کولیسٹرول کیا ہے‘ کیسے نمٹیں

200

ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا نے اپنے فاصلے سمیٹ کر دوسری ثقافتوں کو کھوجنے کی کوشش کی۔ رے ٹاملیسن (Ray Tomlisonn)نے 1971ءمیں جب پہلی ای میل کی تو اس نے بھی شاید انٹرنیٹ کے استعمال کے اس قدر روشن مستقبل کے بارے میں نہ سوچا ہو گا۔ 44 سال کے اس مختصر عرصے میں اس ٹیکنالوجی نے سمندری طوفان کی مانند کس طرح دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس کا اندازہ لگ بھگ ہر دوسرے شخص کی ای میل تک رسائی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کے بڑھتے ہوئے استعمال کی ایک بڑی وجہ 1992ءمیں ایجاد ہونے والے سمارٹ فون بھی ہیں۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس( فیس بُک یا ٹویٹر) کا استعمال دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک انسان کر رہا ہے۔ ان کے استعمال سے دنیا بھر کی جدید معلومات اب ایک کلک کی دوری پر رہ گئی ہےں۔ ان کی افادیت معلومات کے حصول تک محدود نہیں ہے ۔ ان کی وجہ سے کاروبار کے نئے مواقع اور طریقے بھی سامنے آئیں ہیں اور ای کامرس کو بھی بہت تقویت ملی ہے۔ اس پر لوگوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بدولت بزنس کی دنیا کو اپنی تیار کردہ اشیاءاور سروسز کو دنیا سے روشناس کرانے اور ان کے استعمال کو فروغ دینے میں بہت مدد ملی ہے۔

احمد علی پوری‘ آزاد کشمیر اس کی اہمیت کے پہلو کو نمایاں کرتے ہوئے کہتے ہیں:
” اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان سوشل سائٹس کی بدولت دنیا کے فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ ہمارے وہ عزیز رشتہ دار جو بیرونِ ملک مقیم تھے اور ان سے کئی کئی سال بات نہ ہو پاتی تھی ان سائٹس کی بدولت اب وہ ہمارے ساتھ رابطہ رکھ پاتے ہیں اور انہیں خاندان کے معاملات میں جوڑے رکھنے کا ایک اچھا موقع ملا ہے۔ اس ضمن میں لوگوں کی تصویروں کی شیئرنگ ایک اچھا تجربہ ہے۔ جنھیں دیکھ کر ےہ لگتا ہے کہ گویا کہ ہم ان کے ساتھ ہی ان لمحات سے لطف ا ندوز ہو رہے ہیں۔“

سعدیہ اقبال کامرہ کا کہنا ہے:
”کالج چھوڑنے کے بعد شادی کے باعث میرا تعلق اپنی تمام کالج کی دوستوں سے برائے نام ہی رہ گیا تھا۔ میں دوستوں سے دور رہنے کے سبب زندگی میں ہمیشہ ان کی کمی محسوس کرتی تھی۔ مگر ان سائٹس کی بدولت اب میرا ان سے رابطہ بحال ہو چکا ہے۔ ہم لوگ ایک دوسرے سے کھانوں کی ریسیپیز اور گھر داری سے متعلق مختلف معلومات شئیر کر پاتے ہیں، ایک دوسرے کی خوشی غم میں شریک ہو پاتے ہیں اور ایک دوسرے سے بات چیت کر کے پریشانی کو کم کر پاتے ہیں۔میرا ماننا ہے کہ روابط کی بحالی کے سلسلہ میں ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔“

روابط کے ان ذرائع کی اہمیت پر بات کرتی رضوانہ رحمٰن کا راولپنڈی سے کہنا ہے:
” میرے دو بیٹے پچھلے آٹھ سال سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ ہی ان کا ہم سے ملنے آنا ممکن ہو پاتا ہے۔ ہم ہر روز ان سے سکائپ پر بات کرتے ہیں۔اسی کی بدولت میرے بیٹے خاندان کے دیگر لوگوں سے بھی رابطے میں ہیں۔ اگر ےہ سائٹس نہ ہوتیں تو میں اور میرے شوہر ان سے جدائی شایدکبھی برداشت نہ کر پاتے۔ لہٰذا میں انہیں ایک نعمت کہوں گی۔“
اس قسم کی سرگرمیاں بظاہر تو بالکل بے ضرر لگتی ہیں مگر ےہ ہماری ذہنی صحت، معاشی اور معاشرتی زندگی کو بری طرح متاثر کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر وقار حسین سکون

اسسٹنٹ پروفیسر کامسیٹس کا کہنا ہے:
” انسان نے جب سے چاند پر قدم رکھا‘ دنیا کو گلوبل ویلج کا نظرےہ ملا۔ اسی نظریے پر چلتے ہوئے ہم نے اپنی زندگیوں میں سوشل میڈیا کا استعمال ےہ سوچ کر بڑھا دیا ہے کہ ےہ دنیا سے رابطوں کی طرف بڑھنے کا ایک قدم ہے۔ ہم یقین کیے بیٹھے ہیں کہ اس کے استعمال سے ہم نئی دنیا، نئے لوگ، نئی تہذیبی اور ثقافتی اقدار اور آگے بڑھنے کے نئے مواقع کے بارے میں جان پائیں۔ مگر عالمی لیول پر چلنے والی سیاست، فرقہ واریت اور ممالک کا باہمی تعصب ہمارے اس نظرےے کے غلط ہونے کی چغلی کھا رہا ہے۔ ہم ایک ایسی لت کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔“
کہا جاتا ہے کہ ہر چیز کی زیادتی بری ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر معلومات کی زیادتی بھی ہمیں خاص طور پر ہماری نوجوان نسل اور ان کی پرورش کے پہلوو¿ں پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ اب ضرورت ےہ سوچنے کی ہے کہ جن چیزوں کو ہم نے رابطے کا ذریعہ بنایا تھا کیا وہ ہمیں دوسروں سے توڑ تو نہیں رہیں۔

اس حوالے سے یار محمد خان چترال کا بھی ماننا ہے:
”ہمیں اس بات کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس کے استعمال سے ہم اپنی نوجوان نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔دوسروں کے ساتھ رابطے جوڑنے کے اس دھوکے میں کیا ہم بچوں کو خود سے یا اپنی قدروں سے دور تو نہیں کر رہے۔ انہیں خود وقت دینے کی بجائے ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ تھما دینے کا مطلب ان ناپختہ ذہنوں کو جان بوجھ کر غیر اخلاقی سرگرمیوں کے سپرد کر دینا ہے۔ ہمارے پاس انہیں وقت نہ دینے یا ہماری ثقافتی اقدار کو نہ سمجھنے کے گلے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے ۔ سوشل ویب سائٹس ایسی اخلاقی برائیوں کو عام کر رہی ہیں جو آہستہ آہستہ ہمارے اندر غیر محسوس طریقے سے جگہ بنانے لگی ہیں۔پہلے ہمارے بچوں کو جن برائیوں کا علم تک نہ ہوتا تھا‘ آج وہ ان میں جگہ بنانے میںلگی ہیں۔اس کا فائدہ تو انہیں کیا ہی ہونا ہے ‘اس کی بجائے ان کی پڑھائی اور دوسری ہم نصابی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اگر والدین انہیں ایسی چیزوں سے دور رکھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو دوستوں کی دیکھا دیکھی وہ ماں باپ سے ان کے مخصوص آلات کو لینے کی کوشش کرتے ہیں۔“

یار محمد خان کی اس گفتگو سے باآسانی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے نقصانات جہاں ہمارے رشتوں میں دوری کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں وہاں ہم اور ہماری نوجوان نسل بہت سی برائیوں میں بھی گھِری جا رہی ہے۔ اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے ڈاکٹر وقار حسین سکون‘ اسسٹنٹ پروفیسر کامسیٹس کا کہنا ہے:
”سوشل میڈیا پر بڑھتے ہوئے روابط کی مثال میں ایک گاڑی سے واضح کروں گا جس میں پانچ لوگوں کے بیٹھنے کی ہی جگہ ہے۔ اگر اس گاڑی میں 10 لوگ گھسا دئیے جائیں تو جہاں گاڑی کا توازن خراب ہو گا‘ وہاں اس میں بیٹھنے والا کوئی بھی شخص آرام دہ حالت میں نہیں ہو گا۔انسانی جذبات بھی اسی طرح سے کام کرتے ہیں ۔ ان کی بھی کچھ حدیں ہیں ۔ ہمارے ہاں ایک گھر میں اوسطاً چھ افراد ہوتے ہیں ماں باپ اور چار بہن بھائی۔ ایک انسان کی پانچ لوگوں سے جذباتی وابستگی ہونا اچھی ذہنی صحت کی اوپری حد ہے۔ہم نے ان سائٹس کا استعمال تو سیکھ لیا مگر ےہ نہ سیکھا کہ ہم نے کس انسان کو کس حد تک وقت یا ترجیح دینی ہے۔ شادی کے بعد میاں بیوی کے درمیان بڑھتے ہوئے مسائل اور ان کی علیحدگی کی شرح بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ایک دوسرے کو معیاری وقت نہ دینا اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہ کرنا ہیں۔

