پنجاب میں بچوں میں سٹنٹنگ کی شرح 2018 کے 36 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد رہ گئی ہے۔ سٹنٹنگ میں عمر کے لحاظ سے بچے کا قد کم رہ جاتا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ طویل عرصے تک مناسب غذائیت نہ ملنا ہے۔
یہ اعداد یونیسیف پاکستان اور پنجاب کے محکمہ صحت کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے۔ حکام کے مطابق صوبے میں کم وزن بچوں کی شرح بھی 15 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد ہوگئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کے مطابق 52 فیصد مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلاتی ہیں۔ انہوں نے پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ پلانے پر زور دیا۔ چھ ماہ بعد مناسب غذا کے ساتھ دودھ پلانا جاری رکھنے کی ہدایت کی۔
حکام کے مطابق غذائی کمی سے نمٹنے کے لیے 29 کینگرو مدر کیئر مراکز قائم ہیں۔ اس مقصد کے لیے 60 غذائی بحالی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ 2024 سے اب تک تقریباً 26 لاکھ بچوں کی غذائی سکریننگ کی جا چکی ہے۔