سبب اور مسبب الاسباب ۔۔۔دعا بھی ‘ دوا بھی

482

 مرض کی علامات اور مریض کی کیفیات کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر اپنی پپیشہ ورانہ رائے تو دے دیتا ہے لیکن بعض اوقات صورت حال اس سے مختلف بھی رونما ہو جاتی ہے۔ بہت دفعہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک ہی مرض میں مبتلا اور ایک ہی ڈاکٹر کے زیرعلاج مریضوں میں سے ایک شفایاب ہوجاتا ہے ، دوسرے کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جبکہ تیسرا اس دنیا سے رخصت ہوجاتاہے۔ علاج صحت یابی کاایک ذریعہ ہے جسے اختیار کرنا چاہئے لیکن صحت اورزندگی کا دارومدار بالآخر قدرت کے فیصلوں پرہی ہوتاہے۔ اس لئے آزمائش کوئی بھی ہواور کتنی بھی شدید ہو‘ہمیں مایوسی کاشکار ہونے کی بجائے تمام ممکنہ اسباب اختیار کرنے چاہئیں اورفیصلہ بالآخر اس ہستی پر چھوڑ دینا چاہئے جو مسبب الاسباب کہلاتی ہے۔خالد رحمٰن کی ایک خوبصورت تحریر
صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی خاتون اس وقت طب کی تعلیم کے ایک بڑے ادارے کے نائب سربراہ کی ذمہ داریاں ادا کررہی تھیں۔ اپنے طویل کیرئیر کے دوران انہوں نے بہت ساعرصہ مختلف ہسپتالوں کے آئی سی یو( انتہائی نگہداشت کے شعبے)میں گزارا تھا۔اس شعبے میں مریضوں کوصرف غیرمعمولی صورت حال میں بھیجاجاتا ہے تاکہ ان پر ہمہ وقت اور بھرپور توجہ دی جاسکے‘ اس لئے کہ اس مرحلے پر نگہداشت میں ذرا سی کمی یا کوتاہی سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

”آئی سی یو“ میں اپنے زیرعلاج رہنے والے ایک مریض کا احوال بتاتے ہوئے کہنے لگیں:
” 20یا25 سال کا وہ نوجوان ایک حادثے کا شکار ہوا تھا ۔حادثہ اس قدر شدیدتھااور کچھ اس انداز میں پیش آیا کہ اس کے دماغ کا اندرونی حصہ بالکل ہی ٹوٹ پھوٹ گیا۔ بظاہر اب وہ بچنے کے قابل نہ تھا تاہم مشینوں کے ذریعہ اس کی سانس ہم نے بحال رکھی ہوئی تھی۔ اس کی زندگی سے مایوس ہوکر ہم شاید یہ مشینیں ہٹادیتے لیکن نوجوان ایک بڑے ادارے میں ملازم تھااورعلاج کے اخراجات بھی اسی کے ذمہ تھے۔ ادارے کی خواہش تھی کہ آخر وقت تک مریض کے علاج پر بھرپور توجہ دی جائے۔ایسے میں ہم اس کا علاج جاری رکھے ہوئے تھے۔

کئی روز گزرنے کے باوجود مریض کی کیفیت میں کوئی بہتری نہ آئی۔ اب توادارہ بھی علاج میں بہت زیادہ دلچسپی نہ رکھتاتھا لیکن نوجوان کے والدین کے اصرار پر علاج جاری رکھا گیا۔ والدین کی خواہش پر اسے اس کے اپنے شہر منتقل کرنے کا اہتمام بھی کردیا گیا تاکہ انہیں کچھ تسلی رہے۔
اس کے بچنے کے امکانات تو شروع ہی سے بہت کم تھے لیکن کئی روز گزرجانے کے باوجود بھی جب بہتری کے آثار نظر نہ آئے تو ڈاکٹروں کوخیال ہوا کہ علاج کو مزید جاری رکھنے کا اب کوئی فائدہ نہیں۔تاہم نوجوان کی ماں اب بھی اس کے لیے تیار نہ تھی۔

اب کیاکیاجائے! ماں کو اس بات پر کیسے قائل کیا جائے کہ اس کے بیٹے کی زندگی کی کوئی امید باقی نہیں رہی‘ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ عملاًختم ہوچکاہے۔
یہ ایک مشکل کام تھا تاہم کوئی بھی ذمہ دار ڈاکٹر اس پہلو کونظرانداز نہیں کر سکتاکہ ہمدردی اورتوجہ کے ساتھ مریض اور ا س کے لواحقین کو صدمہ برداشت کرنے کے لیے تیارکرے۔ خاتون ڈاکٹر نے جب بھی مشینوں کے سہارے زندہ اس نوجوان کی والدہ سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی توانہوں نے انہیں ٹوک دیا۔ پورے اعتماد کے ساتھ ان کا کہنا ہوتا:” میراآپ سے اس کے علاوہ کوئی مطالبہ نہیں کہ اس کاعلاج جاری رکھیں۔ میں جس سے دعا کررہی ہوں‘ اسی کے بھروسے پر مجھے یقین ہے کہ اپنے بیٹے کو اس کے پاﺅں پر چلاتے ہوئے گھر لے کرجاﺅں گی۔“

اور پھر چند ہفتوں بعد یہی ہوا!
پہلے مرحلہ میں مریض ازخود سانس لینے کے قابل ہوگیاجس کے بعد اسے آئی سی یو سے عام وارڈ میں منتقل کردیاگیا۔ اگلے کچھ دنوں میں اس کی صحت مزید بہتر ہوتی چلی گئی اور بالآخر وہ اپنے قدموں پر چلتا ہوا ہسپتال سے رخصت ہوا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹرصاحبہ بولیں:
” ڈاکٹر کی رائے کا انحصار تو مرض کی علامات اور مریض کی کیفیات پر ہوتا ہے لیکن آئی سی یو میں رہتے ہوئے اس بات کابارہا مشاہدہ ہوا کہ ایک ہی مرض میں مبتلا اور ایک ہی ڈاکٹر کے زیرعلاج مریضوں میں سے ایک شفایاب ہوجاتا ہے، دوسرے کی حالت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی جبکہ تیسرا اس دنیا سے رخصت ہوجاتاہے۔چنانچہ علاج محض ایک ذریعہ ہے جسے ضرور اختیار کرنا چاہئے لیکن صحت اورزندگی کا دارومدار بالآخر قدرت کے فیصلوں پرہی ہوتاہے ۔“
نوجوان کی ماں اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھی۔ اسی بنا پراگرچہ وہ علاج جاری رکھنے پرزوردیتی رہی لیکن اسے یقین تھا کہ جس کے ہاتھ میں صحت، زندگی اور موت کے فیصلے ہیں‘ اگر وہ راضی ہوجائے گا تو اس کا بچہ لازماًصحت یاب ہوجائے گا۔
آزمائش کوئی بھی ہو اور کتنی بھی شدید ہو‘ہمیں مایوسی کاشکار ہونے کی بجائے تمام ممکنہ اسباب اختیار کرنے چاہئیں ‘ تاہم فیصلہ اس ہستی پر چھوڑ دینا چاہئے جو مسبب الاسباب ہے۔