کینسر”جو ہو گا دیکھا جائے گا“

252

بعض بیماریاں ایسی خاموشی سے انسانوں پر حملہ آور ہوتی ہیں کہ ان کے لاحق ہوجانے کی ہلکی سی بھنک بھی نہیں پڑتی اوروہ اندر ہی اندر پھیل کر بظاہر بالکل صحت مند شخص کو کھوکھلا کر دیتی ہیں اور بسا اوقات تو موت کے قریب بھی لے جاتی ہیں ۔جب مریض پر مرض کا انکشاف ہوتا ہے تو بعض اس قدر کمزور دل ہوتے ہیں کہ مایوس ہو کر بستر سے جالگتے ہیں۔” آخرمیں ہی کیوں “کا سوال ان کے دماغ پر قبضہ جما لیتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ گھبرانے کی بجائے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں ۔کرنل امین الحق ایسے ہی ایک باہمت فرد ہیں:
”وہ عام دنوں کی طرح ہی ایک دن تھا لیکن اس نے میری زندگی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ۔میںمعمول کے مطابق صبح اٹھا اور نہانے چلا گیا ۔اس دوران مجھے اپنی دائیں بغل کے نیچے سوجن محسوس ہوئی۔میں نے اسے نظر انداز کیا اورسوچاکہ یہ خود ہی ٹھیک ہو جائے گی اور تیار ہو کر دفتر کے لیے روانہ ہو گیا ۔“
انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور دوبارہ بولنا شروع ہوئے :
”آفس آنے کے بعد بھی میں اسی شش وپنج میں رہا کہ ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے یا نہیں؟پھر میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے چیک اَپ ضرور کروانا چاہیے ۔میں اسی وقت ڈاکٹر کے پاس چلا گیا ۔اس نے بہت غور سے سوجن والی جگہ کا معائنہ کیا ۔اس کے چہرے کے تاثرات سے مجھے محسوس ہوا کہ معاملہ کچھ سنجیدہ ہے ۔ میں نے خود کو تسلی دی کہ ڈاکٹر ایسی ہی سنجیدگی سے معائنہ کرتے ہیں لہٰذا خطرے کی کوئی بات نہیں ۔ “
لیکن معاملہ شایدسنجیدہ ہی تھا ۔ڈاکٹر نے انہیں ایک سرجن کے پاس جانے کو کہا اور اس پر بھی زور دیا کہ آپ آج ہی چیک اَپ کروائیں۔ سرجن نے بھی بہت غور سے ان کامعائنہ کیا ۔اس وقت بھی کرنل امین کو وہم ہوا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی بڑی بیماری کی علامت ہو۔ ڈاکٹر نے انہیںبتایا کہ یہ پیپ دار رسولی ہے جس کیلئے سرجری کرنا ہوگی۔انہوں نے کچھ ٹیسٹ تجویز کئے جن کے رزلٹس آنے میں کچھ دن لگے ۔ تین فروری 2014ءکی تاریخ دے دی گئی ۔
ڈاکٹر صورت حال کی پیچیدگی سے آگاہ ہوگیا تھا ‘اس لیے اس نے کرنل امین سے کہا گیا کہ سرجری والے دن اپنی فیملی میں سے کسی کو ساتھ لائیں ۔ کرنل صاحب اس سے پہلے ایک سرجری اکیلے ہسپتال جا کر کروا چکے تھے لہٰذا وہ یہ سرجری بھی بغیر کسی کو بتائے اکیلے ہی کروانا چاہ رہے تھے۔تاہم ڈاکٹر کا اصرار تھا کہ وہ ایسا مت کریں۔
شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کرنل امین نے کہا:
”گھر آنے پر میں نے انٹرنیٹ پررسولیوں (lymphoma) کے بارے میں معلومات لیںجہاں اس کی کئی اقسام کے بارے میں لکھا تھا۔ان میں کینسر بھی شامل تھا ۔ مجھے یہی خیال آیا کہ یہ کینسر کیسے ہو سکتا ہے ؟ یقینا یہ عام سی رسولی ہو گی۔میں نے اپنی بیوی کو بھی یہی بتایا کہ ایک چھوٹا سا آپریشن ہے جس کے لیے آپ کو ساتھ چلنا ہو گا ۔“
