سمارٹ کیسے بنیں

78

مرد ہو یا عورت‘خوبصورت اور باوقارشخصیت کا حامل ہونا ہر ایک کو بھلا لگتا ہے۔دوسری طرف خوبصورتی کے معیارات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہے ہیں۔ ایک زمانے میں فربہی مائل جسم کو پُرکشش سمجھا جاتا تھا جبکہ دبلے لوگوں کو مریض یا ناتواں سمجھ کر قابلِ رحم نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ وقت اور حالات نے پلٹا کھایا اور آج دبلے پن کو خوبصورتی کے ایک اہم معیار کی حیثیت حاصل ہے ۔

موٹاپا صحت مندی کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا اور آج بھی بہت سے لوگ موٹے لوگوں کے لئے ’’ صحت مند‘‘کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔میڈیکل سائنس میں ترقی کی بدولت معلوم ہوا کہ ذیابیطس‘ امراض قلب، جوڑوں کے درد، سانس کی تکالیف اور جگر کی خرابی وغیرہ کی ایک وجہ موٹاپا بھی ہے ۔یوں ماہرین کو اندازہ ہوا کہ موٹاپا صحت نہیں بلکہ بیماریوں کو گلے لگانا ہے۔اس کے بعد انہوں نے متوازن وزن پر زور دینا شروع کیا ۔ تب سے لوگوں میں وزن کم کرنے کی خواہش اور رجحان میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے۔

وزن کیسے بڑھتا ہے
ہم اچانک موٹے نہیں ہو جاتے بلکہ جسم پر چربی کی تہہ آہستہ آہستہ چڑھتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں اپنے معدے کو وقت ‘بے وقت کھانے پینے کی اشیاء سے بھرتے رہنا‘ کھانا پکاتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا اور پھر مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کردوبارہ کھانا، بچے کی پیدائش کے بعد ماں کا مرغن کھانوں اور پنجیریوں وغیرہ کازیادہ استعمال، جسمانی سرگرمی کا بالکل نہ ہونا وغیرہ شامل ہے۔

موٹاپے کی وجوہات
موٹاپے کی درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں:
موروثیت
بعض لوگ صحت مند طرز زندگی گزار نے کے باوجود موٹے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس کے وجہ موروثیت ہو سکتی ہے ۔
کھانے کی عادات
چکنائی اور میٹھے سے بھر پور غذا اور ضرورت سے زیادہ کھانے کی عادت اس کاباعث بنتی ہیں ۔
جسمانی سرگرمی کم ہونا
جسمانی سرگرمیاں مثلاً واک،ورزش کی کمی اور زیادہ تر غیر متحرک رہنے سے بھی انسان اس کا شکار ہو جاتا ہے۔
بیماریاں اور حمل
بعض اوقات کچھ بیماریاں بھی موٹاپے کا سبب بن سکتی ہیں ۔اسی طرح حمل خواتین میں اس کا باعث بن سکتا ہے۔
اچھے اور برے بیکٹیریا
ہمارے معدے میں اچھے اور برے‘ دونوں طرح کے بیکٹیریاموجود ہوتے ہیں۔اچھے بیکٹیریا موٹاپا کنٹرول کرتے ہیں جبکہ برے بیکٹیریا خوراک سے زائد کیلوریز پید اکر کے وزن کی زیادتی کا بھی باعث بنتے ہیں۔جنک فوڈ کھانے سے اچھے بیکٹیریا مرجاتے ہیں۔ اس سے برے بیکٹیریا زیادہ ہو جاتے ہیںجو موٹاپا پیدا کرتے ہیں۔

زیادہ میٹھی اور چکنائی والی غذا
اس قسم کی غذا دماغ کے اس حصے کو متاثر کرتی ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ مناسب حد تک کھاناکھانے کے بعد اس سے رک جانا چاہئے۔ ایسے میںجتنا کھاتے جائیں اتنی طلب بڑھتی جاتی ہے اور لامحالہ وزن بھی بڑھتا ہے۔
غذائی شاملیات(food additives)
تیار شدہ غذائوں(بریڈ،دودھ،آئسکریم وغیرہ) میں یہ شامل کیے جاتے ہیں تاکہ ان کے استعمال کی معیاد بڑھائی جا سکے۔ایسے غذائی شاملیات معدے کے لیے اچھے نہیںاور ان کا زیادہ استعمال موٹاپا بھی پید اکر سکتا ہے۔

