پولو بادشاہوں کا کھیل

19

پولو(Polo) بلتی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گیندکے ہیں۔یہ چوگان کے نام سے بھی مشہور ہے جسے ہاکی کی طرز پر کھیلا جاتا ہے۔اس میں گھڑسواروں کی دوٹیمیں حصہ لیتی ہیںجن کے ہاتھوں میں بانس کی طرز کی اسٹکس ہوتی ہیں جن کی مدد سے وہ گیند پر ضرب لگاتے ہیں۔چونکہ یہ کھیل گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلا جاتا ہے اس لیے چترالی زبان میں اسے ”استوڑ غاڑ“ یعنی گھوڑوں کا کھیل کہتے ہیں۔ گلگت اور بلتستان میں یہ کھیل آج بھی بہت مقبول ہے اور ان کی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔
کہتے ہیں کہ ہندوستان میں خاندانِ غلاماں کے اولین بادشاہ قطب الدین ایبک کی موت پولو کھیلتے ہوئے واقع ہوئی۔اس کو یہ کھیل بہت پسند تھا اور کھیل کے دوران گھوڑے سے گرنے کے باعث وہ شدیدزخمی ہو گیا اور جان کی بازی ہار گیا۔یہ بھی مشہور ہے کہ مغل بادشاہ اس کھیل کے مقابلوں کا انعقاد کروا کراس میںپھرتی اور چستی کا مظاہرہ کرنے والے افراد میں سے فوج کے لیے کمانڈر منتخب کرتے تھے۔
پولو دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے اور ہر ٹیم چار کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔کھیل میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اسٹکس کی مدد سے بال کو ہٹ کر کے مخالف ٹیم کے خلاف گول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جو ٹیم زیادہ گول کر لے وہ جیت جاتی ہے۔
چند بنیادی باتیں
اس کھیل میں اچھی کارکردگی کا انحصار سوار اور گھوڑے دونوں کی مہارت اور چستی پر ہوتا ہے۔یہ ایک تیز کھیل ہے جسے جیتنے کے لیے مندرجہ ذیل امور قابل توجہ ہیں:
گھڑسواری (riding)
چونکہ یہ کھیل ایک جانور کے ساتھ کھیلا جاتا ہے جس کو قابو کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے لہٰذا کھیل میں پہلا مرحلہ گھڑسواری کے فن سے واقف ہونا ہے۔اس کھیل میںگھوڑے کو قابو میں رکھنا ہی اہم ٹِپ ہے جس کا صحیح طریقہ کوچ آپ کو سکھائے گا۔ ایک اچھا گھڑ سوار آسانی سے کھیل جیت سکتا ہے لیکن وہ افراد جو یہ کھیل سیکھ رہے ہیں ان کو اس کے لیے تقریباًچھے مہینے سے سال تک کا وقت درکار ہوگا۔مسلسل پریکٹس سے اس فن میں مہارت حاصل کی جاسکتی ہے ۔
پھرتی،مستعدی اور چالاکی
پولو صرف گھوڑا دوڑانے اور گول کرنے کا ہی نام نہیں بلکہ اس میںکھلاڑی کی قوتِ فیصلہ کا بھی امتحان ہوتا ہے۔مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کی حرکات وسکنات پر نظر رکھ کرمختصر وقت میں ٹھیک جگہ پر پہنچ کر گول کرنایا مخالف ٹیم کے لیے گول کرنے میں دشواری پیدا کرنا ہی اس کا بنیادی رازہے۔اس لیے یہ کھیل کھیلتے ہوئے ان باتوں کو مدنظر رکھا جائے۔
گول کیسے کریں
اسٹک کو اپنے ہاتھ میں اس طرح سے پکڑا جائے کہ ہاتھ کی گرفت مضبوط ہو ۔گول کرنے کے لیے بال پر نظر رکھیں۔موقع ملتے ہی گیند کو ہٹ کریں۔
کھیل میں سات سات منٹ کے چار ہاف ہوتے ہیں جنہیں ”چکر “ کہا جاتا ہے۔اگر دونوں ٹیموں کا سکور برابرہو جائے اور وقت بھی ختم ہو جائے تواضافی وقت یعنی چکر دیا جاتا ہے۔مقررہ وقت میںجو ٹیم پہلے گول کر لے وہ فاتح قرار پاتی ہے۔
میدان اور گھوڑے
یہ کھیل گھاس پر کھیلا جاتا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھنا اہم ہے کہ اس میدان کی سطح بالکل ہموار ہو،اس لئے کہ کسی قسم کا گڑھا یا ڈھلوان گھوڑے اور سوار کی چوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ میدان جتنااچھا ہوگاکھیلنے والوں کے لیے اُتنی ہی آسانی ہوگی۔یہ کھیل جن گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلا جاتاہے ان کا انتخاب مضبوط جسامت،بہترین نسل اور ان کی سخت جانی کے مطابق کیا جاتا ہے۔
پولو اور فائدے
یہ کھیل ایک فائدہ مند سر گرمی ہے۔اس سے جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس کو کھیلنے سے کندھے اور جوڑ مضبوط ہوتے ہیں۔جو افراد وٹامن ڈی کی کمی کاشکار ہیں ان کے لیے بھی یہ بہت مفید ہے کیونکہ یہ کھیل کھلی فضا میں کھیلاجاتا ہے جس کے باعث سورج کی شعاعوں سے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ٹیم کی صورت میں کھیلا جانے والا یہ کھیل دوستی،بھائی چارے ، تعاون اور مقابلے کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔یہ سرگرمی عضلاتی نظام کو بھی بہتر کرتی ہے۔یہ ایک مکمل ورزش ہے جس کے بعدمزید کسی سرگرمی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
پولو کے کھیل میںہاتھوں،کہنیوں،ٹانگوں،انگلیوں،کلائیوں اور کندھوں پرچوٹ لگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔مندرجہ ذیل ٹپس پر عمل کرنے سے ان چوٹوںسے بچا جا سکتا ہے:
٭اس کھیل کو شروع کرنے سے پہلے وارم اپ ضرور کریں۔ایسا کرنے سے ٹانگوں کے پٹھے اور جوڑوں کی کارگردگی بہتر ہوگی۔
٭پولو چونکہ تیزی سے کھیلا جانے والا کھیل ہے اس لئے اس کے دوران سر،ٹخنے،پاو¿ں اورگھٹنے کوچوٹ لگ سکتی ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے مخصوص جوتے،دستانے اور ہیلمٹ استعمال کیا جائے۔
٭ یہ کھیل جسمانی سرگرمی کا حامل ہے اور عموماًدھوپ میںکھیلا جاتا ہے جس کی وجہ سے کیلوریزبہت زیادہ جلتی ہیں۔اس لیے اپنی غذا پر بھرپور توجہ دیںاور پانی لازماً پیئں۔
یہ ایک مفید سرگرمی ہے جس میں اب خواتین بھی دلچسپی لے رہی ہیں۔اس کھیل میں بچوں اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تاکہ وہ توانا اور صحت مند رہ سکیں۔

Leave a Reply

avatar
  Subscribe  
Notify of