موسم گرما اور صحت گرمیاںاور کرکٹ کابخار

161

ٹی20 ورلڈ کپ ویسٹ انڈیزکی فتح کے ساتھ ختم ہو گیا تاہم اپنے پیچھے پاکستان بھر میں کرکٹ کا بخار چھوڑ گیا ۔ پارکوں اورگلی محلوں میں بچے جگہ جگہ وکٹیں لگا کرشوق پورا کرنے لگے۔ ایسے میں عمر بھلاکیسے گھر بیٹھا رہ سکتا تھا ، اس لئے کہ اسے اپنے بابا زہیب کی طرح کرکٹ سے کچھ زیادہ ہی لگاو¿ تھا۔ زہیب زمانہ طالب علمی میں کالج کی کرکٹ ٹیم کے کیپٹن رہے تھے لیکن اب کھیل کے لئے وقت نکالنا ان کے لئے ذرا مشکل ہو گیا تھا۔ پچھلے سال گرمیوں میں عمر کو لو لگ گئی تھی جس کی وجہ سے اس کی مما فائزہ نے اس کے کرکٹ کھیلنے پر ہی پابندی لگا دی ۔
عمر اس پابندی کی وجہ سے خاصا پریشان تھا۔ جب دادو گھر آئی ہوتیں تو وہ فائزہ کو ےہ کہہ کر منا لیتیں کہ بچوں کی اچھی صحت کے لئے کھیل بہت ضروری ہے اوروہ بھی ان کی بات کا لحاظ رکھتے ہوئے چاروناچارہی سہی لیکن عمر کو کھیلنے کے لئے جانے کی اجازت دے دیتیں۔ جب سے دادو اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس امریکہ گئیں، تب سے عمر کے لئے مما کو منانا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ مگر وہ بھی ہار ماننے والوں میں سے نہ تھا ۔کبھی بابا کی اور کبھی اپنی آپی آمنہ کی منت سماجت کر کے وہ ماماکے سامنے کچھ ایسی سفارش کرواتا کہ انہیں ماننا ہی پڑتا۔ اب وہ کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھا جس سے فائدہ اٹھا کر وہ روز روز کی اس منانے کی کوشش سے چھٹکارا حاصل کر لے۔ اس روز ماموں اصغر کی آمد پرعمر کو ےہ مسئلہ بالآخر حل ہوتا نظر آیا۔
اصغر نے حال ہی میں ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی تھی اور اب وہ اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں ہاو¿س جاب کر رہے تھے۔ وہ اپنی خوش مزاج طبیعت کے باعث خاندان بھر میں پسند کیے جاتے تھے ۔ وہ تین بہنوں کے اکلوتے بھائی ہونے کی وجہ سے لاڈلے بھی تھے لہٰذا فائزہ ان کی بات کبھی نہ ٹالتی تھیں۔ دوپہر کے کھانے کے بعد جب سب اہل خانہ آرام کی غرض سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تو عمر نے موقع غنیمت جانتے ہوئے فوراً مہمانوں کے کمرے کا رخ کیا جہاں ماموں کو ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ ابھی قیلولے کے لئے لیٹنے کی تیاری کر ہی رہے تھے کہ عمر نے انہیںجالیا:
”ماموں! آپ کی بہن نے ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔“ عمر کے چہرے پر معصومیت اور شرارت کے ملے جلے تاثرات کو بھانپتے ہوئے انہوں نے بھنویں سکیڑیں:
” پیارے بھانجے !اپیا ہمیں بھی بہت تنگ کرتی تھیں، اسی لئے تو ہم نے اس کی شادی کر دی تھی ۔ہمیں کیا پتہ تھا کہ …..“ انہوں نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا اور پھر بولے: ”یہ تو بتاﺅ کہ آخر ہوا کیا ہے؟
”انہوں نے میرے باہر کھیلنے پر پابندی لگا دی ہے۔“ ایک دکھ بھری گہری سانس کے ساتھ عمر نے روہانسی آواز میں جواب دیا۔
ماموں کو اس کی اس بھولی سی ادا پر پیار آ گیا ۔ انہوں نے اپنی جیب سے چاکلیٹ نکال کر عمر کو تھمائی اور اسے گود میں بٹھا لیا۔ پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے گویا ہوئے:
”بیٹا! چاکلیٹ، کبھی کبھی کھا لی جائے تو حرج نہیں لیکن اسے عادت بنا لیا جائے تو یہ صحت کے لئے اچھی نہیں ۔اورجہاں تک اپیا کی بات ہے، تو وہ توچاہتی ہیں کہ ہر کوئی دن کے 24گھنٹوں میں سے 25گھنٹے پڑھتی رہے۔میں انہیں سمجھاﺅں گا“
”نہیں ماموں، اس دفعہ مسئلہ پڑھائی کا نہیں ہے۔“عمرچھلانگ لگا کر گود سے اترا اور سامنے کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔
”اگر پڑھائی وجہ نہیں تو پھر کیا بات ہے؟“ ماموں نے حیرت سے پوچھا۔
”پچھلے سال مجھے ہیٹ سٹروک یعنی لُو لگنے کا مسئلہ ہواتھا۔ تب سے مماکو لگتا ہے کہ میں اگر گرمی میں باہرگیا تو بیمار پڑ جاو¿ں گا۔ اب تو انہوں نے میری سکول والی وین بھی ہٹوا دی ہے تاکہ اس کے لیٹ آنے کی صورت میں مجھے سکول کے باہر کھڑے انتظار نہ کرنا پڑے۔ “ عمر نے ایک ہی سانس میں اپنی دکھ بھری داستان ماموں کی نذر کی۔
”وین ہٹوا کر ہیلی کاپٹر لگوا دیا ہے کیا ؟“ ماموں نے چُٹکلا چھوڑا۔
”نہیں، اب وہ مجھے اور آمنہ آپی کو سکول سے لینے خود آتی ہیں۔“ چہرے پر معصومیت سجائے عمر بولا۔
”فکر!’ناٹ‘ میرے بچے! آج ہی ہٹلرمماکو سیٹ کریں گے۔“ پُر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ ماموں نے جواب دیا۔
”شکرےہ ماموں۔“ عمر نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
”…ارے ایک بات تومیںبتانا بھول ہی گیا، اور وہ یہ کہ چاکلیٹ کھانے کے بعد کُلی یاد سے کر لینا۔“ ماموں کی بات پر عمر سر ہلا کر سونے کے لئے چلا گیا۔
شام کو چائے کے بعدجب سب لان میں بیٹھے خوش گپیوںمیں مصروف تھے تو ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ماموں گویا ہوئے:
”عمر! کل چھٹی ہے ، کیوں نہ ساتھ والے گراو¿نڈ میں کرکٹ کا ایک میچ ہو جائے۔“
”ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں پر تمہاری اپیا نے آج کل عمر پر کھلی فضا میں کھیلی جانے والی کھیلوں پر پابندی لگا ئی ہوئی ہے۔“ زہیب کسمساتے ہوئے بولا۔
”ہٹلر آپا، ظلم کرنے کو اور کچھ نہیں ملا جوآپ نے کھیلوں پر بھی پابندی لگادی۔“بہن کو ستانے کی غرض سے ماموں نے کہا۔
”ایسی بات نہیں ہے۔ اصل میں پچھلے سال لو لگنے کی وجہ سے عمرکی حالت بہت خراب ہو گئی تھی۔ اب میں مزید رِسک نہیں لینا چاہتی۔ “مما وضاحت دینے لگیں۔
”اپیا! آپ کی بات صحیح ہے۔ گرمیوں میں صحت کے دیگر مسائل کے علاوہ ایک بڑا خطرہ ’ہیٹ سٹروک‘ کابھی ہوتا ہے۔چھوٹے بچوں، بزرگوں، دھوپ میں کام کرنے والے مزدور طبقے اور کھلاڑیوں کو اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم احتیاطی تدابیر سے اس خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ “ماموں سمجھانے کے سے انداز میں کہنے لگے۔
”تو کیا بچوں کو کھیلنے سے منع کرنا احتیاطی تدبیر نہیں ؟“ مما نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