آپریشن کے ذریعے دائیں بغل سے 11سینٹی میٹرچوڑی رسولی نکال کر لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجی گئی۔آپریشن کے بعدوہ تقریباً 13دنوں تک ہسپتال میں رہے ۔کچھ دنوں کے بعد وہ رپورٹس لینے گئے۔ڈاکٹر کو دکھانے سے پہلے انہوں نے خود بھی انہیں پڑھا۔انہیں اس میں لفظ کینسر کہیں بھی لکھا نظر نہ آیا:
”میں خوشی خوشی ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا کہ ’کوئی خا ص مسئلہ نہیں ہے ‘ڈاکٹر نے رپورٹس دیکھیں تو اس پر ہوجکن لمفوما (hodgkin lymphoma)لکھا تھا جس پر ڈاکٹر نے کہا کہ اصل میں یہ ہی مسئلہ ہے ۔یہ کینسر کی ایک قسم ہے ۔“
اتنی بڑی بیماری کی تشخیص کے بعد عموماً لوگ صدمے سے نہیں نکل پاتے لیکن یہاں معاملہ الٹ تھا۔کرنل امین چند سیکنڈزخاموش رہے اور پھر انہوں نے نہایت پرسکون انداز میں ڈاکٹر سے کہا:
’ٹھیک ہے ! مجھے اس کے بارے میں تھوڑی تفصیل بتائیں کہ یہ ہے کیا اور مجھے آگے کیا کرنا ہو گا؟‘اس پرسرجن نے انہیں سی ایم ایچ راولپنڈی کے اونکالوجسٹ میجر جنرل ڈاکٹر افتخار حسین کے پاس جانے کو کہا۔مسز امین اس مشکل وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں:
”سرجری کے بعد ڈاکٹر نے مجھے بتا دیا تھا کہ یہ کینسر کی کوئی شکل ہو سکتی ہے۔ وہ وقت گزارنا میرے لیے بہت مشکل تھا اور گھر آ کر میں اپنے کمرے میں جی بھر کر روئی ۔اس کے بعدمیں نے اپنا سارا وقت امین کی دیکھ بھال کے لیے وقف کر دیااور ان کی بیماری کے بارے میں کبھی کسی سے ذکر نہیں کیا ۔“
کرنل امین نے بتایا کہ جب وہ ڈاکٹر افتخار کے پاس پہنچے تو وہاںمبارک بادیں دی اورمٹھائیاں بانٹی جا رہی تھیں‘ اس لئے کہ اسی دن ان کی پروموشن ہوئی تھی :
”میں نے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’سر آپ کو بہت مبارک ہو اور مجھے بھی مبارک دیں کہ آپ کی پروموشن کے بعدآپ کے پاس علاج کے لیے آنے والا میں پہلا مریض ہوں۔“
ڈاکٹر افتخار نے رپورٹس دیکھنے کے بعد کرنل امین کو اپنے سنیئر کنسلٹنٹ اونکالوجسٹ برگیڈئیرمنذر ذکریاکے پاس بھیج دیا ۔
ڈاکٹر زکریا نے شفانیوز کو بتایا کہ جب کرنل امین ان کے پاس آئے تو ان کی صحت اچھی نہ تھی ۔انہیں بخار تھا ۔انہیں کچھ مزید ٹیسٹ اور سی ٹی سکین کروانے کے لیے کہاگیا:
”میںجو بھی ٹیسٹ کرواتا‘ اس میں اس بیماری کی علامات آتی جا رہی تھیں ۔کوئی بھی ٹیسٹ ایسا نہ تھا جو کلئیرآیا ہو ۔میں نے دوبارہ انٹر نیٹ سے معلومات لیں لیکن اب میں وہاں بیماری کے متعلق نہیں بلکہ اس کی شرح اموات اور بچاﺅ کے متعلق پڑھ رہا تھا ۔“
اس کی تفصیل بتاتے ہوئے ڈاکٹر زکریا نے کہا کہ انہیں پی ای ٹی سکین (PET scan) کروانے کے لیے کہا گیا جس میں پورے جسم کو سکین کر کے دیکھا جاتا ہے کہ بیماری نے جسم کے کس کس حصے کو متاثر کیا ہے ۔اس کی رپورٹ کے مطابق کینسر صرف دائیں بغل کے نیچے ہی نہیں تھا بلکہ بائیں بغل ،گردن ،تلی ،سینہ اورپھیپھڑوں تک پھیل چکا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ ان کی بیماری آخری مرحلے یعنی سٹیج 4میں داخل ہو چکی تھی :