کارل رینسن روجرز (Carl Ranson Rogers) کے مطالعے کے مطابق ہر انسانی روئیے کے پیچھے شعور نفس (self recognition)کا مقصد ہوتا ہے جو ان کے رویوں کو مختلف طرح کی شکلوں میں ڈھال رہا ہوتا ہے۔ اس کے لئے وہ ایسی سرگرمیاں تلاش کرتا ہے جن کی بدولت وہ مانا جائے اور منوایا جائے۔ تاہم ان سرگرمیوں کے نتائج معیاری نہیں مقداری ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھی اسی مقصد کے حصول کی ایک کوشش ہے جہاں انسان زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ساتھ تعلق بنانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کے فالورز بڑھیں، اس کا سوشل سرکل وسیع ہو ، اسے دنیا میں ایک خاص پہچان ملے اور لوگ اس کے مختلف خواص کو تعریف کریں۔
سوشل میڈیا پر ہونے والے کنٹینٹ اینا لیسز (content analysis) کی روشنی میں ےہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس کا استعمال زیادہ تر نوجوان نسل کر رہی ہے۔ اپنی تصویریں اپ لوڈ کر کے ان پر تبصرے کے لئے لوگوں کو دعوت دینا ان کا بہترین مشغلہ ہے۔ اس کی ایک وجہ گھر سے نہ ملنے والی توجہ اور سوشل اپریزل ہے۔اس میڈیا پر ہماری ثقافتی اقداروں کے خلاف ایک ایسا مصنوعی ماحول تخلیق کیا جاتا ہے جہاں جنسی مخالف کا ایک دوسرے سے بات کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔اپنی رائے کا یوں کھل کر اظہار بہت سی غیر اخلاقی سرگرمیوں کی وجہ بھی بن رہا ہے۔ مزید برآں ایک دوسرے کی تصویروں کو دیکھ کر خود کاموازنہ دوسرے شخص سے کرنا یا گلیمر کی مصنوعی دنیا دکھا کر لوگوں کو حسد جیسے الاو¿ میں جھونک دینا بھی حسد جیسی کئی ذہنی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ جدیدیت کی دوڑ میں بھاگنا بھی آج کے انسان کی ذہنی سکون کی بربادی کی ایک بڑی وجہ ہے جس کو ہر پل ہوا دینے والے اہم عناصر میں سوشل میڈیا ویب سائٹس کا استعمال نمایاںہے۔ خواہ وہ پاکستانی سوسائٹی کی بات ہو یا کسی ترقی یافتہ ملک کی‘ ان سائٹس کے استعمال کی لت ہر جگہ ہی ہے۔جہاں اس نے ذہنی صحتوں پر برا اثر ڈالا ہے وہ کئی سماجی بیمایوں نے بھی جنم لیا ہے۔اب آئے دن سائبر کرائمز کے اشوز سننے میں آتے ہیں۔

اپنے رشتوں کو ایک معیاری وقت نہ دینے کے باعث ہم میں بے چینی اور ڈپریشن کے مسائل بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2020ءصحت کے حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ڈپریشن ہو گا۔ ڈپریشن کی ایک وجہ نیند کی کمی بھی ہے۔ والدین اکثر ےہ شکایت کرتے ہیں کہ بچے رات کے بڑے پہر تک فون اور لیپ ٹاپ پر لگے رہتے ہیں ۔ جس سے ان کی نیند پوری نہیں ہوتی اور وہ چڑچڑے سے ہو جاتے ہیں اور بات بات پر بحث کرتے ہیں۔ان تمام اثرات کے باعث امیریکن سائیکائیڑی ایسوسی ایشن انٹرنیٹ پر ان سائیٹس کے بے جا استعمال کو ذہنی صحت پروفیشنلز کی رہنمائی کے لئے پبلش کی جانے والی کتاب diagnostic and satistical manual of mental disorders (DSM) میں ایک مینٹل ڈس آرڈر کی صورت میں ڈالنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

لوگ کولیسٹرول کو عموماً برا خیال کرتے ہیں حالانکہ اس کی

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of