دمے کاحملہ‘ بچیں کیسے

129

قدرت نے ہمیں مختلف موسموں سے نوازا ہے اور ہر موسم اپنے اندرمختلف انداز کی خوب صورتی اور دلکشی لیے ہوتاہے۔ تاہم ہر موسم اپنے ساتھ کچھ مسائل بھی لے کر آتا ہے جن سے بالعموم وہ لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں جن کی قوت مدافعت کسی وجہ سے کمزور ہوتی ہے۔ اگر ہم سردیوں کی بات کریں تو ان میں سانس کی بیماریوں‘ خصوصاً دمے کی تکلیف کافی بڑھ جاتی ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ اس مرض کے بارے میں چند اہم امور سے آگہی حاصل کی جائے۔

دمہ کیا ہے
دمہ یونانی لفظ ’’ازما‘‘ (Azma)سے ماخوذ ہے جس کے معانی’’ سانس کا پھولنا‘‘ ہیں۔اس مرض میں سانس کی نالیوں میں سوجن اور تنگی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے مریض سانس لینے میں دشواری محسوس کرتا ہے اور کھانسنے لگتا ہے۔
مرض کی علامات
٭خشک کھانسی۔
٭سانس کی تکلیف۔
٭سینے میں سے سیٹی کی سی آوازیں آنا۔ؒٓؒٓ
٭چھاتی پر دباؤمحسوس ہونا۔

دمے کی وجوہات
٭پیدائشی طور پر کچھ لوگوں کے خون میں ایسے خلئے زیادہ بنتے ہیں جن پر الرجی کا اثر زیادہ ہوتاہے ۔ایسے لوگ دمے سمیت کچھ مسائل کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
٭ ماحول بھی اس بیماری کی وجہ بنتاہے ۔جس جگہ آلودگی ،دھواں اور گردوغبار زیادہ ہو‘ وہاں کے لوگوں میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے۔
٭وہ افراد بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں جو جسمانی مشقت یاایسی ورزشیں زیادہ کرتے ہیں جن میں سانس پھولتا ہے ۔
٭ادویات کابے جا استعمال بھی اس کا باعث بن سکتاہے ۔

بیماری کی تشخیص
اس مرض کی تشخیص کے لیے پھیپھڑوں کا ایک ٹیسٹ (pulmonary function test)کیا جاتاہے ۔اس میںڈاکٹر مریض کے پھیپھڑوں کی نالیوںمیں کسی ممکنہ تنگی یا رکاوٹ کا جائزہ لیتا ہے جو سانس لینے میں دشواری کا باعث بن رہی ہوں ۔اس کے ذریعے پھیپھڑوںکی عمومی صحت کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔ٹیسٹ کے نتائج کودیکھتے ہوئے معالج دواتجویز کرتا ہے۔

انہیلر کا استعمال
دمے کا حملہ ہو نے پر انہیلر استعمال کیا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا پمپ ہے جس کے ذریعہ دوا کو سانس کی نالی یا پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔سانس کی نالیا ں جس جگہ سے متاثر ہوتی ہیں ‘یہ دوا وہاں اثر انداز ہو کر اسے مزید خرابی سے بچاتی ہے ۔اس سے سانس کی نالی کھل جاتی ہے اور وہ باآسانی سانس لیتا ہے۔
دمے کے مرض انہیلرلینے کی تکنیک کو اچھی طرح سیکھیں۔اگر اسے ٹھیک طرح سے استعمال نہ کیا جائے تو دوا اپنے مقام تک نہیں پہنچ پاتی اور مریض کو فائدہ نہیں ہوتا۔اس کا صحیح طریقہ مندرجہ ذیل ہے:
٭سب سے پہلے انہیلر کا ڈھکن اتاریں۔
٭اس کے منہ کوٹشو یا روئی کی مدد سے اچھی طرح صاف کرلیں تاکہ اس پر لگے جراثیم یا گرد آپ کے منہ میں داخل نہ ہو سکیں ۔
٭ ڈھکن واپس لگائیں اور 5سے10مرتبہ اچھی طرح ہلائیں۔
٭اب گہری سانس لیں اور اسے خارج کریں۔انہیلر کو زبان اوردانتوں کے بیچ میں رکھ کر ہونٹوں کی مدد سے سیل کرلیں ۔اس کے بعدبٹن دبائیں اور گہری سانس لیں۔10سیکنڈ تک سانس روکے رکھیں۔
٭اب اس کو منہ سے ہٹا لیں اور آہستہ سے سانس خارج کریں۔
علاج کا دوسرا طریقہ ادویات کا استعمال ہے جوڈاکٹر مریض کی کیفیت کے مطابق تجویز کرتا ہے۔
احتیاطی تدابیر
دمہ کے مریض مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر اختیار کر کے اس مرض سے کافی حد تک بچ سکتے ہیں :
٭اس مرض سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو دھول اور دھوئیں میں کام کرتے ہیں۔ گندم کی کٹائی کرنے والے کسان‘ سڑکوں پر جھاڑو لگانے والے خاکروب‘ روئی دھننے اور آٹا پیسنے والے لوگ اس کی کچھ مثالیں ہیں ۔ایسے افراد کو چاہئے کہ کام کے دوران ماسک کا استعمال لازماًکریں تاکہ سانس کی دیگر بیماریوں سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔
٭اگربچے دمے کا شکار ہوں توانہیں سردیوں کے موسم میں‘اور خاص طور پر صبح اورشام کے اوقات میں باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
٭ایسے افراد چکنائی کی حامل اشیاء کا استعمال کم کریںکیونکہ اس سے مرض شدت اختیار کر سکتا ہے۔کھٹی چیزوں سے پرہیز کریں جبکہ سوپ اور یخنی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔
٭ ٹھنڈے اور برفانی علاقوں میں رہنے والے افراد خود کو سردی سے محفوظ رکھیں ورنہ ان کی سانس کی نالیاں تنگ ہونے کا خدشہ ہوتاہے۔ اس کے باعث انہیںنہ صرف سانس لینے میں دشواری ہو گی بلکہ دمے کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔ اگر باہر جانا ضروری ہو تو مفلر،ٹوپی اور دستانوں کا استعمال کریں۔
٭سگریٹ نوشی سے مکمل پرہیز کریں اور جہاں سگریٹ پیا جا رہا ہو‘وہاں بیٹھنے سے گرہیز کریں۔
٭گھر میں موجود کارپٹ گرد کو اپنے اندر روک لیتے ہیں ۔ اس لیے دمے کے مریضوں کے کمرے میں یہ ہرگزنہ بچھائیں۔

ڈاکٹر حضرات کو چاہیے کہ مریضوں کو اپنی نگرانی میں انہیلر کا استعمال سکھائیں اور انہیں یہ تسلی کر کے گھر بھجوائیںکہ انہوں نے اس کا استعمال سیکھ لیا ہے۔مریضوں کو چاہئے کہ دواؤں کا استعمال ادھورا مت چھوڑیں ‘ اس لئے کہ انہیں کافی عرصے تک باقاعدگی سے استعمال کرنے سے مریض کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔اکثر لوگوں کا معمول یہ ہے کہ جب تکلیف ہوئی ،انہیلر استعمال کر لیا اور جب خود کو بہتر محسوس کیا تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیرہی اسے چھوڑ دیا۔یہ طرزعمل درست نہیں۔انہیں چاہئے کہ ایک ہی دفعہ ڈاکٹر کے مشورے سے طویل عرصے تک دوا استعمال کریں اور پھر اس کے مشورے سے بالکل چھوڑ دیں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of