دماغ کو صحت مندکیسے رکھیں

99

٭دماغی اور اعصابی امراض کو ’’نیورولوجی‘‘ کیوں کہا جاتا ہے اور اس شعبہ میں کن کن بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے؟
٭٭نیورو لوجی کا بنیادی تعلق ہمارے اعصابی نظام کے ساتھ ہے۔ اس میں دماغ اور
حرام مغز کے علاوہ ان ریشوں کا بنڈل بھی شامل ہے جو عصبی مراکز اور جسمانی اعضاء کے درمیان پیغامات کی ترسیل کرتا ہے۔ اس شعبے میں ان تمام مسائل کا علاج کیا جاتا ہے جن کا بلاواسطہ یابالواسطہ تعلق ان حصوں کے ساتھ ہوتا ہے جن کا اوپر ذکرکیا گیا ہے۔اس میں دماغ میں ٹیومر،دماغ میں انفکیشن ہونا، برین ہیمبرج(دماغ میں خون جاری ہونا) ، دماغ میں پانی کا جمع ہونا،بچوں کی کمر پر پیدائشی طور پر پھوڑا ہونا،کمر ،ٹانگ اور بازو کا درد،فالج، حادثات کے دوران دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے زخم کا علاج شامل ہیں۔

٭نیورولوجی بنیادی طور پر نیوران سے متعلق شعبہ ہے ۔ یہ بتائیے کہ نیورانز کیا ہوتے ہیں اور کہاں پائے جاتے ہیں؟
٭٭نیوران دماغ اور حرام مغز میں پائے جاتے ہیں اور انہی کے ذریعے پیغامات دماغ سے جسم کے دیگر حصوں تک اور ان سے دماغ تک پہنچائے جاتے ہیں۔ان خلیوں میں باہمی رابطے سے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ہماری شخصیت بنتی ہے۔یہ خلیے انسانی جسم میں پیدائش سے لے کر موت تک موجود رہتے ہیں۔اگر ان میں سے کوئی خلیہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے تو پھر دوبارہ نہیں بن سکتاتاہم اس کا کوئی چھوٹا حصہ زخمی ہوجائے تو وہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔
٭ہمارے جسم میں دماغ کی کیا اہمیت ہے؟
٭٭دما غ ہمارے جسم کا نہایت اہم عضو ہے جو پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے۔ جسم کے اندر پیغام رسانی، سوچنے سمجھنے اور یا دداشت کے علاوہ دورانِ خون،عمل تنفس،بینائی اور ذائقوں کومحسوس کرنے جیسے اہم افعال بھی دماغ ہی کی وجہ سے انجام پاتے ہیں۔ مزیدبرآںدماغ کا ریڑھ کی ہڈی سے رابطہ جسم کو متوازن اور فعال رکھتا ہے۔

٭ہم اپنے دماغ کو کیسے صحت مند رکھ سکتے ہیں؟
٭٭دماغ کو صحت مند رکھنے کے لیے اپنے تمام تر کاموں کو تنظیم اور ترتیب سے انجام دینا اور ان کے لئے خاص نظام الاوقات بنانا بہت ضروری ہے۔ ان کاموں میں سونے جاگنے کے اوقات، صحت بخش غذااور ورزش بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ وقت کی تقسیم اس طرح سے کریں کہ کام کے وقت کام اور آرام کے وقت آرام کیا جاسکے ۔ خاص طور پرسونے کے لئے وقت مخصوص ہونا چاہئے کیونکہ چھ سے آٹھ گھنٹے کی پرسکون نیند دماغ کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔
٭ریڑھ کی ہڈی کی حفاظت کیسے کی جائے؟
٭٭ ریڑھ کی ہڈی کی حفاظت کے لئے گردن پر توجہ دیں۔اسے ہمیشہ سیدھا رکھیں۔ کھڑے ہوتے اور کام کرتے ہوئے نہ تو بہت زیادہ جھکیںاورنہ گردن کو زیادہ پیچھے کی طرف کریں۔ کوشش کریں کہ گردن کومناسب‘ متوازن اورفطری حالت میں رکھا جائے ۔
