اون سے الرجی

316

ایمن کی دادی نے اس کے لیے بہت خوبصورت اونی سوئٹر اورٹوپیاں بھیجی تھیں۔آج ٹھنڈ بھی کافی تھی لہٰذا اس کی ماں ارم نے ان میں سے ایک سرخ رنگ کا سوئٹر اس کو پہنا دیا۔اسے پہن کر وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ ارم نے اسے اٹھا کر چوم لیا ۔وہ ایمن کو کمرے میں لٹا کہ گھریلو کام نپٹانے لگی۔تھوڑی دیر میں جب اس کی واپسی ہوئی تو اس نے دیکھا کہ ایمن کچھ بے چین سی ہے ۔وہ فوراً اس کی طرف بڑھی اور اسے گود میں اٹھالیا۔ اس کی ناک بہہ رہی تھی اور آنکھوں سے بھی پانی نکل رہا تھا ۔ تھوڑا غور کرنے پر اس نے دیکھا کہ اس کے سارے جسم پر دھپڑ(rashes) بھی پڑے ہوئے ہیں ۔
یہ صورت حا ل دیکھ کر وہ پریشان ہو گئی۔اسی فکر میں اس نے اپنی بڑی بہن کو کال کی اوراسے تمام ماجرا سنایا۔ارم روہانسی ہو رہی تھی جس پر اس کی بہن نے اسے تسلی دی اور کہا کہ شام کو کسی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں اوراس نے خود بھی اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔شام کو وہ ڈاکٹر کے پاس پہنچی۔ معائنے کے بعد اس نے بتایا کہ بچی کو ’’wool‘‘ یعنی اُون سے الرجی ہے ۔

’’اون سے الرجی؟‘‘ارم نے حیرت سے پوچھا۔
’’جی ہاں،ایسا ہی ہے‘‘ڈاکٹر نے اس کی تصدیق کی۔
’’اون تو ایک کپڑا ہے ۔اس سے کیسے کسی کو الرجی ہوسکتی ہے۔‘‘ ارم یہ سن کر بہت حیران ہوئی ۔
’’جی ہاں، یہ بالکل ممکن ہے۔یہ اتنی عام نہیں مگر کچھ لوگ اس کا شکار ہو سکتے ہیں ۔‘‘ڈاکٹر نے جواب دیا۔
’’لیکن یہ الرجی ہوتی کیاہے؟ارم نے تجسس اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں پوچھا۔اس کے جواب میں ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ قدرت نے ہمارے جسم میںایک خاص دفاعی نظام تشکیل دے رکھا ہے جو باہر سے جسم میں داخل ہونے والی کسی بھی چیز کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ یہ نظام اگرچہ ہمارے تحفظ کے لئے ہے لیکن الرجی کی صورت میں اس کی ایک شاخ یا اینٹی باڈی ’آئی جی ای‘ الرجن (الرجی کا باعث بننے والا مادہ)کے خلاف تبدیل شدہ انداز میں خطرناک طور پر متحرک ہو جاتی ہے۔ اسی کو ہم الرجی کہتے ہیں۔

اونی کپڑے اور الرجی
اس الرجی کا سبب وہ تیل ہے جو بھیڑ کی اون میں پایا جاتا ہے۔ یہ تیل لینولین(Lanolin)کہلاتا ہے۔ جس کسی کو اس تیل سے الرجی ہو‘ اسے اس کریم اورلوشن سے بھی الرجی ہو گی جس میں یہ تیل شامل ہو گا۔چونکہ بہت سی کریموں میں اس کو شامل کیا جاتا ہے لہٰذا جن لوگوںکو اون سے الرجی ہو‘ انہیں ان کے استعمال سے پہلے ان میں شامل اجزاء کا جائزہ ضرور لینا چاہئے ۔
بہت سے لوگ جب اونی کپڑے پہنتے ہیں تو ان میں الرجی کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں لیکن ضروری نہیں کہ اس کا سبب اون ہی ہو۔ انہیں اس سے بنے ملبوسات میں موجود گردوغبار (dust) یا کچھ کیمیکلزکی وجہ سے بھی الرجی ہو سکتی ہے۔اس لیے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ بچے کو اس تیل یعنی ’لینولین‘ سے ہی الرجی ہے یا ا س کا سبب کچھ اور ہے ۔یہ چیک کرنے کے لیے بچے کو پہلے کاٹن کی بنیان پہنائیں اور پھر اس کے اوپر اونی سویٹر پہنائیں۔ اگرعلامات ظاہر نہ ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اُون سے الرجی نہیں۔اس کے لیے ایک تشخیصی ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے جسے سکن پیج ٹیسٹ(Skin Patch Test)کہتے ہیں۔

علامات کیا ہیں
جن بچوں کو اون سے الرجی ہو‘ ان میں جلدی خارش‘ دھپڑ‘آنکھوں کا سرخ ہونا‘سوزش‘ کھانسی یا سانس کے مسائل ‘ ناک بہنے یا چھینکیں آنے کی علامات سامنے آسکتی ہیں ۔ ڈاکٹر مریض کی حالت کا جائزہ لینے کے بعد دوا تجویز کرتا ہے۔ اس لئے محض علامات اور مشاہدے کی بنیادپر خودعلاجی سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

کرنے کے کام
الرجی کا بہترین حل احتیاط ہے جس کے لئے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیں:
٭ موسم سرما کے آغاز پراونی کپڑوں کو دھو کر استعمال کریں۔
٭ جلد کو باقاعدہ موئسچرائز کریں۔اس کے لئے کسی اچھے بے بی لوشن یاکریم سے مساج کریں لیکن پہلے یہ تسلی کرلیں کہ اس میں لینو لین شامل نہ ہوجو الرجی کا باعث بنتی ہے۔
٭ اونی کمبل متاثرہ فردسے دور رکھیں اور اون کے کپڑوں کی بجائے کاٹن‘ ریشم اور لینن کے کپڑے استعمال کریں۔
٭اس الرجی کا شکار وہ افرادبھی ہو سکتے ہیں جو سانس یا دمے کے مریض ہیں ۔اون کے استعمال سے ان کے مرض میں شدت آ سکتی ہے اس لیے احتیاط لازمی کریں۔
٭ اگریہ الرجی ہو جائے تو اسے نظرانداز کرنا مناسب نہیں ۔جن لوگوںکو اس کا خدشہ ہو‘ انہیں چاہئے کہ بروقت الرجی سپیشلسٹ کے پاس جائیں۔ تشخیص جتنی جلدی ہو، اتنا ہی بہتر ہے ۔

الرجی کسی بھی فرد کو کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسی کوئی بھی علامت خود میں یا بچوں میں دیکھیں تو ڈاکٹر سے لازماًمشورہ کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
(ک۔ف)

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of