۔
خطرات
ڈسکوگرام عام طور پر محفوظ ہے، مگر ہر پروسیجر کی طرح اس میں کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔ ان میں انفیکشن، طویل مدتی کمر درد میں اضافہ، سر درد، اعصاب یا خون کی نالیوں کو نقصان، اور رنگ دار مادے سے الرجی شامل ہیں۔
تیاری کا طریقہ
ٹیسٹ سے پہلے بعض خون پتلا کرنے والی دوائیں بند کرنا پڑ سکتی ہیں۔ طبی ٹیم واضح ہدایات فراہم کرے گی کہ کون سی دوائیں لی جا سکتی ہیں۔ ٹیسٹ والے دن صبح کھانے پینے سے گریز ضروری ہے۔
آپ کیا توقع کر سکتے ہیں
ڈسکوگرام کلینک یا ہسپتال کے امیجنگ روم میں کیا جاتا ہے۔ ٹیسٹ 30 سے 60 منٹ میں مکمل ہوتا ہے، جو ڈسکس کی تعداد پر منحصر ہوتا ہے۔ تاہم مریض کو تقریباً تین گھنٹے وہاں گزارنا پڑ سکتے ہیں۔
پروسیجر سے پہلے
٭ مریض ہوش میں ہوتا ہے
٭ اسے سکون آور دوا دی جا سکتی ہے
٭ انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بائیوٹکس بھی دی جا سکتی ہیں
پروسیجر کے دوران
٭ مریض کو میز پر پیٹ یا کروٹ کے بل لٹایا جاتا ہے
٭ جلد صاف کرنے کے بعد سن کرنے والی دوا لگائی جاتی ہے
٭ فلوروسکوپی کے ذریعے سوئی کو درست مقام تک پہنچایا جاتا ہے
٭ ڈسک میں رنگ دار مادہ داخل کیا جاتا ہے
٭ ایکسرے یا سی ٹی اسکین کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا جاتا ہے
اگر رنگ ڈسک کے مرکز تک محدود رہے تو ڈسک محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ اگر رنگ باہر پھیل جائے تو یہ ڈسک میں گھساؤ پیدا ہونے کی علامت ہے۔ یہ درد کا سبب ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا۔ اگر ڈسک درد کا سبب ہو تو انجیکشن کے دوران روزمرہ کے درد جیسا احساس ہوتا ہے۔ غیر متاثرہ ڈسک میں درد معمولی یا نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ مریض سے درد کی نوعیت اور شدت بتانے کو کہا جاتا ہے۔
پروسیجر کے بعد
٭ مریض کو 30 سے 60 منٹ نگرانی میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ گھرجاتے ہوئے کسی فرد کا ساتھ ہونا ضروری ہے
٭ انجیکشن کی جگہ یا کمر میں چند گھنٹے عارضی درد رہ سکتا ہے
٭ 24 گھنٹے تک کمر خشک رکھنا ضروری ہے۔ اگر شدید درد یا بخار ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں
نتائج
٭ ڈاکٹر سکین امیجز اور درد کا جائزہ لیتا ہے تاکہ کمر درد کے اصل منبع کی نشاندہی کی جا سکے
٭ یہ معلومات علاج یا سرجری کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں
٭ ڈاکٹر عموماً صرف ڈسکوگرام کے نتائج پر انحصار نہیں کرتے کیونکہ گھسی ہوئی ڈسک ہمیشہ درد پیدا نہیں کرتی۔ اس لیے اس کے نتائج دیگر ٹیسٹوں مثلاً ایم آر آئی، سی ٹی سکین کے ساتھ ملا کر اخذ کیے جاتے ہیں۔ نتائج کی روشنی میں علاج کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