شادی اور حمل تاخیر کی پیچیدگیاں

1

بجا طور پر کہا جاتا ہے کہ کام کوئی بھی ہو، اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے ورنہ بات محض برا لگنے سے آگے بڑھ کر نقصان دہ ہونے تک جا پہنچتی ہے ۔اگر ہم خواتین کے حوالے سے بات کریں توقدرت نے انہیں کچھ اس طرح سے تخلیق کیا ہے کہ وہ عمر کے ایک خاص حصے میں ہی اپنی تولیدی ذمہ داریاں بخوبی انجام دے سکتی ہیں۔
اگر حمل20 سال کی عمر سے قبل ہو تو ماں کاجسم اتنی پختگی حاصل نہیں کر چکا ہوتا کہ اس مرحلے سے صحت مندانہ انداز میں گزر سکے اور اگر وہ 35 سال کی عمر کے بعد ہو تو ماں اور بچے، دونوں کو کئی طرح کی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حمل کی پیچیدگیاں
تاخیر سے حمل کی پیچیدگیاں درج ذیل ہیں:
حمل ٹھہرنے میں دشواری
35سال کی عمر کے بعد خواتین میں تولیدی ہارمونز کا توازن بگڑنے لگتا ہے جس سے کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ پروجیسٹیرون (progesterone) ہارمون حمل ٹھہرانے اور اسے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو اس عمر میں کم ہونے لگتا ہے۔ یہ ہارمون اووریز، آنول(placenta) اور گردے کے غدود میں بنتا ہے۔
مزید برآں اس عمر میں بیضہ دانیوں میں انڈوں کی تعدادگھٹنے لگتی ہے جس سے حمل ٹھہرنے میں دشواری ہوتی ہے۔

حمل گرنے کا خطرہ
عمر کے اس حصے میں اگر حمل ٹھہر جائے تو اس کے ضائع ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ پہلی کروموسومزکی بے قاعدگی ہے جس کے سبب حمل پہلی سہ ماہی کے دوران ہی گر جا تا ہے۔
بچے کی معذوری
35سال کی عمر کے بعد حمل کی صورت میںہر 350 میں سے ایک بچے کے معذور پیداہونے کا امکان ہوتا ہے اور ڈائون سینڈروم کے شکار بچوں کی پیدائش کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے جو دماغی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ اس عمر کے بعد حاملہ ہونے والی خواتین کے بچوں کی آنکھوں میں موتیا، دل کے مسائل نچلا دھڑ متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ ایسے بچے نہ صرف عمر بھرتکلیف میں رہتے ہیں بلکہ والدین کے لیے بھی پریشانی کا سبب بنے رہتے ہیں۔

رحم مادر میں نشوونما کے مسائل
ایسے کیسز میںآنول کے کام کرنے کی صلاحیت بھی کم ہوتی ہے۔ اس عضوکی مدد سے ماں اور بچے میں خوراک اور آکسیجن کا تبادلہ ممکن ہو پاتا ہے۔ اگر یہ عمل اچھی طرح سے انجام نہ پائے تو بچہ غذائی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی بڑھوتری نہیں ہو پاتی۔بچے کے گرد پانی کم ہو جانے کا مسئلہ بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے۔

دیگر اثرات
ایشیائی ممالک میں رہنے والے لوگوں میں ذیابیطس اور بلڈپریشر کی بیماریاں دیگر ممالک کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ 35سال کی عمر کے بعد ان امراض کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں جو حمل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔پہلی سہ ماہی میں ماں کا بلڈ پریشرقدرتی طور پر کم ہو جاتا ہے لہٰذا جن خواتین کو حمل سے پہلے ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہو‘ اس عرصے میںان کا بلڈپریشر زیادہ نہیں ہوتا۔ دوسری سہ ماہی میں (جب بچے کی بڑھوتری کا عمل تیزی پکڑتا ہے) کئی عوامل کے باعث ماں کا بلڈ پریشر ہائی رہنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جو مسائل سامنے آتے ہیں‘ ان میں پیشاب میں چربی آنااور بچے کا وقت سے پہلے پیداہونانمایاں ہیں جبکہ بعض اوقات بچے کی زندگی ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
احتیاطی تدابیر
ان مسائل سے بچنے کے لئے درج ذیل احتیاطی تدابیر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے:
٭سب سے پہلی احتیاط وقت پر شادی کرنا ہے۔ پڑھائی اور ملازمت کو شادی میں بلا وجہ تاخیرکا سبب نہیں بننے دینا چاہئے۔
٭بعض شادی شدہ جوڑے جان بوجھ کر پہلا بچہ تاخیر سے پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔یہ غلط سوچ ہے‘ اس لئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حمل کے امکانات کم اور پیچیدگیوں کے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اس لئے بلاوجہ تاخیر سے گریز کریں۔
٭ دوسری شادی کے تجربے سے گزرنے والی خواتین کا حمل بعض اوقات تاخیر سے ٹھہرتا ہے اور پیچیدگیاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ انہیں چاہئے کہ دوران حمل ماہرامراض زچہ و بچہ کی رائے کو ہر مرحلے پر ملحوظ خاطر رکھیں ۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی معالج کو درست صورت حال سے آگاہ رکھیں اور ذہن میں اٹھنے والے ہر سوال کو ان کے ساتھ شیئر کریں۔
٭حمل میں ذہنی صحت خصوصی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ خواتین کو چاہئے کہ اس دور سے گزرتے ہوئے خود سے محبت کریں اورہر طرح کی ذہنی الجھنوں سے بچنے کی کوشش کریں ۔ صحت بخش خوراک اور ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیں‘ تاہم یہ ورزش بھی معالج کے مشورے کے مطابق ہونی چاہیے۔

٭35سال کی عمر کے بعد ہونے والے حمل کے وہ کیسزجو خطرے کی زد میں زیادہ ہوں ‘ بعض ہسپتالوں میں کنسلٹنٹ کی زیرنگرانی چلنے والے یونٹ (consultant led unit) میں بھیج دئیے جاتے ہیں۔یہاں ہاؤس جاب کرنے والی یا ٹرینی ڈاکٹرز نہیں بلکہ ماہر ڈاکٹرحمل کے شروع سے آخر تک کے تمام مراحل کوخود دیکھتی ہیں ۔ وہ اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ علاج کو اس طرح آگے بڑھایا جائے کہ بچے کی زندگی اور صحت کو کم سے کم خطرات لاحق ہوں۔ مناسب علاج اور دیکھ بھال کے لئے خواتین کو ہفتہ وارچیک اپ کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

حمل اگرچہ ایک قدرتی عمل ہے اور اسے سر پر سوار نہیں کرنا چاہئے لیکن اسے کم اہم سمجھ کر نظر انداز بھی نہیں کرنا چاہئے۔ تھوڑی سی احتیاط بے شمار مسائل سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔شوہر اورخاندان کے دیگر افراد کو بھی چاہئے کہ اس اہم مرحلے میں حاملہ خاتون کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of