گرمیوں میں کیا کھائیں

213

    ہمارے ملک کو قدرت نے چاروں موسموں سے نوازا ہے جن میں سے ایک اہم موسم گرما ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور کچھ دیگر عوامل کی وجہ سے ہر سال گرمیوں کی شدت میں پہلے کی نسبت اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جو اکثر لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ گرمیوں میں جسمانی درجہ حرارت بڑھ جانے کی وجہ سے ہمیں پسینہ زیادہ آتا ہے۔ ایسے میں اگر ہماری خوراک میں مرغن اور مصالحہ دار کھانے، گرما گرم نمکین سالن اور چکنائی سے بھرپور جنک فوڈ زیادہ شامل ہو تو پسینہ پیدا کرنے والے غدود زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس لئے اس موسم کو پرسکون انداز میں گزارنے کے لئے دیگر احتیاطوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ موزوں غذاوں کا انتخاب کیا جائے جو جسم کو پانی کی کمی سے محفوظ، ہلکا پھلکا، ٹھنڈا اورصحت مند رکھ سکیں۔

گرمیوں میں پانی زیادہ
عام دنوںمیں روزانہ اوسطاً دو لٹرپانی پیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں پسینہ زیادہ آتا ہے جس کی وجہ سے پانی کی زیادہ مقدارجسم سے خارج ہو جاتی ہے۔ لہٰذا اس موسم میں پانی پینے کی مقدار کو بڑھا کر کم از کم تین لٹر کر دینا چاہئے تاہم واضح رہے کہ ےہ کوئی متعین معیار نہیں‘ اس لئے کہ پانی کی ےہ ضرورت ہماری سرگرمیوں کے مطابق کم یا بڑھ بھی سکتی ہے۔ پسینے کے علاوہ تقریباً350 ملی لیٹر پانی سانس کے ساتھ خارج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج ہونے والے پانی کی مقدار عام دنوں میں ڈیڑھ سے دو لٹر تک ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنیاد پر جب پانی کی بڑی مقدار جسم سے نکل جاتی ہے تو ہمیں ’ڈی ہائیڈریشن‘ یعنی پانی کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے۔
روزانہ کی خوراک ہمیں تقریباً دو گلاس پانی پہنچاتی ہے جبکہ باقی مقدار کے لئے ہمیں پانی اپنی اصل شکل میں یااس سے بھرپور اشیاءسے لینا ہوتا ہے۔اگر سادہ پانی پینا مشکل ہو تو یہ لیموں پانی، جوس،لسی یا شربت کی صورت میں بھی لیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی سے بھرپور پھل اور سبزیاں مثلاً تربوز، خربوزہ یا کھیراوغیرہ بھی اس سلسلے میں مفید ہےں۔

 سادہ غذا کھائیں
موسم کی ےہ شدت زندگی کے دیگر معاملات کی طرح بھوک کو بھی متاثر کرتی ہے۔ہم جب باہر کھانا کھانے جاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ریستورانوں میںباہر شدید گرمی کے باوجود اندرکا ماحول بہت ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔گاہکوں کوسہولت پہنچانے کے علاوہ اس کا ایک سبب ےہ بھی ہوتاہے کہ گرمی کی وجہ سے کہیں لوگوں کی بھوک متاثر نہ ہو۔
اس موسم میں نقصان دہ بیکٹیریا زیادہ فعال ہوتے ہےں جس سے کئی طرح کی بیماریاں مثلاً ہیضہ، گیسٹروانٹرائٹس اور ڈائریا وغیرہ کی شکایت ہو جاتی ہے۔ اس لئے ریستوران کے انتخاب میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ وہاں کھانے پینے کی اشیاءصاف ستھری اور جراثیم سے پاک ہوں۔گرمی کے موسم میں باہر سے کھانا کھانے سے حتیٰ المقدور پرہیز کرنا چاہیے، اس لئے کہ وہ بہت سی جگہوں پرمحفوظ نہیں ہوتا۔
کچھ غذائیں ایسی ہیں جو معدے کی اچھی کارکردگی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً دہی میں شامل فائدہ مند بیکٹیریامعدے کی درستگی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ےہ توانائی کی بحالی اور طبیعت کو تروتازہ رکھنے میں بھی مدد دیتے ہےں۔ اسی طرح پودینہ بھوک کوبڑھاتا اورمعدے کے افعال کو درست کرتاہے۔ اسے اچھی طرح سے دھو کر استعمال کرنا چاہئے ۔
کھانوں کی خوشبو ہی نہیں، رنگت بھی ہماری توجہ اپنی جانب کھینچتی ہے۔سلاد کھانا بہت سے لوگوں کو مشکل لگتا ہے لیکن اگر یہ مختلف رنگوں کے پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل ہو تو اس کی طرف رغبت بڑھتی ہے۔ پودینے کی طرح کی دوسری جڑی بوٹیاں مثلاً تلسی کے پتے وغیرہ بھی ہاضمے کے لئے اچھے رہتے ہیں۔ پیاز اور ٹماٹرکا سلاد بھی اس موسم میں ایک مفید سائیڈ ڈش ہے کیونکہ ان دونوں سبزیوں میں پانی کافی مقدار میں پایا جاتا ہے۔

