بچے کی تربیت پہلے سمجھیں‘ پھر سمجھائیں

164

    چھ ماہ قبل جب سارہ اپنی سات سالہ بیٹی رانیہ کا رزلٹ لے کر گھرلوٹی توبہت غصے میں تھی‘ اس لئے کہ وہ بمشکل پاس ہوئی تھی۔اپنے زمانہ طالب علمی میں سارہ خود بہت لائق رہی تھی لہٰذا اپنی بچی کی ایسی بری کارکردگی اس کی برداشت سے باہر تھی :
”نالائق !میری بے عزتی کروادی۔“
یہ اور اس جیسے اور بہت سے جملے بنا سوچے سمجھے سارہ کی زبان سے نکل رہے تھے۔ اس کے بعد اس نے رانیہ کا ٹی وی دیکھنا اور کھیل کود‘ سب بند کردیا اور اُسے ہروقت پڑھاتی ہی رہتی۔ جب چھ ماہ بعد ہونے والے امتحانات میں بھی اس کی کارکردگی پہلے سے بدتر رہی تو سارہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ اسے اپنی بیٹی کی ناکامی کی اصل وجہ تلاش کرنی چاہئے۔ وہ پریشان تھی کہ ہر وقت پڑھتے رہنے کے باوجود اس کی کارکردگی اتنی بری کیوں تھی ۔
سارہ نے اپنی ایک سہیلی کے سامنے یہ معاملہ بیان کیا تو وہ رانیہ پر نہیں‘ سارہ کے رویے پرحیران رہ گئی۔ اس کا اپنی بچی کو ہر وقت برا بھلا کہنے کا انداز بچی کو خوف کے اندھے کنوئیں میں دھکیلے چلا جارہا تھا۔ سارہ کی سہیلی نے اُسے سمجھایا کہ وہ پہلے خود میں تبدیلی لائے‘ اس کے بعد بیٹی کا بھلا سوچے۔ سارہ نے اپنی سہیلی کے کہنے پر بیٹی کے ساتھ پہلے دوستی کی اور اس میں اتنااعتماد پیدا کیا کہ وہ اپنی بات اس کے سامنے بیان کر سکے۔اس کا خاطر خواہ اثر ہوااور اگلے امتحان میں اس نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔
سارہ جیسی غلطیاں اور سختیاںاکثر والدین اپنے بچوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔ اپنے بچوں کو کامیاب اور مہذب بنانے کے شوق میں وہ اکثر وبیشتر حد سے گزر جاتے ہیں۔ان کی تربیت کا عام انداز یہ ہوتا ہے”ایسے کرو‘ایسے نہیں کرنا وغیرہ“یعنی اپنی نفی اور تحکم سے ہی بچوں کی تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اعظم مجید میڈیکل سنٹر‘فیصل آباد کی ماہر نفسیات ڈاکٹر حفصہ اختر کہتی ہیں:”نفی اورتحکم یہ دونوں اجزاءتعمیر نہیں، تخریب سے تعلق رکھتے ہیں اور تربیت کے لئے سخت مضر ہیں۔“ یہ انسانی جبلت میںہے کہ وہ اپنی کامیابیوں کو تو اکثر بھول جاتا ہے لیکن ناکامیاں اس کے اعصاب پر سوار رہتی ہیں۔ خاص طور پر بچے چونکہ ناپختہ ذہن کے مالک اور زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نا آشنا ہوتے ہیں ‘ اس لئے اُن کے لئے اپنی شکست کو قبول کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے۔ رہی سہی کسر ہمارے رویے پوری کر دیتے ہیں۔ بچوں کو کامیابی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو شکست سے لڑنا سکھایاجائے‘ انہیںیہ بتایا جائے کہ ناکامی کو مثبت رُخ کیسے دیاجاسکتا ہے۔ ڈاکٹر حفصہ کے بقول اس مقصد کے لئے درج ذیل تجاویز پر غور کرنا ضروری ہے:
 بچے کو وقت دیں
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کے بچے کی تعلیم وتربیت اور اس کی شخصیت کی تعمیر سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں۔آپ دفتر جائیں‘دوستوں کو وقت دیں‘ٹی وی دیکھیں‘ موبائل پریا گھر کے کاموں میں مصروف رہیں اور اپنے بچے کے لئے آپ کے پاس وقت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے فرائض میں کوتاہی کررہے ہیں۔
بچوں کو بھی سُنیں
بچے کی تربیت و رہنمائی کے لئے ضروری ہے کہ آپ خود صبر وتحمل کامظاہرہ کریں۔ اپنے بچے کا مسئلہ غور اور توجہ سے سنیں۔ بچے کے ساتھ دوستی کریں تاکہ وہ آپ کے ساتھ بلاجھجک بات کرسکے۔ گفتگو میں بچے کی حوصلہ افزائی کرنے سے اس میں اعتماد اور جرا¿ت پیدا ہوتی ہے۔ اگر بچہ شور مچاتا ہے تو اُسے بولنے دیں۔ اس سے اس کی بولنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح وہ اپنے خوف‘ اپنی ناکامیاں اور اپنی کامیابیاں بلاجھجھک آپ سے بیان کرسکے گا۔ اسی طرح آپ کو نہایت سمجھداری سے کام لے کر اس کی اظہار رائے کی صلاحیت بڑھانی ہوگی۔
ہر بار ”نہ“ مت بولیں
