معدے کا زخم، السر

100

مشکیزے کی شکل کا حامل عضو معدہ کہلاتا ہے جو نظام انہضام میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اوسطاً ایک لیٹر کھانا اورپانی وغیرہ سما سکتے ہیں۔اگر ہم اس میں ایسی غذائیں ڈالیں جنہیںیہ باآسانی ہضم کر سکے تو یہ ہماری اور اس کی صحت کے لئے اچھا ہوگا ۔ بصورت دیگریہ کئی طرح کے مسائل کا شکار ہو سکتا ہے اور بعض صورتوں میں تو اس میں زخم (ulcer)بھی ہو جاتے ہیں ۔
السرسے مرادخاص طرح کا زخم ہے جو کھلا رہتا ہے اور دیر سے مندمل ہوتا ہے۔ بعض اوقات مختلف وجوہات کی بنا پر معدے کی دیوار پراس طرح کے زخم بن جاتے ہیں۔ایسے میں مریض جب کھانا کھاتا ہے تو اس کے بعد اسے معدے میں ناف سے اوپرکے حصے میں درد محسوس ہوتا ہے ۔

علامات
السر کی صورت میں مندرجہ ذیل علامات سامنے آ سکتی ہیں :
٭پیٹ میں درد ہونا۔
٭گھبراہٹ یا دل پر بوجھ محسوس ہونا ۔
٭قے جیسی کیفیت ہونا۔
٭بھوک کا نہ لگنا۔
٭وزن میں کمی۔
٭کھانا کھانے کے تھوڑی دیر بعد تیزابیت محسوس ہونا۔
وجوہات
بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جو لوگوں کوان کے طرز زندگی کی بدولت لاحق ہوتی ہیں یعنی ان میں ان کی اپنی کوتاہیوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ السربھی ایسی ہی ایک بیماری ہے جس کی کچھ وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:
٭درد دور کرنے کی ادویات(پین کلرز) کے بے جا استعمال سے معدے کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
٭السر کاایک سبب ایچ پائیلوری) (Helicobacter pylori نامی جرثومہ بھی ہے ۔
٭اکثر لوگ کھانوں میں صحت کی بجائے ذائقے کو ترجیح دیتے ہیںاور ایسا کھانا پسند کرتے ہیں جس میںمرچوں اور مصالحوںکی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ان کے زیادہ استعمال کی وجہ سے نہ صرف السر بلکہ ہائی بلڈپریشر‘ امراض قلب اور ذیابیطس کی شرح بڑھ بھی رہی ہے ۔
٭ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں بھی اس بیماری کی شرح زیادہ پائی جاتی ہے۔
٭خود علاجی مضرصحت ہے جو السر کا بھی باعث بن سکتی ہے ۔

تشخیص
اس مرض کی تشخیص کے لئے مریض کے کھانے پینے کی عادات کے بارے میں جاننا ضروری ہوتا ہے۔اس کے علاوہ خون کا ایک ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے جسے الائزاٹیسٹ(elisa test)کہا جاتا ہے ۔ اس ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مریض کے جسم میں السر پیدا کرنے والا جرثومہ موجود ہے یا نہیں۔اس مرض کے بارے میں مکمل معلومات کے لیے اینڈوسکوپی کی جاتی ہے جس میں ایک کیمرے کی مدد سے خوراک کی نالی اورمعدے کو دیکھا جاسکتا ہے۔یہ ٹیسٹ تشخیص اورعلاج دونوں کے لیے استعمال ہوتاہے۔ اگرمعالج کو یہ خدشہ ہو کہ السر سرطان کی شکل اختیار کر گیا ہے تو وہ بائیوپسی (biopsy) بھی تجویز کر سکتاہے۔
پیچیدگیاں
اگر مریض بیماری کو نظر انداز کرے توکچھ پیچیدگیاں ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے۔مثلاًاگر معدے میں موجودالسر کی جسامت میں اضافہ ہو تواس سے خون نکل سکتا ہے جس کا عملی اظہار خون کی الٹی کی صورت میں ہوتا ہے۔اگر زخم مزید گہرا ہو جائے تواس سے خوراک کی نالی میں سوراخ ہو جاتا ہے جسے آپریشن کے ذریعے بندکیا جاتا ہے۔ مزید برآںیہ معدے کے سرطا ن کی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ وہ مریض جنہیں تیزابیت کا مسئلہ ہواوروہ ادویات کے استعمال کے باوجودحل نہ ہو رہا ہو توانہیں چاہئے کہ اینڈوسکوپی لازماً کروائیں۔
بچاؤ اور علاج
بیماری کی تشخیص کے بعد مرض کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے علاج شروع کیا جاتا ہے جس کا مقصد مرض کی علامات دور کرنااور معدے کو مزید نقصان سے بچانا ہوتا ہے۔ السر سے بچائو کے لئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں:
٭ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں اور اگر السر ہو تو پھر خاص طور پر اس سے بچیں ۔
٭ تازہ سبزیوں کا استعمال بڑھائیں ۔کچی سبزیوں مثلاًگوبھی، کھیرے اور ٹماٹر کو بھی غذا میں شامل کیا جائے۔ انہیں سلاد کی صورت میں بھی کھایاجاسکتا ہے۔جنک فوڈ کی بجائے سیب ،کیلا یا کوئی موسمی پھل استعمال کریں۔
٭ پانی زیادہ سے زیادہ پئیں۔پھلوں کا تازہ رس بھی مفید ہے۔آج کل بازاروں میں نت نئے کولا مشروبات دستیاب ہیں۔ان سے اجتناب کریں۔

٭ان چیزوں کا استعمال کم سے کم کریں جن میںمرچیں زیادہ پائی جاتی ہیں۔
٭دودھ کا استعمال زیادہ کریں کیونکہ یہ تیزابیت میں کمی لاتا ہے۔ الائچی بھی اس سلسلے میں فائدہ مند ہوتی ہے اوراس سے وقتی طور پرسینے کی جلن میں افاقہ ہوگا۔
٭ دواؤں کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے۔ کسی بھی بیماری کی صورت میںخودعلاجی کی بجائے متعلقہ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
معدے کی صحت کا زیادہ تر تعلق صحت مند طرزِزندگی سے ہوتاہے۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ متوازن غذا کھائیں اور مرغن غذائوں کا استعمال کم کریں۔ اس طرح ہمارا معدہ اپناکام باآسانی کر پائے گا اور ہم بھی صحت مند رہیں گے ۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of