”اپیا! ہر بات میں شدت پسند ہو جانا کہاں کی دانش مندی ہے۔“ اب کی بار ماموں قدرے بیزار لہجے میں بولے۔اس سے پہلے کہ ان کی بات چیت بحث و تکرار کا رُوپ دھارتی، شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے ماہر امراض اطفال ڈاکٹر یاور نجم ماموں اور دیگر گھر والوں سے ملنے آگئے۔وہ ماموں کے بہت اچھے دوست تھے اور لاہور کسی میڈیکل کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔چائے اور دیگر لوازمات کی صورت میں مہمان داری کے تقاضے نبھانے کے بعد ماموں نے انہیںکہا کہ وہ ایک بحث کا فیصلہ کرنے میں ان کی مدد کریں۔ اس کے بعد انہوں نے تمام کہانی بیان کردی ۔
بہن بھائی کی بحث سن کر ڈاکٹر یاور نجم مسکراتے ہوئے بولے :
”ہمارے ملک میں چونکہ گرمی بہت تیز ہوتی ہے، اس لئے والدین کا اس میں بچوں کو کھیلنے سے منع کرنا حقیقت پر مبنی ایک محتاط روےہ ہے۔ اس کی وجہ ےہ ہے کہ زیادہ پسینہ بہہ جانے یا موسم کے حبس (heat exhaustion) کے باعث ان میں نمکیات اور پانی کی شدید کمی(dehydration) ہو سکتی ہے۔“
ڈاکٹر یاورنے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا:
”ہمارا جسم ایک خاص حد تک گرمی برداشت کر سکتا ہے۔ اگر وہ اس حد سے بڑھ جائے تو ’ہیٹ سٹروک‘ کاامکان ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بخار ہو جانے، گھبراہٹ، الٹیاں لگنے اور بے ہوش وغیرہ ہونے کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کا مطلب ےہ بھی نہیں کہ گرمیوں میں بچوں کو کھیل کود سے بالکل روک دیا جائے کیونکہ دن کے ایک مخصوص حصے میں گرمی قدرے زیادہ ہوتی ہے۔ شام کو جب گرمی کی شدت کم ہو جائے تو کھیلنے کودنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔“
ڈاکٹر کی اس بات پر ماموں نے ایک فخرےہ نگاہ مما پرکچھ اس انداز میں ڈالی گویا وہ انہیں چڑانے کی کوشش کر رہے ہوں۔ تاہم مما جو کافی سنجیدہ مُوڈ میںبیٹھی تھیں،ان کی اس حرکت کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈاکٹریاور سے مخاطب ہوئیں:
”تو پھر بچوں کو لُو سے بچانے کے لئے کیا اقدامات کیے جائیں؟“
”اس سلسلے میں پہلاقدم تو ےہ ہے کہ بلا ضرورت دھوپ میں نہ نکلیں۔ اگرباہر جانا زیادہ ضروری ہو تو ” ڈی ہائیڈریشن“سے بچنے کے لئے مناسب پانی پی کر جائیں اور اپنے ساتھ پانی کی ایک بوتل بھی ضرور رکھیں۔ دھوپ میں نکلتے ہوئے ایک رِم والی ٹوپی پہن لی جائے جو چہرے کو ڈھانپ لے ۔ اس کے علاوہ بچوں کو تیز رنگوں خصوصاً کالے رنگ کے کپڑے پہنانے سے گریز کیا جائے کیونکہ ےہ حرارت کو زیادہ اور جلدجذب کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اس موسم میں کھلے اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا مفید ہوتاہے۔ انہیں خریدتے ہوئے ایسے مٹیریل کا انتخاب کریں جس میں سے ہوا آسانی سے گزر سکے۔“ڈاکٹر صاحب نے وضاحت سے جواب دیا۔
”ڈاکٹر انکل !پانی سادہ ہی پئیں یا مشروبات بھی ٹھیک ہیں ؟“ آمنہ آپی کو کولامشروبات بہت پسند تھے، لہٰذا وہ پوچھنے پر مجبور ہو گئیں۔
”بیٹا! مشروبات سے اگر تو آ پ کی مراد سافٹ ڈرنکس یعنی کولا مشروبات ہیں تو ان کا زیادہ استعمال صحت کے لئے اچھا نہیں ۔ اُن میں چینی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور دوسرا ان سے پیاس بھی نہیں بجھتی۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ صاف ستھرے پانی میں گھر کے بنے جوس یا شربت وغیرہ بنا کر پئے جائیں۔ لیموں اور تھوڑا سا نمک شامل کر کے بنائی جانے والی شکنجبین بہترین مشروب ہے۔ اس کے علاوہ لسی بھی صحت کے لئے فائدہ مند ہے، تاہم اس کے لئے پانی ابلا ہوا اور صاف ستھرا ہونا بے حد ضروری ہے۔“ ڈاکٹر صاحب بولے۔