 ٹھنڈے اور گرم کھانے
ہمارے ہاں یہ تصور عام ہے کہ فلاں غذا یا پھل کی تاثیر ٹھنڈی یا گرم ہے۔ انہی تصورات کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد گرمیوں میں خشک میوہ جات استعمال نہیں کرتی۔ یونانی طب ایسے تصورات کو تسلیم کرتی ہے جبکہ ایلوپیتھی کی نظرمیں کوئی خوراک گرم یا سرد نہیں ہوتی۔ اس کے مطابق ہر موسم میں روزانہ مٹھی بھر خشک میوہ جات کھانے چاہئیں جن میں چارسے پانچ بادام ،تین سے چار کاجو اور دو سے چار اخروٹ شامل ہیں۔
غذائیات کی جدید سائنس چیزوں کے ہلکا پھلکایا بھاری ہونے کے فرق کو تسلیم کرتی ہے۔یعنی کچھ چیزیں مثلاً دہی وغیرہ ہضم ہونے میں آسان جبکہ کچھ چیزیں مثلاً پائے کی ڈِش ذرا دیر سے ہضم ہوتی ہے۔ اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ گرمی کے موسم میں ہلکی پھلکی غذاءکھائی جائے اور اُن غذاﺅں کو کم استعمال کیاجائے جنہیں ہضم کرنا وقت طلب ہو۔ اس موسم میں آئل کا استعمال کم اور سبزیوں کا زیادہ کر دیں۔

گوشت کا استعمال
بہت سے لوگ گرمیوں میں گوشت کے استعمال کے حوالے تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ انہیں اس موسم میں بھی گوشت کا استعمال جاری رکھنا چاہیے‘ اس لئے کہ ایک نارمل انسان کوروزانہ اپنے ٹوٹل وزن کی 0.8گرام پروٹین درکار ہوتی ہے۔اس کے لئے آپ اپنے ٹوٹل وزن کو 0.8گرام سے ضرب دے کر ےہ مقدار نکال سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ چکن کے ایک پیس میں 25گرام اور انڈے میں چھ سے آٹھ گرام پروٹین موجود ہوتی ہے۔ یعنی روزانہ دو انڈے اورچکن کے دو پیس کھائے جا سکتے ہیں۔
دہی اور دودھ میں بھی پروٹین کی مناسب مقدار ہوتی ہے۔ اگرآپ ہلکے پھلکے کھانوں کی خواہش رکھتے ہوں اور فرائیڈ چکن ‘ بھناہوا بیف یا مٹن استعمال نہ کرنا چاہیں تو گرِل کی ہوئی فش اس کا اچھا بدل ہے۔ اس میں فیٹی ایسڈز کی بھرپور مقدار جسم میں اچھا کولیسٹرول پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، قوت مدافعت بڑھانے اور جگر کی کارکردگی بڑھانے میں بھی مدد ملتی ہے۔
باقاعدہ ورزش
اپنے وزن کو صحت مند طریقے سے کم کرنے کے لئے گرمیوں کو ایک بہترین موقع کے طور پر استعمال کیاجا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرمیوں میں ایک گھنٹے کی ورزش، سردیوں کی دو گھنٹے کی ورزش کے برابرہوتی ہے‘ اس لئے کہ گرمیوں میں پسینہ زیادہ آتا ہے ۔جتنی زیادہ ورزش کی جائے اتنا ہی میٹا بولزم تیز ہوتا ہے جو وزن گھٹانے کا سبب بنتا ہے۔
کولا مشروبات سے حتی الامکان پرہیز کرنا چاہیے۔مزید برآں
گرمیوں کی شدت کو کم کرنے کے لئے دیسی مشروبات ہی بہتر ہیں جو نہ صرف زیادہ صحت بخش بلکہ خوش ذائقہ بھی ہیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts