بے حس وحرکت 23سال

27

وہ گاڑی کے حادثہ میں شدید زخمی ہوا لیکن اس کی خوش قسمتی کہ اسے ہسپتال لے جانے کا فوری انتظام ہوگیا۔ ایمرجنسی میں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ہسپتال کے متعلقہ وارڈ میں داخل کرلیاگیا۔ حادثہ ایک ترقی یافتہ ملک میں ہو ا تھا جہاں کے ہسپتالوں میں عام طور پر علاج اور دیکھ بھال کی سہولتیں اچھی ہی ہوتی ہیں۔اس مریض کا علاج بھی بہتر انداز سے کیا گیا‘ چنانچہ اس کے زخم آہستہ آہستہ مندمل ہوتے گئے لیکن نہ تو وہ کوئی حرکت کرسکتا‘ نہ ہی بات چیت اور نہ ہی اپنے اردگرد ہونے والی سرگرمیوں پر کوئی ردعمل ظاہر کرسکتا تھا ۔
ڈاکٹروں کا خیال تھاکہ وہ بے ہوش ہے او ر رفتہ رفتہ اس کی بے ہوشی ختم ہوجائے گی‘ تاہم وہ طویل ہوتی چلی گئی اور دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے ۔

ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد اس کیفیت میں کم وبیش ربع صدی (۲۳ سال) ہوچکی تھی ۔ایک دن ڈاکٹروں نے اس کے دماغ کی سکیننگ رپورٹ دیکھنے کے بعد انکشاف کیا کہ وہ بے ہوش نہیں بلکہ اس کا جسم فالج کا شکار ہے۔
حاثہ کے وقت مریض (Rom Houben) کی عمر بیس سال سے کچھ زائد تھی اور اب وہ چھیالیس برس کاہو چکا ہے ۔وہ اب ایک خصوصی ’’ کی بورڈ‘‘ کے ذریعے لوگوں سے رابطہ کرنے اور اپنے خیالات اور ضروریات سے انہیں آگاہ کرنے کے قابل ہو چکا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ حادثے کے کچھ ہی دیر بعدہوش میں آگیاتھا اوراپنے تئیں چیخ رہا تھا لیکن کوئی اس کی آوازنہ سن سکا ۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ جب وہ چیخ رہا تھا تواس کا جسم مفلوج تھا‘لہٰذا وہ دماغ کاکوئی حکم نہ مان سکا اور نہ ہی ڈاکٹروں اور نرسوں کو اپنی کیفیت سے آگاہ کر سکا۔

مریض اپنی ۲۳ سالہ بے بسی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
’’مجھے لگتا ہے کہ اتنے برس میں نے خواب دیکھتے ہوئے گزار دیے۔ میں وہ دن کبھی نہ بھول سکوں گا جب ڈاکٹروں کو بالاآخر پتہ چلا کہ میں کومے میں نہیں ہوں۔ اُس دن مجھے ایسا لگا جیسے ایک نئی زندگی ملی ہو‘‘۔
بظاہر یہ ایک منفرد سا واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس نہیں ہے ۔اس نوعیت کے تقریباً چالیس فیصد کیسز میں اگر ڈاکٹر مزید گہرائی میں جاکرجائزہ لیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ان کے دماغ کو نقصان نہیں پہنچا اوریہ کہ وہ ہوش میں ہیں۔
طب کے میدان میں ہونے والی غیر معمولی ترقی نے بیماریوں اور ان کے اسباب کو سمجھنا اور ان کو سامنے رکھ کر موزوں ادویات تجویز کرنا معمول کی ایک کارروائی بنادیا ہے۔ جسم کے ہر حصے اور اس کے مختلف نظاموں کو جانچنے کے لیے طرح طرح کی مشینیں اور آلات موجود ہیں ۔بظاہرتو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر وسائل دستیاب ہوں تو پیچیدہ سے پیچیدہ بیماری کا علاج بھی مشکل نہیں۔ دوسری جانب ترقی یافتہ ملکوں کے بارے میں بجاطورپر یہ تاثر موجود ہے کہ وہاں طبی سہولتیں عام ہیں، عموماً مریض پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے اور وسائل کی قلت بھی نہیں ہے۔
اس تناظر میں وہاں سے وقتاً فوقتاً شائع اور نشر ہونے والی ایسی خبریں اس واضح حقیقت کی نشان دہی کرتی ہیں کہ انسانی استعداد اور کارکردگی میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ انسان کتنا ہی آگے بڑھ جائے، غلطی کا امکان بہرحال باقی رہتا ہے ۔ اسے اپنی سطح پر غلطی کے امکانات کوختم کرنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے لیکن یقین رکھنا چاہیے کہ اس کی کامیابی کا انحصار اس کامل اور اکمل ذات کی جانب سے مدد اور تائید پر ہے جو کائنات کا نظام چلا رہی ہے او ر جس نے انسانوں کی زندگی اور موت کے فیصلے کرناہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x