عینک کب, کون سی, کتنی دیر لگائیں

600

آنکھیں قدرت کے مناظر کو دیکھنے اور انہیں سراہنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔اگر کسی وجہ سے یہ نعمت چھن جائے یا مسائل کا شکار ہوجائے تو دنیا بے رنگ سی لگنے لگتی ہے۔اس لئے اس کی حفاظت بہت ضروری ہے ۔اس حوالے سے نظر کی کمزوری سب سے عام مسئلہ ہے اور ہر عمر میں لوگ اس کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ عینک کا استعمال بھی اہم ہے اور خصوصاً ان والدین کو پریشان کئے رکھتا ہے جن کے بچے اسے لگانے میں لاپرواہی برتتے ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سی مفید معلومات جانئے شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آبادکی
ماہر امراض چشم ڈاکٹر زیبا الیاس کے صباحت نسیم کو دئیے گئے اس انٹرویو میں

نظر کمزور کیوں ہوتی ہے؟
٭٭ نظر کی کمزوری کا سب سے بڑا سبب تو عمر کا بڑھنا ہے لیکن یہ کچھ اور وجوہات مثلاً آنکھ پرچوٹ لگنے اور ذیابیطس وغیرہ کی وجہ سے بھی کمزور ہوجاتی ہے۔ اگر نظر 40 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کمزور ہو جائے تو اس کا تعلق آنکھ کی بناوٹ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ جب بچہ نشوونما پا کر بڑا ہوتا ہے تو اس کے قد اور دیگر اعضاءمثلاً ہاتھ اورپاو¿ں کی طرح آنکھ کے سائز میں بھی اضافہ اور تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ اس نشوونما کے دوران بعض بچوں کی آنکھ کی لمبائی نارمل سائز سے ذرا زیادہ بڑی ہو جاتی ہے جبکہ بعض کی مطلوبہ سائز سے چھوٹی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح کچھ بچوں کے قرنیہ(cornea) کی ا±فقی اور عمو دی گو لا ئی میں فرق ہو تا ہے تو کچھ کی آنکھ کا عدسہ(lense) نارمل سائز یا شکل کا نہیں ہوتا۔اِن تمام صورتوں میں آنکھ میں داخل ہونے والی شعا ئیں پردہ چشم (retina) پر جمع ہونے کے بجائے اس سے آگے یا پیچھے جمع ہوتی ہیںجس کے نتیجے میں دیکھے جانے والی چیزوںکی تصویر پردہ چشم پر دھندلی بنتی ہے۔ ایسے میں دماغ کو یہ فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آتی ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے۔ اگر ارتکاز میں خرابی کم ہو تو دماغ‘ آنکھ کے نظام میں کچھ تبدیلیاں لا کر چیز کی شبیہہ کو کافی حد تک واضح کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ایسی صورتِ حال میں چونکہ اعصاب اورپٹھوں پر اضافی دباﺅ پڑتا ہے لہٰذا آنکھوں پر دباو¿محسوس ہوتا ہے، سر بھاری ہونے لگتا ہے اور فرد تھکاوٹ کا شکارہو جاتا ہے۔آنکھوں کے اعصاب اور عضلات کے غیر متوازن استعمال کی وجہ سے بعض بچوں میں بھینگاپن بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

٭وہ کون سا مرحلہ ہے جس میں نظر کمزور ہونا شروع ہوتی ہے؟
٭٭نظر کی کمزوری کا پہلی دفعہ احساس مختلف لو گوں میں مختلف اوقات میں ہو تا ہے۔ بچوں کی عمر کے دو حصّے ایسے ہیں جن میں ا±ن کا جسم زیادہ تیزی سے بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ان میں سے پہلا 10 سے12 سال اور دوسرا 16 سے 18 سال کی عمر ہے۔ اس عرصے میںباقی جسم کی طرح بچوں کی آنکھ بھی تیزی سے بڑی ہو رہی ہوتی ہے۔ اگراس عمر میں اس کی غیرمتناسب بڑھوتری شروع ہوجائے تو پہلی دفعہ ان کی نظر کا فوکس خراب ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ بچوں کی عمر کے یہی دو حصے ایسے ہیں جن میں یا تو پہلی دفعہ نظر کی کمزوری ظاہر ہوجاتی ہے یاپھر اچانک سے مریض نظر کی کمزوری کا شکار ہوجائے گا۔

٭لوگوں میں ایک تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ زیادہ پڑھنے سے نظرکمزور ہوجاتی ہے۔ کیا یہ درست ہے؟
٭٭حقیقت یہ ہے کہ پڑھنے سے نظر کمزور نہیں ہوتی‘ البتہ جدید تحقیقات اِس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ پڑھائی کے بعض طریقے یا انداز ایسے ہیں جو نظر کی کمزوری کا باعث بن سکتے ہیں۔ان میں سب سے اہم عامل کمپیوٹر پر مطالعہ کرنا ہے۔ اسی طرح جو بچے گھنٹوں ٹی وی کے سامنے بیٹھے کارٹون دیکھتے رہتے ہیں‘ ان کی نظر کے کمزور ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ بعض بچے پیدائشی طور پر کمزور نظر کے مالک ہوتے ہیں لہٰذا ان کی نظر ابتدائی عمر میں ہی کمزور ہوتی ہے۔ایسے بچوں کی بینائی کو محفوظ کرنے کے لئے عینک کا استعمال ناگزیر ہے۔بچوں کی نظر کا باقاعدگی سے معائنہ کرواتے رہنا چاہئے تاکہ کسی بھی مسئلے کا بروقت حل نکالاجاسکے۔

٭ایک خیال یہ بھی ہے کہ ہر وقت عینک لگائے رکھنے سے نظرجلد کمزور ہوتی ہے۔ ایسے میں کیا یہ بہتر نہیں کہ بچہ کبھی کبھی مثلاً پڑھائی کے وقت عینک لگا لیا کرے؟
٭٭یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ عینک استعمال کرنے سے نظر مزیدیا تیزی سے کمزور ہو جاتی ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ عینک یا تو قریب کا کام کرنے کے لئے ہوتی ہے یا دور دیکھنے کے لئے۔ حقیقت یہ ہے کہ عینک استعمال کرنے سے نہ تو نظر کی کمزوری ختم ہوتی ہے اور نہ ہی وہ زیادہ ہوتی ہے۔ اصل بات صرف اتنی ہے کہ جن کی نظر کی کمزوری ہلکی ہوتی ہے وہ لاشعوری طور پر زور لگا کر عینک کے بغیر بھی دیکھ سکتے ہیں تاہم ایسا کرنے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ عینک کے استعمال سے جب آنکھیں نارمل ہو جاتی ہیں تو تکلیف بھی دور ہو جاتی ہے۔عینک کے بغیر آنکھ کا فوکس نہ کر پاناچونکہ فطری امر ہے لہٰذا مریض سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی نظر پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ بچوں کی عینک صرف دور یا نزدیک کے لئے نہیں ہوتی بلکہ ہر وقت استعمال کے لئے ہوتی ہے۔اس لئے وہ منفی نمبر کی ہویا مثبت نمبر کی‘ اسے ہر وقت لگانا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو آنکھوں کو درکار آرام میسر نہیں آتا جس سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوتے۔

٭بعض والدین کہتے ہیں کہ ان کا بچہ جب عینک کے بغیر پڑھ لیتا ہے تو پھر اسے کیوں عینک لگوائی جائے؟
٭٭جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ ہلکے منفی نمبر‘ مثبت نمبراور سلنڈر نمبر کی عینک کی صورت میںچونکہ عینک کے بغیر بھی کام چل جاتاہے اِس لئے مریض یا مریض کے اہل خانہ آسانی سے اِس بات کو قبول نہیں کرتے کہ عینک ان کے لئے ضروری ہے۔ حالانکہ یہ بات طے ہے کہ عینک استعمال نہ کرنے سے تکالیف ختم نہیں ہوں گی۔ کبھی کبھار کے استعمال سے کبھی آرام ہو گا اور کبھی تکلیف یعنی ایک بے سکونی کی کیفیت طاری رہے گی ۔

٭ مختلف لوگوں کو مختلف نمبروں مثلاً مثبت، منفی یا خاص زاوئیے کی عینک کیوں تجویز کی جاتی ہے؟
٭٭اس کا تعلق اس بات سے ہوتا ہے کہ آنکھ میں نقص کی نوعیت کیا ہے۔مثلاًجس شخص کی آنکھ سٹینڈرڈ سا ئز سے چھوٹی ہو‘ اسے مثبت نمبر کی اور جس کی آنکھ بڑی ہو اسے منفی نمبر کی عینک لگانے سے صاف نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کے قرنیہ کی افقی اور عمودی گولائی میں فرق ہو‘انہیں کسی خا ص زاویے (جسے سلنڈر نمبر کہتے ہیں) کی عینک لگانے سے صاف نظر آنے لگتا ہے۔
٭اگر عینک با قاعدگی

سے اِستعمال کی جائے تو کیا نمبر وہی رہے گا یااس میں تبدیلی آئے گی؟
٭٭عینک بیما ری کی وجہ دور نہیں کر تی بلکہ علامتوں کا علا ج کر تی ہے‘ اِس لئے یہ تاثر غلط ہے کہ عینک باقاعدگی سے اِستعمال کر نے والوں کا نمبر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ آنکھ کی ساخت میں عموماً 18 سال کی عمر تک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں جبکہ بعض بچوں کی آنکھ کی نشوونما 20سے 24سال کی عمرتک ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ جب تک نشوونما ہوتی رہے گی‘ تب تک عینک کا نمبر بھی بدلتا رہے گا۔

٭اگر عینک باقاعدگی سے استعمال نہ کی جائے توکیا مسائل درپیش ہوسکتے ہیں؟
٭٭عینک باقاعدگی سے اِستعمال نہ کرنے سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاًٹی وی دیکھتے، گاڑی چلاتے یا پڑھتے ہوئے صاف نظر نہیں آتا‘اور چونکہ صاف نظر آئے بغیر کام نہیں چل سکتا اِس لئے آنکھوں کو غور کرنا اور زور لگانا پڑتا ہے۔ اس سے آنکھیں بھاری بھاری محسوس ہونے لگتی ہیں، تھک جاتی ہیں اوران میں سرخی نمودار ہوجاتی ہے لہٰذا الفاظ پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یوں بچوں کی پڑھائی اور دیگر کاموں میں کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس سے نفسیاتی مسائل بھی جنم لیتے ہیں‘ سر میں درد رہنے لگتا ہے اور بعض اوقات تو قے بھی آنے لگتی ہے۔ایسے میں بہت سے لوگ ایسے کام چھوڑ دیتے ہیں جن میں زیادہ انحصار نظر پر ہوتاہے اور وہ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ”بس جی! اب ہم بوڑھے ہو گئے ہیں“حالانکہ اِس ”اختیاری “بڑھاپے اور دیگر مسائل پر عینک کے صحیح استعمال کے ذریعے باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ اگر کسی بچے کی ایک آنکھ کی نظر دوسری آنکھ کی نسبت زیادہ کمزور ہو تو کمزور آنکھ کی نشوونما بھی متاثر ہوتی ہے‘ اس لئے کہ اس آنکھ سے حاصل ہونے والی معلومات پردماغ صحیح توجہ نہیں دے پاتا اور بالآخر دماغ کے ا±س حصّے کی بھی صحیح نشوونما نہیں ہوپاتی ہے۔ اس کیفیت کو طب کی زبان میں سست آنکھ (amblyopia ) کہتے ہیں۔اگر آ ٹھ یا نو سال کی عمر تک اس تکلیف کا پتا چل جائے تو تقریباً100فی صد علاج ممکن ہوتا ہے لیکن بعد میں اس کا علاج نہیں ہوسکتا اور یوں وہ آنکھ مستقل طور پربینائی سے محروم ہوجاتی ہے۔ کچھ بچوں میں آنکھوں کے ٹیڑھے پن یا بھینگے پن کی وجہ سے بھی نظر کمزور ہوتی ہے۔ اس تکلیف کے ظاہر ہونے کی کوئی عمر نہیں‘ اس لئے کہ یہ نقص بچپن اور بڑی عمر‘ دونوں میں سامنے آ سکتا ہے ۔ اِس کے علاوہ جن بچوں کی نظر زیادہ کمزور ہو وہ اگر عینک استعمال نہ کریں تو ان کی آنکھوں میں
ٹیڑھا پن آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ خصوصاً جو آنکھ زیادہ کمزور ہو‘ وہ جلد ٹیڑھی ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
٭عینک کب اِستعمال کر نی

چا ہئے؟ نزدیک کا کام کر تے ہوئے یا دور کا؟
٭٭یہ بھی ایک عام پائے جانے والی
غلط فہمی ہے کہ عینک یا تو دور کے کام کے لئے ہوتی ہے یا نزدیک کے لئے‘ اس لئے کہ مریضوں کی اکثریت کو عینک ہر وقت استعمال کرنے کے لئے تجویز کی جاتی ہے۔ خاص طور پر 40 سال کی عمر سے پہلے تو سب کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہر وقت عینک استعمال کریں تاکہ آنکھوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ سے بچا جاسکے۔ چنانچہ یاد رکھنا چاہئے کہ 40 سال کی عمر سے پہلے جو بھی نمبر لگے (مثبت ،منفی، یا سلنڈریکل) اسے ہر وقت اِستعما ل کرنا انتہائی ضروری ہے۔اس عمر کے بعد دور اور نزدیک کے نمبر مختلف ہو جاتے ہیں ا±س لئے ممکن ہے کہ کسی کو دور کا نمبرتجویز کیا جائے اور کسی کو نزدیک کا۔اس کا دارومدار نظر کی کمزوری پر ہوتا ہے۔
٭اگر دور اور نزدیک کے لئے علیحدہ علیحدہ نمبر تجویز کیے گئے ہوں تو اِس صورت میں د±ور اور نزدیک کی عینک

اکٹھی بنوانی چا ہئے یا علیحدہ علیحدہ؟
٭٭اِس بات کا فیصلہ عموماً اتنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ایسے میں مختلف عوامل کو دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً زیادہ عمر کے لوگوں کی ضرورت عموماً بہت زیادہ باریکی کے کام کرنے کی نہیں ہوتی اور اکثر ان کی زندگی شدید مصروفیات سے بھی خالی ہوتی ہے ۔پھر عموماً ان عینکوں کے نمبر بھی بڑے ہوتے ہیں۔ اِس لئے وہ اکثر علیحدہ علیحدہ عینکوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ڈاکٹر بھی انہیں اِسی کی ترغیب دیتے ہیں۔ کم خواندہ لوگوں کی ضروریات بھی عموماً ایسی ہوتی ہیں کہ وہ زیادہ تر علیحدہ علیحدہ عینکیں بنوانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ جو لوگ زیادہ تر وقت قریب کے کاموں میں صرف کرتے ہیں وہ بھی ڈبل شیشوں والی عینک کو زیادہ آرام دہ نہیں پاتے اس لئے وہ الگ الگ عینکیں ہی بنواتے ہیں۔بہر حال اگر عینک کا نمبر زیادہ بڑا نہ ہوتو اکٹھی عینک بنوانے میں کوئی حرج نہیں‘تاہم اس کے بھی کچھ مسائل ہوسکتے ہیں جس کے ساتھ عینک کا استعمال سیکھنا نہایت ضروری ہے۔

٭دور اور نزدیک کی اکٹھی عینکوں کی کتنی قسمیں ہیں؟
٭٭مختلف فاصلوں پر کام کرنے والی عینک تین قسم کی ہوتی ہے۔ پہلی کوبائی فوکل (bifocal)،دوسری کو ٹرائی فوکل (trifocal) اور تیسری کو ملٹی فوکل (multifocal) کہتے ہیں۔
٭ کوئی پیغام جو رہ گیا ہو؟کوئی اور بات جو پوچھے جانے سے رہ گئی ہو؟
٭٭ قارئین کو میری طرف سے یہی پیغام ہے کہ آنکھ جسم کا وہ حصہ ہے جو بہت حساس ہے اس کی حفاظت کریں کیونکہ یہ ہے تو دنیا کی رنگینیاں بھی ہیں۔اس کی صفائی اور صحت کا خاص خیال رکھیں کیونکہ ذرا سی لاپروائی اور صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث آپ بہت سی بیماریوں کو دعوت دے سکتے ہیں ۔کسی بھی قسم کی تکلیف یا مسئلے کی صورت میں اسے جسم کی طرف سے تنبیہ سمجھیں اور بروقت ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

lazy eye

دنیا کی رونقوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہونے کے لئ

    قدرت نے انسان کو جن نعمتوں سے نوازا ہے‘ ان میں سے ای

آنکھیں ہمارے جسم کا وہ حصہ ہیں جن میںذرا سی خرابی نہ صرف