”میں نے انہیں بیماری کے بارے میں بتایا اور یہ بھی کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں ‘ اس لئے کہ یہ ان رسولیوں میں سے ہے جو قابلِ علاج ہیں۔ہم علاج شروع کریں گے لیکن آ پ کو بھی ہمت اور حوصلے کے ساتھ ہمارا ساتھ دینا ہو گا۔ اگر آپ ہمت ہار گئے تو ہمارے لیے اس کا علاج بہت مشکل ہو گا ۔“
علاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔اس دوران اکثر مریضوں کو کچھ شکایات جن میں بھوک کا کم ہونا،الٹی آنا،بالوں کا گرنا اور بے چینی شامل ہیں، ہو سکتی ہیں لیکن بقول کرنل امین‘ انہیں ان میں سے کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوا ۔البتہ بال ضرور گرنے لگے تھے لہٰذا انہوں نے سر منڈوا لیا ۔مسز امین نے شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا:
”جس دن ان کی پہلی کیمو تھیراپی تھی‘ اس دن میں بہت ڈری ہوئی تھی ۔وہاں موجود ایک عورت نے میرے خوف سے زرد پڑتے چہرے کودیکھتے ہوئے مجھے حوصلہ دیا۔اس دن کے بعد علاج میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی۔ “
ڈاکٹر زکریا کا کہنا ہے کہ کسی بھی بیماری اور خاص طور پر کینسر سے لڑنے کے لیے اگرمریض میں ہمت اور حوصلہ نہ ہو تواس کے بچنے کے امکانات کم ہو جائیں گے:
”یہ لمبااور تھکا دینے والا علاج ہوتا ہے۔ اس لیے اس میں مریض کی ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے مکمل شمولیت چاہیے ہوتی ہے۔اگر حو صلہ نہیں ہو گا تو وہ علاج نہیں کرائے گا یا درمیان میں ہی مایوس ہو کر چھوڑ دے گا ۔جب مریض ٹھیک ہونا ہی نہیں چاہے گا تو کوئی اسے کس حد تک ٹھیک کر سکتا ہے ۔“
ڈاکٹر زکریا کہتے ہیں کہ جب انہوں نے مریض کو اس کی بیماری کے بارے میں بتایا تو انہیں اپنے مریض کا ایک جملہ بہت اچھا لگا۔ انہوں نے کہا ’ڈاکٹر صاحب! مرنا آپ کو بھی ہے اور مجھے بھی۔ اس لئے جو ہو گا دیکھا جائے گا ۔آپ علاج شروع کریں ۔‘
علاج کے نقطہ نظر سے کینسر کی جلد تشخیص بہت ضروری ہے‘ اس لئے کہ اس کے متاثرہ خلیے بہت تیزی سے پھیلتے ہیں۔ اس لیے اس کی ابتدائی علامات کو معمولی نہیں لینا چاہیے ۔ اگرپاخانے ، پیشاب اور کھانسی میں خون آئے ،کوئی گلٹی محسوس ہو ،آواز بیٹھ جائے یا پیٹ میں درد رہتا ہو تو فوراً ڈکٹر کو چیک کروائیں ۔کرنل امین کا کہنا ہے کہ انہوں نے چیک اپ کے بعد ایک دن بھی ضائع نہیں کیا: ’نہ میں مایوس ہوا اور نہ ہی میں نے اللہ تعالیٰ سے گلے شکوے کیے۔‘
رشتہ داروں اور دوست احباب کے تاثرات پر بات کرتے ہوئے کرنل امین نے مسکراتے ہوئے بتایا:
”میں نے اپنے والدین اور بچوں کو بھی تب بتایا جب میرا علاج جاری تھا اور وہ بھی بہت نارمل انداز میں ‘جیسے یہ کوئی بہت معمولی بات ہو۔تاہم جسے بھی پتا چلتا کہ مجھے کینسر ہے،اس کی آنکھوں میںاور زبان پر ہمدردی اور ترس کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ جب میں نے سر منڈوا لیا تولوگوںکا خیال یہی تھا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہوں گا ۔وہ مجھے لمبی زندگی کی دعائیں دیتے اور یہ بھی کہ اللہ میرے بچوں کے سر پر میراسایہ قائم رکھے ۔وہ مجھے رحم بھری نظروں سے دیکھتے رہتے۔مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا اور میں اس سے لطف اندوز بھی ہوتا تھا ۔مجھے افسوس ہوتا کہ میں نے انہیں بتایا ہی کیوں ۔میں تو مطمئن تھا لیکن میری فیملی اس سے متاثر ہو رہی تھی ۔“
ڈاکٹر زکریا کہتے ہیں کہ مریضوں اورخاص طور پرکینسر کے مریضوں کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کا اس طرح کا رویہ بہت غلط ہے ۔وہ سمجھتے ہیںکہ جسے کینسر ہو جائے وہ زندگی سے فارغ ہے۔لوگوں کو یہ رویے بدلنے کی ضرورت ہے:
”میں کہتا ہوں کہ اگر کسی کو کوئی بھی مرض ہے تو وہ ہمت اورحوصلے سے اس کا مقابلہ کرے ۔“
کرنل امین اب بالکل ٹھیک ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔شفانیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
” میرے صحت یاب ہونے میں50فی صد ہاتھ میری بیوی کا ہے جس نے میرے ساتھ میرے گھر اور بچوں کو بھی سنبھالا۔اس کے علاوہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں کینسر کے مریضوں کی ہمت بندھانے میں مدد کر رہا ہوں ۔میں انہیں کہتا ہوں کہ جب میں ٹھیک ہو سکتا ہوں تو آپ کیوں نہیں ۔بس اللہ پر اور خود پر یقین ہونا چاہیے ۔“
دیگر ممالک میں سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد پر مشتمل گروپ بنے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ این جی او زیا ٹرسٹ بناکراس مرض میں مبتلا دیگر مریضوں کی مدد بھی کرتے ہیں۔ہمارے ہاں یہ رویہ بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔تاہم کچھ لوگ اپنی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے دوسروں کو اس سے محفوظ رکھنے اور ان کے علاج کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کرنل امین بھی ایسے ہی ایک فرد ہیں۔ انہوں نے نہ صرف بہت حوصلے کے ساتھ اس بیماری کا مقابلہ کیا بلکہ چند مریضوں کا گروپ بنا کر اس بیماری کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرنے اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ان کی کوششوں سے آج ’حیاتِ نو‘کے نام سے ایک ٹرسٹ کینسر کے مریضوں اور ان کے خاندانوں کی مدد کے لیے کام کر رہا ہے ۔
کینسر کی بروقت تشخیص اورعلاج بہت ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کینسر سمیت کسی بھی بیماری کو سر پر سوار نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ کسی گناہ یا غلطی کے نتیجے کے طور پر آئی ہے۔ہمیںہمت اور حوصلے سے علاج جاری رکھنا چاہئے تاکہ اس کے اچھے نتائج سامنے آ سکیں۔
website: www.hayatenau.com
facebook: Hayat-e-Nau welfare Trust
phone :03349505084