حد سے زیادہ روک ٹوک بچے کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ اس سے بچے ذہنی طور پر ہراساں ہوجاتے ہیں۔ ہربات پر ”نہ“ سن کر بچے کی شخصیت گھُٹ کر رہ جاتی ہے۔ اُن کی فکر مفلوج اور قوتِ فیصلہ مفقود ہوجاتی ہے۔ منفی رویے سے بچے میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ وہ کچھ بھی کہے‘ والدین نے نہیں ماننااور اسے ڈانٹ ہی پڑنا ہے۔
بچوں کی حوصلہ افزائی کریں
ناکامی کی صورت میں بچے کو پیار سے سمجھائیں۔ اسے بتائیں کہ اگر آج اس نے کم نمبرحاصل کئے ہیں تو اگلی باروہ بہت اچھے نمبر بھی لے سکتا ہے۔ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو اُمید دلائیں‘ اُن میں حوصلہ پیدا کریں اور اُنہیں بہتری کی یقین دہانی کرائیں۔ بچے کو بتائیں کہ حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے اور وقت بدلتا رہتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس سال جماعت میں اول آنے والا بچہ اگلے سال بھی پہلی ہی پوزیشن حاصل کرلے۔ اگر وہ دل لگا کر پڑھے گا تو پہلی پوزیشن اگلی بار اُس کی بھی آسکتی ہے۔ بچے کے منفی خیالات کو ختم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔
اس کی تعریف کریں
تعریف کس کو اچھی نہیں لگتی۔انسان کے اندر فطری طور پر اپنی تعریف کا جذبہ پایاجاتا ہے۔یہ سن کر بچے خوش ہوتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھتاہے۔ ہر بچہ اپنی خوبیوں کو کامیابی کے لئے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر آپ اُس کی چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر دل کھول کر داد دیں گے تو وہ لگن اور شوق سے پڑھے گا اور تعریف کی خواہش میں مزید محنت کرے گا۔
ڈاکٹر حفصہ کہتی ہیں” یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچے کو دل شکستہ اور مایوس ہونے سے بچائیں۔“انہیں منفی القابات سے مت پکاریں۔ ہمارے معاشرے میں یہ بہت عام ہے کہ بچوں کو برے ناموں سے پکارا جاتا ہے اور والدین اور دیگر لوگ آرام سے بچے کو کہہ دیتے ہیں”تم بہت بدتمیزہو، ضدی ہو، نالائق ہو اور سست ہووغیرہ۔“ یہ سارے نام شخصیت کے منفی پہلوﺅں کو اُجاگر کرتے ہیں۔ بچوں کو اس طرح کے ناموں سے پکارنا غلط طرز عمل ہے کیونکہ پھر یہ خصوصیات بچوں کی شخصیت کا جزو بن جاتی ہیں اور ساری زندگی ان کے اخلاق وکردار‘عادات واطوار پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس طرح وہ باغی ہونے لگتا ہے۔بچے پر اعتماد کریں تاکہ وہ سرکشی اور بغاوت کی طرف مائل نہ ہو۔
اپنا انداز بدلیں
بچوں کی اچھی تربیت کے لئے اُن پر کچھ پابندیاں لگانا پڑتی ہیں‘ لیکن یہ سب کچھ اچھے انداز میں کرنا زیادہ بہتر نتائج لاسکتا ہے مثلاًغلط کام سے روکنا ہو تو بجائے یہ کہنے کہ ”یہ کیا کردیا؟،تمہیں عقل نہیں وغیرہ۔“ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ” بیٹے! اگر آپ ایسے نہیں بلکہ ایسے کرلیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔“ کوشش یہ کریں کہ گفتگو میں تحکم کی بجائے مشورے کا انداز اپنائیں، اس لئے کہ نرم اور محبت بھرے الفاظ ذہن میں نقش ہوجاتے ہیں اور زیادہ عرصے تک پُراثر ثابت ہوتے ہیں۔
بچے کی شخصیت کو اُبھرنے کا موقع دیں
بچے کو اپنی ذات اور پسند سے متعلق پوری آزای دیں۔ اُس کی صلاحیتوں اور رجحانات کا مکمل تحفظ کریں۔ اپنی تربیت سے اس کی مدد کریں۔ اُس کو کسی جائز بات سے صرف اس لئے نہ روکیں کہ وہ آپ کے مزاج کے خلاف ہے۔ اگر اُس چیز یا کام میں اس کی بہتری ہے اور وہ اس طرح اپنی صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے بروئے کارلاسکتا ہے تو اس کی شخصیت کا گلا نہ گھو نٹیں۔ داکٹر حفصہ کے الفاظ میں:
”زبردستی اپنی مرضی تھوپنے سے بچہ چڑچڑا ہو جاتاہے۔بچے کی بات سنیں اوراس کی منشاءاوراس کی دلچسپیاں جانیں۔اُسے کم عمر اورناتجربہ کار سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ مستقبل کا ایک کامیاب شخص بنانے کے لئے اس کی تربیت کریں۔“
بچے کے ساتھ آپ کا کمیونی کیشن جتنا بہتر ہوگا‘ آپ اس کے مسائل سے اتنا ہی بہتر طور پر آگاہ ہو سکیں گے ۔اس سے اس کی تربیت کا کام آسان ہو جائے گا۔