خواتین میں بانجھ پن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ

ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 48 ملین جوڑے اولاد سے محروم ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ اولاد نہ ہونے پر لوگوں کی قابل ذکر تعداد خواتین کو ہی قصور وار ٹھہراتی ہے جو کہ درست نہیں۔ مردوں کے تولیدی مسائل اور کچھ صورتوں میں بغیر کسی ظاہری وجہ کے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ مردوں اور خواتین میں بانجھ پن کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ ان سے مسئلے کا علم ہو جاتا ہے۔

خواتین میں بانجھ پن کی ظاہری علامات میں ماہواری کا دورانیہ بہت لمبا ( 35 دن سے زائد) یا بہت چھوٹا (21 دن سے کم ) ہونا اور حیض کا بے قاعدہ یا نہ ہونا قابل ذکر ہیں۔ اگر مسلسل کوشش کے باوجود شادی کے ایک سال بعد بھی حمل نہ ٹھہرے تو ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق ٹیسٹ کروائیں۔ 35 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین چھ ماہ بعد حمل نہ ٹھہرنے کی صورت میں گائناکالوجسٹ کو دکھائیں۔

تشخیصی ٹیسٹ

خواتین میں بانجھ پن کی تشخیص کے لیے یہ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

بیضہ دانی کا معائنہ

اس ٹیسٹ (ovarian reserve testing) میں بیضہ دانی کی انڈے بنانے کی صلاحیت، انڈوں کی تعداد اور معیار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کے لیے خون کے ٹیسٹ، ایکسرے یا الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔ 35 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے یہ ٹیسٹ ضروری ہے۔ وہ خواتین بھی یہ ٹیسٹ کروائیں جن میں کسی بھی وجہ سے انڈوں کی تعداد کم ہو۔

ہارمونز کے ٹیسٹ

خون کے نمونوں سے ان ہارمونز کا لیول چیک کیا جاتا ہے جو حیض میں باقاعدگی اور جنسی نشوونما کو یقینی بنانے کے علاوہ انڈے بننے کے عمل کو متحرک کرتے، اخراج بیضہ اور بارآوری کے عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان میں ایل ایچ (luteinizing hormone)، ایف ایس ایچ (follice stimulating hormone)، پروجیسٹرون، پرولیکٹن اور ایسٹروجن قابل ذکر ہیں۔

پیڑو کا الٹراساؤنڈ

فیلوپی نالی اور یوٹرس کی بیماریوں کی جانچ کے لئے پیڑو (pelvis) کا الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے تفصیلی معائنے کے لiے ذیل میں بیان کردہ ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔

رحم اور فیلوپی نالیوں کا جائزہ

اس ٹیسٹ (Hysterosalpingogram) میں ایک نالی کے ذریعے رنگدار مادہ (dye) رحم میں داخل کر کے ایکسرے لیا جاتا ہے۔ اس سے یوٹرس کی ساخت اور نالیوں میں رکاوٹ جیسے مسائل کی تشخیص ہو جاتی ہے۔

رحم اور بیضہ دانی کی جانچ

اس طریقہ کار (Transvaginal Ultrasonography) میں چھڑی نما آلے (probe) کو شرمگاہ میں داخل کر کے رحم اور بیضہ دانیوں کے غیر معمولی پن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فیلوپی نالیوں، بیضہ دانیوں اور رحم کے مسائل کی جانچ کے لیے لیپروسکوپی، سرجری یا جینیاتی مسائل کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں۔

علاج کیا ہے

خواتین اور مردوں میں بانجھ پن کی وجہ کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج کیا جاتا ہے۔ مثلاً اینٹی بائیوٹک ادویات سے انفیکشن کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ ادویات اور کاؤنسلنگ سے جنسی عمل کے مسائل کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ہارمونز کے مسائل کی صورت میں بھی ادویات دی جا سکتی ہیں۔ پھر بارآوری کے لیے اے آر ٹی (Assisted reproductive technology) کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں مادہ منویہ کو قدرتی طریقے یا سرجری کے ذریعے نکال کر خاتون کے جسم میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق بانجھ پن کے 80 سے 90 فی صد کیسز میں ادویات اور سرجری کے ذریعے علاج ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے اولاد کے خواہشمند جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور اپنا مکمل علاج کروائیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Common myths about dandruff

Read Next

جعلی و غیر معیاری ادویات کی فروخت کا انکشاف

Leave a Reply

Most Popular