کہیں بہرہ نہ کر دے اونچی آواز میں موسیقی

19

سائنسی ایجادات نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے اور ہمیں بہت سی سہولیات فراہم کی ہیں‘ وہاں ہمیں کچھ مسائل بھی عطا کئے ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق صحت کے ساتھ بھی ہے۔شور کی آلودگی بھی اسی ترقی کی دین ہے ۔ سڑکوں پر رکشوں، بسوں ‘کاروں اورٹرکوں کا شور ہے تو گھروں میں میوزک ‘ سلائی مشینیں اور دیگر برقی آلات ہماری سمع خراشی کا سبب بن رہے ہیں۔

شور‘ محض ایک کوفت نہیں بلکہ انسانی صحت کا ایک اہم مسئلہ ہے جسے ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں میں بہت سنجیدہ لیا جاتا ہے۔ وہاں سڑکوں پر اندھادھند ہارن بجانا انتہائی بدتمیزی شمار ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ضرورت ہو یا نہ ہو، ہارن بجانااپنا حق سمجھا جاتاہے اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نصب پریشر ہارن تو اتنی زور سے بجتے ہیں کہ دل دہل جاتا ہے ۔یوں لگتا ہے کہ یہاں اس بارے میں کوئی قانون ہی موجود نہیں اور اگر ہے تواس کی پرواہ کسی کونہیں۔

آواز کی آلودگی کیا ہے
ہوا‘پانی‘خوراک اور ماحول میں غیر ضروری اور نقصان دہ کثافتوں کے شامل ہونے کو آلودگی کہتے ہیں۔فضائی ماحول میں کئی طرح کی آلودگیاں مثلاً گردوغبار‘دھواں‘ تابکاری اور شور وغیرہ شامل ہیں۔ ہر وہ آواز جو انسانی معمولات زندگی(مثلاً کام کاج‘ نیند اورگفتگو وغیرہ)میں خلل ڈالے، شورکہلاتی ہے۔

شور کا باعث بننے والے عوامل کی فہرست بہت طویل ہے تاہم ان میں سے کچھ ایسے ہیں جن کا ہمیں روزمرہ زندگی میں سامنا رہتا ہے۔ شور کو ہم دو بڑی اقسام یعنی گھر کے اندر اور گھر سے باہر ہونے والے شور میں تقسیم کر سکتے ہیں۔گھر کے اندرشور کے کئی ذرائع ہیں جن میں آلات موسیقی (بشمول ریڈیو‘ٹیلی ویژن‘ ہیڈ فون‘ سپیکر)‘گھریلو استعمال کے برقی آلات( مثلاً سلائی مشین‘واشنگ مشین ‘پانی نکالنے والا پمپ،یو پی ایس، جنریٹر)بچوں کے کھلونے‘مکسر‘ جوسر‘ قالین اور کمرے کی صفائی کرنے والے کلینرز وغیرہ شامل ہیں۔
گھروں کے باہر موٹر سائیکل‘رکشہ‘ کار‘ بس‘ ٹرک،ٹریکٹر ٹرالی‘ گھاس کاٹنے والی مشین‘ بلڈوزر،ریلوے انجن اور تعمیرات میں استعمال ہونے والی مشینری وغیرہ شامل ہیں۔ ہوائی اڈے کے پاس رہنے والوں‘ سکولوں اور ہسپتالوںکے لئے جہازوں کا شورخاصی زحمت کا باعث بنتا ہے۔

انسانی جسم پر اثرات
شور سے انسانی جسم کے کئی اعضا اور نظام متاثر ہوتے ہیں لیکن سماعت پر اس کے اثرات سب سے زیادہ اور براہ راست پڑتے ہیں۔ تیز آواز کان کے اندرونی حصے میں سننے کے عمل سے متعلق خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ ان خلیوں کے کمزور ہونے سے ہماری سننے کی حس بتدریج کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کمزوری کا تعلق براہ راست آواز کی شدت اوراس کے دورانیے سے ہے۔

شور کی شدت 160ڈی بی ہو تو یہ سماعت کو فوراً زائل کرسکتی ہے۔ یہ بہرہ پن وقتی بھی ہو سکتا ہے اور مستقل بھی۔ مختصر وقت کا بلند شور وقتی طور پر جبکہ طویل دورانیے کا شور مستقلاًبہرہ کردیتاہے۔ اس سے دماغی‘اعصابی اور واسکولر نظام (vascular system)بھی متاثر ہوتا ہے۔ اعصابی تنائو‘ بے چینی‘ بے خوابی‘ چڑچڑا پن‘ ہائی بلڈ پریشر، تھکاوٹ‘ بے قاعدہ دھڑکن اور بدہضمی وہ مسائل ہیں جو زیادہ شور میں رہنے والے لوگوں کو ہوسکتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات دل کا دورہ بھی پڑسکتا ہے۔ نیند پوری نہ ہونے کا ایک سبب شور بھی ہے جس کی وجہ سے صحت کے متعدد مسائل جنم لیتے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سماعت صرف اس وقت زائل ہوتی ہے جب کوئی زیادہ شدت والے شور(عموماً 80 ڈی بی سے زیادہ) سے متاثر ہوتا ہے لیکن اعصابی‘ دماغی اور دیگر مسائل کم شدت والے شور سے بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

خطرے کی زد میں کون
اگرچہ شور فضا میں شامل ہو کر عمومی طور پر تمام افراد کو متاثر کرتا ہے لیکن کچھ افراد اُس سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔کانوں پر ہیڈ فون لگا کر مسلسل اونچی آواز میں موسیقی سننے والے افراداس کی ایک مثال ہیںجواپنی قوت سماعت کی تباہی کا سبب خود بنتے ہیں۔ابتدائی طور پر ایسے لوگوں کو وقتی بہرہ پن ہوتا ہے لیکن اگر یہ اپنے شوق سے بازنہ آئیں تو مستقل بہرہ پن اُن کا مقدر بن سکتا ہے۔

شہر کے مصروف چوراہوں اور بازاروں میں ڈیوٹی پرمامور ٹریفک پولیس کے علاوہ بازاروں میں روزگارکے سلسلے میں بیٹھے دکاندار‘سیلز مین اور دیگر عملہ بھی اس سے متاثر ہوتاہے۔آٹورکشہ ڈرائیور‘ٹریکٹر ڈرائیور‘ ریلوے انجن ڈرائیورز بھی مسلسل شور میں رہنے کی وجہ سے اپنی سماعت زائل کرواسکتے ہیں۔ اسی طرح پرنٹنگ پریس‘ ٹیکسٹائل ملوں، فیکٹریوں اور اسی طرح کی دوسری مشینری استعمال کرنے والے لوگ بھی سماعت سے ہاتھ دھوسکتے ہیں۔

بچائو کی تدابیر
شور کی آلودگی سے بچنے کے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو اس سے ہونے والے نقصان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ جب اس آلودگی کی سنگینی لوگوں پر واضح ہوگی تووہ اس سے بچائو کے لئے اقدامات بھی کریں گے اور اس پرآواز بھی اٹھائیں گے۔ شور کو اُس کی پیداہونے کی جگہ پرہی کم کیاجانا چاہیے۔اس کے لیے گھریلو استعمال کی مشینری کا وقتاً فوقتاً باقاعدگی سے معائنہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ اُن میں شور پیدا کرنے والے عوامل کی روک تھام کی جا سکے۔
شور پیدا کرنے والی مشینری اورخاص طور پر ذرائع آمدورفت کے حوالے سے قانون سازی کی جانی چاہیے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایاجانا چاہیے۔زیادہ شور پیدا کرنے والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور خلاف ورزی کی صورت میں اُن پر بھاری جرمانہ عائد کیاجائے۔

ایسی جگہیں جہاں شور کوکم کرنا ممکن نہ ہو‘ وہاں کام کرنے والے کارکنوں کو کانوں پر لگانے کے لئے فوم یا ائیرمفس(muffs ear) فراہم کئے جائیں۔ ایسے ورکرز کی ڈیوٹی کا دورانیہ بھی کم ہونا چاہیے اور ان کی ہفتہ وارتعطیلات باقی اداروں سے زیادہ ہونی چاہئیں۔شوقیہ موسیقی سننے والے اور اونچی آواز سے ریڈیویا ٹیلی ویژن سننے والوں کو اس کا دورانیہ کم کرنا چاہیے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x