Vinkmag ad

پاکستان میں 5لاکھ خواتین نابینا پن کی شکار

پاکستان میں تقریباً 5 لاکھ خواتین نابینا پن کی شکار ہیں۔ نابیناپن اور بینائی کی شدید کمزوری کی شرح خواتین میں زیادہ ہے۔ اس کا سبب ان کی بڑی تعداد کا آئی کیئر تک رسائی نہ ہونا ہے۔ ان خیالات کا اظہار الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں موتیا سے متعلق ایک آگاہی سیمینار میں کیا گیا۔

سیمینار سے خطاب میں مقررین نے بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2.2 ارب افراد بصارت سے محروم ہیں۔ ان میں سے کم از کم ایک ارب افراد کو اس محرومی سے بچایا جا سکتا تھا۔ اس کی شرح کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں چار گنا زیادہ ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق نابینا پن کی وجہ سے عالمی پیداواری صلاحیت کو سالانہ 411 ارب ڈالرز کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

سیمینار سے خطاب میں ڈاکٹر صبیح الدین نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کی شرح بہت زیادہ ہے۔ یہ دیگر مسائل کے علاوہ آنکھوں کے امراض میں اضافے کا بھی سبب بن رہی ہے۔ ۔

انہوں نے کہا کہ آبادی اور اوسط عمر میں اضافے سے موتیا کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق عمر میں اضافہ موتیا کا بڑا سبب ہے جسے روکا نہین جا سکتا۔ تاہم علاج کی سہولیات میں اضافے سے لوگوں کی بڑی تعداد کو نابینا پن سے بچایا جا سکتا ہے۔

خواتین آبادی کا کم و بش نصف بنتی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں خواتین نابینا پن کی شکار ہوں تو اسے بہت سنجیدہ لینا چاہیے۔ ایسے میں ہسپتالوں میں آئی کیئر کے شعبے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

Vinkmag ad

Read Previous

Fake claims | Nutritionist reaction | Reheating tea | Nashte mei fruit kyun na khayein | Shifa News

Read Next

پان کھانے کے نقصانات

Leave a Reply

Most Popular