کرنے کے کام
عمر کے حساب سے ہر شخص کے لئے وزن کی حد مختلف ہوتی ہے جسے جاننے کے لئے بی ایم آئی (باڈی ماس انڈسک) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق ہی اپنے وزن اور کمر کو ایک خاص حد کے اندر لانا ہوتا ہے۔یہ عمل جتنا ضروری ہے‘ اس سے کہیں زیادہ اہمیت اسے اس حد کے اندر مستقلاً رکھنے کی ہے ۔
وزن گھٹانے کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے لئے غیر صحت مندانہ طریقے ہرگز استعمال نہ کئے جائیں۔ اس کے لئے متوازن غذا کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ طرز زندگی اور معمولات میںایسی تبدیلیاں لائی جائیں جو آپ کو متحرک رکھیں ۔ بعض خواتین دبلا ہونے کے شوق میں بالکل کچھ نہیں کھاتیں۔ اس سے وزن تو کم ہو جاتا ہے لیکن ان کی جلد لٹک جاتی ہے۔ خواتین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے ورنہ ’’ڈائٹنگ‘‘ کے بعد ان کی ساری خوبصورتی مدہم پڑ جائے گی اوربڑھاپے کے آثار بھی جلد ظاہر ہونے لگیں گے ۔ وزن کم کرنے اور اسے اپنی حد میں رکھنے کے لئے درج ذیل امور قابل توجہ ہیں :
٭ ایک عام عورت کو دن بھر میں تقریباً 1800 سے 2000 کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہیں تو آپ کو روزانہ 1200 سے 1400 کیلوریز لینا ہو گی۔

٭ مناسب کیلوریز کا سب سے آسان حل یہ ہے کہ بیکری کی بنی ہوئی چیزیں ‘ مٹھائیاں اور چاول ترک کر دیں۔مناسب وزن کے لئے تین ’’چ ‘‘ (چینی‘ چاول‘ چکنائی) کا استعمال کم سے کم کر دیں۔
٭ نہار منہ نیم گرم پانی میں ایک لیموں کا رس اور ایک چمچ شہد ملا کر پئیں۔ اس سے فالتو چربی تحلیل ہونے میں مدد ملتی ہے۔
٭ سفید آٹابالکل استعمال نہ کریں۔ اس کی جگہ بھوسی والا آٹا منگوائیں۔
٭ ہری سبزیاں اور سلاد آپ کے لئے مفید ہیں۔ پالک‘ ٹماٹر‘ چقندر‘ مولی اور شلجم زیادہ کھائیں۔ بھوک لگے توآپ کو چاہئے کہ بیکری کی اشیاء کی بجائے کھیرا کاٹ کر کھائیں۔
٭ کسی دعوت میں جائیں تو سافٹ ڈرنکس نہ لیں بلکہ سادہ پانی اور تھوڑا سلاد لے کر مہمانوں کا ساتھ دیں۔
٭ اپنی غذا میں روزانہ چار چیزیں ضرور شامل کریں۔ان میں دودھ کا ایک گلاس‘ ترکاری‘ سلاد (کچی سبزیاں مثلاً بند گوبھی اور ٹماٹر) اور پھل شامل ہیں۔

٭بعض لوگ وزن کم کرنے کے لئے ناشتا چھوڑ دیتے ہیں جو بالکل غلط ہے ۔ناشتا ضرور کریں، اس لئے کہ صبح کے وقت پیٹ بھرا ہو تو دوپہر تک بھوک نہیں لگتی۔ اس کے برعکس اگر ناشتا نہ کیا گیا ہو یا بہت کم ہو تو جلد بھوک ستاتی ہے اور فرد کوئی چیز مثلاً کیک کا ٹکڑا‘ سینڈوچ یا پیسٹری کھا لیتا ہے جس سے ڈائٹنگ کے نام پر کی گئی ساری احتیاطوں کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ جو خواتین اچھی طرح ناشتا کرتی ہیں‘ ان کا وزن جلد کم ہونے لگتا ہے اور دوبارہ نہیں بڑھتا۔
٭ کھانا ہمیشہ تھوڑی بھوک رکھ کر کھانا چاہیے۔ یہ نہ صرف دین کی تعلیم ہے بلکہ اس سے صحت بھی خراب نہیں ہوتی۔
٭ کھانا کھانے سے پہلے پانی پی لینا چاہیے اور بعد میں پینا ہو تو کم از کم ایک گھنٹہ انتظار کرنا چاہیے۔
٭ کھانا کھاتے وقت ٹیلی ویژن کے سامنے نہیں بیٹھنا چاہیے‘ اس لئے کہ اس طرح کھانازیادہ کھایا جاتا ہے۔ بچوں کو خصوصاً اس سے منع کرنا چاہیے۔ مغربی ممالک کے بچوں میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر کھانا بھی ہے۔
٭ روزانہ ایک گلاس پالک اور ٹماٹر کا جوس پینے سے وزن کم ہوتا ہے۔
٭ پودینہ کی چائے بھی وزن کم کرتی ہے۔ اس کے لئے آپ پانی میں پودینہ ڈال کر ابالیں۔ اس میں آپ گرین ٹی ڈال کر بھی پی سکتے ہیں۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x