”خوب برف ڈال کے ٹھنڈا ٹھار پانی بھی ضروری ہے کیا؟“ ماموں نے بابا کی عادت کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا۔اسے سنتے ہی زہیب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
”بازار میں ملنے والی برف جراثیم کے پھیلاو¿ کا بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے‘ اس لئے کہ اس کے لئے استعمال ہونے والے پانی کی کوالٹی اور برف بنانے کا طریقہ کار دونوں پر ہی سوالیہ نشانات ہیں۔ گھر میں برف جما کر پانی ٹھنڈا کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم برف کے استعمال سے بہتر ےہ ہے کہ فریج میں پانی ٹھنڈا کر کے استعمال کیا جائے۔“ ڈاکٹر یاور نے وضاحت کی ۔
”ڈاکٹر انکل! پچھلے دنوں میرے دوست کو سکول میں اچانک زور کی ا لٹی آئی۔ اس کی طبیعت اتنی خراب ہو گئی کہ اسے گھر بھیج دیا گیا جس کے بعد وہ پورا ہفتہ سکول نہ آ سکا۔“ عمر نے گفتگو میں شامل ہونے کے لئے لقمہ دیا۔
”الٹی کی وجہ لُو بھی ہو سکتی ہے اور ہیضہ بھی۔ دراصل بچے سکول کے پاس کھڑی ریڑھیوں سے غیر معیاری چیزیں لے کر کھاتے ہیں ۔ایسے کھانوں کی تیاری اور محفوظ بنانے کے عمل میں اکثراوقات حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ موسم کی حدت کے باعث کھانے پینے کی اشیاءجلد خراب ہو جاتی ہیں۔ تیسرا ےہ کہ مکھیاں بھی اس موسم میں زیادہ ہوتی ہیں اور ہمیں کیا معلوم کہ جو کچھ ہم کھانے لگے ہیں، اس میں وہ کتنے جراثیم شامل کر چکی ہوں ۔واضح رہے کہ کھانے پینے کی وہ اشیاءجو کوکنگ کے عمل سے نہیں گزری ہوتیں ،ان میں انفیکشن کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ “ ڈاکٹر صاحب نے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
”ڈاکٹر انکل! گرمی دانوں سے بچنے کے لئے کیا کروں؟“عمر نے اپنی پیٹھ کھجاتے ہوئے جس معصومیت سے سوال کیا، اس پر سب ہنس دئیے۔
”بیٹا گرمی دانوں سے بچاو¿ کے لئے ٹھنڈے اور آرام دہ ماحول میں بیٹھیں اور دن میں ایک مرتبہ ضرور نہائیں۔ خیال رہے کہ ٹھنڈے ماحول سے میری مراد ائیر کنڈیشنڈ کمرہ نہیں بلکہ ایسی جگہ ہے جہاں ہوا کا گزر آسان اور درجہ حرارات مناسب سطح پررہے ۔ انہوں نے جواب دیا۔
”مما! کیا اب میں کھیلنے کے لئے جاو¿ں؟“عمر نے پوچھا۔ فیصلے کی گھڑی آ چکی تھی۔ فائزہ‘ ذرا توقف کے بعد بولیں:” بیٹاآپ شام کوروزانہ دو گھنٹے کھیلنے کے لئے جا سکتے ہیں۔“
”…. مگر پانی کی بوتل ساتھ لے جانا مت بھولنا۔“ ساتھ ہی بابا بولے۔
”اور روزانہ نہانا بھی ہے، گندے!“ آمنہ آپی کی بات پر سب ہنسنے لگے اور عمر چہرے پر ناراضگی کے تاثرات سجائے انہیں گھورنے لگا۔
معلومات سے بھرپورگفتگو نے جہاں ڈاکٹر یاور نجم کو سب کا گرویدہ بنالیا، وہاں مما کو بھی اس بات کا خاکہ تشکیل دینے کا موقع مل گیا کہ وہ گرمیوں میں اپنے خاندان کو کیسے محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ یوں یہ صورت حال عمر اور مما، دونوں کے لئے ”win-win“ تھی۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts