حقیقت کیا ہے

41

کیا چائے کا زیادہ استعمال منہ کی خشکی کا باعث بنتا ہے؟
عام طور پرلوگوںمیں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ چائے فی نفسہٖ مضر صحت ہے حالانکہ یہ بذات خود کوئی بری چیز نہیں ۔اس کے برعکس اگر اسے مناسب حد میں استعمال کیا جائے تو یہ نظام انہضام کو بہتر کرنے اوراسے فعال رکھنے میں مدد دیتی ہے لہٰذا یہ فائدہ مند چیز ہے۔ اکثر افراد چائے پینے پر خود کو چاق چوبند محسوس کرتے ہیں جبکہ اس کی عدم دستیابی پر انہیں تھکن اور سستی کا احساس ہوتا ہے ۔اس لیے آپ چائے پیئں ضرور مگر اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں ۔
اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ خالی پیٹ چائے پینے سے معدے میں تیزابیت ہو سکتی ہے جو آگے چل کر السر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔اس لئے ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔سبز چائے کو اگرچہ زیادہ مفید سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔مثال کے طور پر کچھ لوگوں کو اس سے قبض کی شکایت ہو سکتی ہے اور اگر اس کاحدسے زیادہ استعمال کیا جائے تو منہ کی خشکی (mouth dryness) کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ گہرے رنگ کی سبز چائے (dark tea) کو اکثر بہت دیر تک ابالا جاتا ہے۔ایسی چائے زیادہ پینے سے منہ کی خشکی کا مسئلہ ہو سکتا ہے ۔
مدیحہ انور،ماہر غذائیات،لاہور

کیا پھلوں کا استعمال صحت کے لیے ہمیشہ مفید ہوتا ہے؟
یہ بات بالکل ٹھیک ہے‘ اس لئے کہ ابھی تک کسی تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ پھل صحت کے لیے غیر محفوظ ہیں‘تاہم ان کی محفوظ مقدار کا تعین ہر فرد اور بیماری کے لحاظ سے مختلف ہو تا ہے۔مثلاً ڈائلیسزکے مریضوں کو ان پھلوں (مثلاً کیلا،کینو اورکھجور)سے منع کیا جاتاہے جن میںپوٹا شیم کی مقدارزیادہ ہو۔اسی طرح ذیابیطس کے مریضوں کو ایسے پھل کم کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو زیادہ میٹھے ہوں۔
فائزہ خان،ماہر غذائیات،کراچی

لیکوریاخواتین کی صحت کو تباہ اور ان کی ہڈیوں کو کمزور کرتا ہے؟
خواتین کے جسم میں آنے والی ہارمونز کی تبدیلیوں کے باعث ان کی شرمگاہوں سے ایک مادہ خارج ہوتا ہے جسے لیکوریا کہا جاتا ہے۔نوجوان لڑکیوں میں اکثر اس ہارمون کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس مادے کا اخراج بھی زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ایک قدرتی عمل ہے جو خواتین کی صحت اور ان کی ہڈیوں کو نقصان نہیں پہنچاتا‘ تاہم انفیکشن کی صورت میں یہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔انفیکشن کی علامات میں شرمگاہ پر جلن محسوس ہونا اور خارج ہونے والے مادے کی رنگت کا زرد یا سبز ہونا ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے۔
ڈاکٹر شازیہ فخر،ماہرزچہ وبچہ،شفا انٹر نیشنل ہسپتال ،اسلام آباد

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x