٭کمر کونقصان سے بچانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
٭٭اس کے لیے روزانہ کی چہل قدمی اور ورزش سے بہتر کوئی حل نہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں کہ کمر جسم کا نازک حصہ ہے جس پر زیادہ دبائو ڈالا جائے تو اسے نقصان پہنچ سکتا ہے ۔اس لیے اٹھنے بیٹھنے اور کھڑا ہونے کے لئے درست انداز اختیار کیا جائے۔ کوشش کریں کہ زیادہ جھک کر کام نہ کیا جائے۔ وزن اٹھاتے ہوئے بھی احتیاط کریںاورکوئی چیزجھٹکے سے نہ اٹھائیں۔ واک آپ کے دماغ،دل،ریڑھ کی ہڈی اور پورے جسم کے لیے صحت مند سرگرمی ہے لہٰذا روزانہ یا ہفتے میں کم از کم پانچ دن 30 سے 35منٹ تک مسلسل تیز چلنے ی عادت اپنائیں ۔ماہرین صحت کے مطابق ایک صحت مند انسان کے لیے روزانہ 10000 قدم چلنا نہایت ضروری ہے۔ سمارٹ فونوں میں قدم شماری (step counter )کے لئے ایسی بہت سی ایپس موجود ہیں جن کی مدد سے یہ کام باآسانی کیا جاسکتا ہے۔روزانہ 6000 سے 7000قدم پیدل چلنے والا شخص وزن بڑھنے اور کمر کی تکلیف کی شکایت کا شکار نہیں ہوتا۔
٭وزن اٹھانے میں کیا احتیاط کرنی چاہیے؟
٭٭اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ بہت زیادہ زور لگا کر کوئی بھی چیز اٹھانے کی کوشش نہ کریں ۔اگر وزن زیادہ یاآپ کی قوت برداشت سے بڑھ کر ہو توبھی اسے نہ اٹھائیں۔ وزن اٹھانے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے جسم کے قریب کرکے اٹھائیں۔اگرضروری ہو تو اس کے لئے بیلٹ استعمال کریں ۔اس طرح وزن اٹھانے میں آسانی ہوجائے گی۔

٭دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کو صحت مند رکھنے کے لیے کون سی ورزشیں ہیں بہتر ہیں؟
٭٭چہل قدمی اور بھاگ دوڑ والی ورزشیں دماغ اور کمر کے لیے بہت اچھی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ لیٹ کر ایک ٹانگ کو ا وپر کی جانب لے جائیں اور پھر دوسری ٹانگ کے ساتھ یہ عمل دہرائیں۔ورزش کوئی بھی ہو‘ اس کا دماغ پر اثر اچھا ہی پڑتا ہے۔ایسی ورزش نہ کریں جو آپ کے جسم کے لیے نقصان د ہ ہو۔ کسی بھی تکلیف کی صورت میں فوراً ورزش ترک کردیں ۔
٭ اگر ہم حادثات کی بات کریں تو ہمارے ہاں سر میں لگنے والی چوٹوں کا گراف خاصا بلند ہے۔اس کی وجوہا ت کیا ہیں اور ان سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
٭٭ ہمارے ہاں سر اور ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی چوٹوں کی اہم وجہ ٹریفک حا دثات ہیںجس کا واحد حل احتیاط ہے۔ ہمیں چاہئے کہ پورے خلوص سے ٹریفک قوانین کی پابندی کریں۔ گاڑی چلاتے وقت سیٹ بیلٹ باندھی جائے اور موٹر سائیکل سواری کے دوران ہیلمٹ استعمال کیا جائے۔آج کل کی نوجوان نسل ان ضروری چیزوں کو غیر ضروری اور بوجھ سمجھتی ہے۔ ایسے میں جب خدانخواستہ حادثہ ہو جاتا ہے توپھر وہ یا تو عمر بھر کے لیے اپاہج ہوجاتے ہیں یا والدین کو ہمیشہ کے لئے روتا چھوڑ جاتے ہیں۔ اگر دماغ پر کوئی گہری چوٹ آجائے تو علاج کرنا مشکل ہو جا تا ہے جبکہ عام چوٹوں کا علاج ہو جاتا ہے ۔والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں پرتو جہ دیں اور ان کی کڑی نگرانی کریں تاکہ وہ حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔
٭دماغ کے ایسے کون سے حصے ہیں جن پراگر چوٹ لگ جائے تو ان کا ٹھیک ہونامشکل ہوتا ہے؟
٭٭دماغ جسم کابہت ہی نازک حصہ ہے جس کے کچھ حصے بہت حساس کام سر انجام دیتے ہیں۔ان حصوں پر چوٹ لگنے کے بعد ان کے ذمے کاموں کا بحال ہوجانا تقریباً ناممکن ہوجاتاہے۔ مثلاً اگر دماغ کے بائیں طرف کے اس حصے پر گہری چوٹ آ جائے جو بولنے میں مدد دیتا ہے تو فرد کی قوت گویائی متاثر ہوسکتی ہے۔اسی طرح بعض حصوں پر چوٹ لگنے سے دیکھنے اور سننے کی صلاحیت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ بعض اوقات نارمل حالت میں واپسی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوجاتی ہے۔
٭دماغ کے اندرونی حصوں میں چوٹ کی علامات کیا ہوتی ہیں؟
٭٭دماغی چوٹ کی علامات میں چند لمحوں یا منٹوں کے لئے بے ہوش ہوجانا‘ اگر فرد ہوش میں ہو توپریشانی، بدحواسی یا سرچکرانے کی حالت میں ہونا،نیند آنے میں دشواری یا پرسکون نیند نہ آنا، سر میں درد رہنا،متلی یا الٹی ہونا،غنودگی یا تھکاوٹ کا شکار ہونا،معمول سے زیادہ سونا اور جسمانی توازن برقرار نہ رکھ پانا شامل ہیں۔
٭لقوہ اور فالج میں کیا فرق ہے؟
٭ ٭لقوہ اور فالج میں بہت فرق ہے۔ چہرے کو خون سپلائی کرنے والی شریانوں میں سوزش یا ورم ہو جائے تو اس سے چہرہ متاثر ہوتا ہے جسے لقوہ کہتے ہیںجبکہ فالج کا تعلق دماغ سے ہے۔
٭عام سردرد headache)) اور درد شقیقہmigrain))میں کیا فرق ہے؟
٭٭ سر دردکی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں جن میں سر میں رسولی ،انفیکشن یا ذہنی دباؤ نمایاں ہیں۔ درد شقیقہ(آدھے سر کا درد) سر درد ہی کی ایک قسم ہے جس کی سائنس ابھی تک حقیقی وجہ دریافت نہیں کرپائی۔ یہ درد سر کے ایک حصے میں ہوتا ہے جس میں مریض کو متلی اور قے آسکتی ہے۔ اس کے بعدسر میں شدید درد ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں روشنی بہت بری لگتی ہے۔مریض کی یہ حالت دو یاتین دن تک رہتی ہے ا ور پھروہ ٹھیک ہو جاتا ہے۔ایسا درد رفع ہونے کے بعد دوبارہ بھی ہوسکتا ہے۔ کچھ مریضوں کو مہینے میں پانچ سے چھ بار جبکہ کچھ کو دو سے تین بار اس کی شکایت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں بہت سے لوگ عام سردرد کو بھی میگرین سمجھتے ہیں جس سے علاج غلط رخ پر چلا جاتا ہے اور بسا اوقات مریض کی صحت مزید خراب ہوجاتی ہے۔
٭مرگی سے کیا مراد ہے؟
٭٭میڈیسن میں مرگی کے لئے یونانی زبان کا لفظ ’’اپیی لیپسی‘‘ استعمال ہوتا ہے جس کا لفظی مطلب ’’ پکڑے جانا ‘‘ ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے مریض کو وقتاً فوقتاً دورے پڑتے ہیں جس کا سبب دماغی اعمال میں عارضی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ مرگی کی دو بڑی اقسام عمومی اور جزوی مرگی ہیں جبکہ دورے کی قسم کا انحصار اس بات پر ہے کہ دماغ کا کون سا حصہ کس حد تک متاثر ہوا ہے۔
٭مرگی کے مریض کو دوران دورہ کیا احتیاطیں کرنی چاہئیں؟
٭٭اگر کسی شخص کو مرگی کا دورہ پڑ جائے تو اس کے اردگرد موجود لوگوں ‘ رشتہ داروں یادوست احباب کو چاہئے کہ خود کو پرسکون رکھیں اور مریض کو جہاں بھی جگہ ملے‘ آرام سے لٹا دیں۔ اس کے دورے اور اس کی جسمانی حرکات کو اپنی طاقت سے روکنے کی کوشش نہ کریں۔اگر دورہ کسی خطرناک جگہ مثلاً مصروف سڑک وغیرہ پر پڑا ہو تو اسے وہاں سے ہٹا لیں۔اسے جس جگہ لٹانا ہو‘ اس جگہ سے سخت،گرم اور دھاری دار اشیاء ہٹا دیں اور اس کے سر کے نیچے کوئی نرم چیز رکھیں۔اس کی عینک اور مصنوعی دانت اتار لیں اور کسے ہوئے کپڑے مثلاً ٹائی، مفلر اورکالروغیرہ ڈھیلے کردیں۔ ایسے میں فوری طور پر ڈاکٹر کولینے کے لئے جانے کی ضرورت نہیں‘ اس لئے کہ مریض کو خود سنبھالا جاسکتا ہے اورویسے بھی ڈاکٹر کے آنے تک دورہ ختم ہوچکا ہوتاہے۔بعض لوگ دورے کے دوران مریض کے دانتوں کے درمیان کوئی چیز ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس کی زبان کو کٹنے سے بچایا جا سکے۔ ایسا ہرگز نہ کریں ورنہ اس کوشش میں آپ مریض کو زیادہ نقصان پہنچاسکتے ہیں۔دورہ ختم ہونے کے بعد مریض کو کروٹ کے بل لٹادیں تاکہ اس کے منہ سے تھوک وغیرہ نکل جائے۔اس وقت کچھ مریض ذہنی طور پر بدحواس ہوجاتے ہیں لیکن ایسا وقتی ہوتا ہے۔ اگر مریض سونا چاہے تو اسے آرام کرنے دیں۔بعض اوقات مریض کواپنی حرکت پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے میں اُسے اطمینان دلائیں اور تسلی دیں۔جب تک مریض مکمل طور پر بیدارنہ ہوجائے‘ اسے کوئی مشروب مت پلائیں۔ایک آدھ دفعہ دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کو طبی امداد کی ضرورت نہیںلیکن اگر ایک سے زیادہ دورے پڑیں توڈاکٹر (نیورولوجسٹ) سے لازماًرجوع کریں۔

٭فالج آج کل کافی عام ہے۔اس سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
٭٭اس سے بچنے کے لیے سات آسان اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے۔کم چکنائی والا اور صحت بخش کھانا کھائیں ،پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں، پروٹین سے بھرپور غذاکھائیں جس کے حصول کا اہم ذریعہ مرغی اور مچھلی ہیں۔ واک اور ورزش کو معمول بنائیں، نمک کا کم استعمال کریں اوربلڈ پریشر کو کنٹرول میںرکھیں۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں اوراپنے سونے جاگنے کے معمول کو بہتربنانا بھی اس کے خطرات کو کم کرسکتا ہے۔
٭سننے میں آیا ہے کہ موبائل کے زیادہ استعمال سے دماغی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟
٭٭وہ بچے جو ان چیزوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں‘ ان کے دماغ کی نشوونما صحیح نہیں ہوپاتی۔ایسے بچے چڑچڑے ،تنہائی پسند اور لوگوں سے بیزار ہوتے ہیں۔ ایسے بچے
ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اس حوالے سے بچوں پر نظر رکھیں۔
٭دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ نا مساعد حالات میں بہت جلد گھبرا جاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتاہے اور اس سے کیسے نپٹا جائے؟
٭٭اگرچہ اس سوال کا تعلق ماہرنفسیات سے ہے لیکن میں اس کا مختصراً جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح ہم دوسروں کی تربیت کرتے ہیں‘ اسی طرح خود اپنے دماغ کی بھی تربیت کر سکتے ہیں۔ دیگر امور کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے دماغ کی اس حوالے سے بھی تربیت کرنا ہوگی کہ مختلف قسم کی مشکل صورت حال میں ہمیں اپنے آپ کو کیسے سنبھالنا ہے ۔ اگر آپ کے دماغ نے پہلے سے پریشانی میںپرسکون رہنا سیکھا ہوا ہے ،آپ کاہر معاملے میں اللہ پر بھروسا ہے اورورزش آپ کی مستقل عادت ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ پریشانی میں گھبراہٹ کے شکار نہیں ہوں گے۔ کچھ لوگوں کی گھبراہٹ اور پریشانی کی ایک وجہ ان کے ذہنوں پر ہر وقت کام کا سوار رہنا ہے۔ اس مسئلے کا حل کاموں کو ان کی اہمیت اور توجہ کی ضرورت کے مطابق تقسیم کر لیناہے۔اس خاص تناظر میں انہیں چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے پہلی قسم ان کاموں کی ہے جو اہم بھی ہیں اور فوری توجہ کے طالب بھی ۔جن لوگوں کے وقت کا بڑا حصہ ایسے کاموں میں گزرتا ہے‘ وہ اکثر پریشان ہی رہتے ہیں۔ دوسری قسم کے کام وہ ہیں جو اہم تو ہیں لیکن ایسے نہیں جنہیں کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنا پڑتے ہوں۔سب سے زیادہ خوش وہی لوگ رہتے ہیں جن کے زیادہ تر کام اس کیٹگری میں آتے ہیں۔ تیسرے وہ کام ہیں جوغیر اہم ہونے کے باوجود کسی وجہ سے ہنگامی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ ایسے کاموں کی فہرست بہت چھوٹی ہونی چاہئے۔ چوتھی قسم ان کاموں پر مشتمل ہے جو نہ تو اہم ہیں اورنہ فوری توجہ کے طالب‘ بلکہ محض تفریح طبع کے لئے ہیں۔اگر ہم مطمئن رہنا چاہتے ہیں تو ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہمارے زیادہ تر کام اس خانے میں رہیں جو اہم تو ہیں لیکن فوری اور ہنگامی توجہ کے طالب نہیں اور ہم انہیں اپنی مرضی اور سہولت سے کر سکیں۔اگر ہم کاموں کی اس طرح تقسیم کر لیں توکام بھی ہوجائیں گے اور ہمیں پریشانی بھی نہیں ہوگی۔

٭آخر میں آپ قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
٭٭سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اپنے طرزِ زندگی کو صحت مندانہ بنائیں‘ڈپریشن سے خود کو بچائیں،سادہ زندگی اپنائیں،سونے کے اوقات مقرر کریں اورموبائل کے استعمال کو کم سے کم کریں۔ سب سے اہم بات یہ کہ آج کا کام آج ہی انجام دیں اور اسے کل پر نہ چھوڑیں ۔ بلاناغہ چہل قدمی اور ورزش کی عادت ہی صحت مند زندگی کی ضامن ہے۔

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x