• Home
  • اداریہ
  • غیرمعمولی چیلنجوں پر غیرمعمولی ردعمل کی ضرورت

غیرمعمولی چیلنجوں پر غیرمعمولی ردعمل کی ضرورت

92

ایک نظر ان اعداد وشمار پر ڈالئے۔ پاکستان میں میڈیکل کی تعلیم کی نگرانی اورملک میں پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں کی رجسٹریشن سے متعلق ریگولیٹری ادارے ’پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل‘ کے پاس اس وقت کل 148827 میڈیکل گریجوایٹس اور 14979 ڈینٹسٹری گریجوایٹس ہیں۔ادارے کے پاس میڈیسن اور سرجری کے سپیشلسٹس کی تعداد32567 جبکہ دانتوں کے سپیشلسٹس کی 1298 ہے۔ مجموعی طور پر یہ تعداد197671یعنی دو لاکھ سے کچھ کم بنتی ہے۔
اب ذرا آبادی کا تصور کریں۔ پاکستان میں آخری مردم شماری 1998ءمیں ہوئی۔ اِس وقت سرکاری طور پر ملکی آبادی کے حوالے سے مردم شماری کے تازہ ترین اعداد وشمار دستیاب نہیں۔ اگلی مردم شماری جو مثالی اور آئینی طور پر ہر10سال بعد منعقد ہونی چاہئے تھی‘ مارچ 2016ءمیں متوقع ہے۔تاہم ایک معتبر آن لائن ذریعے” worldometers.info “ کے مطابق پاکستان کی موجود آبادی 18کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے۔ نگہداشت صحت کی سہولیات فراہم کرنے والوں کی تعداداور آبادی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے باقی حساب آپ خود کرسکتے ہیں۔
تاہم یہاں کچھ اور اعدادوشمار بھی توجہ کے لائق ہیں۔2005ءمیں ڈبلیو ایچ او(عالمی ادارہ صحت) نے کہا تھا کہ اگلے 10سالوں میں( 2015ءتک) 60 لاکھ افراد کسی طویل المعیاد مرض کے ہاتھوں جاں بحق ہوں گے۔ اس کا مطلب ان امراض سے مرنے کی شرح میں 27 فی صد اضافہ ہے۔ ذیابیطس سے مرنے والوں کی شرح میں اضافے کا تخمینہ51فی صدلگایا گیا۔ اگلے 10سالوںمیں(2025ءتک )صورت حال کیا ہوگی‘ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کا اندازہ لگاناقطعاً مشکل نہیں۔
ان اعدادوشمار سے کم از کم دو سوال ضرور سامنے آتے ہیں ۔کیا ہم درکار وسائل اور افرادی قوت کو مدنظر رکھتے ہوئے نگہداشت صحت کیلئے اتنے ادارے تعمیر کر سکتے ہیں جو بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس کا سیدھا اور سادہ جواب” نہیں“ میں ہے۔ کوئی بھی ملک اس کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ اس کیلئے انسانی اور مالی وسائل کسی طورکوئی مسئلہ نہیں، پھر بھی نہیں۔
پھر حل کیا ہے؟ چیلنج نمایاں طور پر بہت بڑا اور غیر معمولی ہے اور اس پر ہمارا ردعمل بھی اتنا ہی مایوس کن ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیں غیرمعمولی نہ سہی، دانشمندانہ طرزعمل کی اشدضرورت ہے۔ ہم گھسے پِٹے طریقوں پر چل کر بہتری کی توقع نہیں کر سکتے۔
حکومتی اور انفرادی‘ دونوں سطحوں پرعلیحدہ علیحدہ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے صرف ایک ایک راستہ ہی بچتا ہے۔افراد کو چاہئے کہ اپنی صحت کی ذمہ داری اپنے ہاتھوں میں لیں اور اسے اتنا ہی سنجیدہ لیں جتنا وہ اپنے کیرئیراور دیگر شعبہ ہائے زندگی کو لیتے ہیں۔ انہیں خود کو بیماریوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اوپر جس صورت حال کا ذکر ہوا‘ اس تناظر میں عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ ہارٹ اٹیک سٹروک اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے 80 فی صد اور کینسرزکے40 فی صدامکانات سے صحت بخش خوراک‘ جسمانی سرگرمیوں اور تمباکوکے استعمال سے گریز کر کے بچا جا سکتا ہے۔ معاشی فوائد بھی ایک بڑی ترغیب ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ طویل المعیاد بیماریوں کی وجہ سے شرح اموات میں دو فی صد کمی کے نتیجے میں پاکستان کو اگلے 10سالوں کے دوران ایک ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔
اور حکومت کو چاہئے کہ اب خواب غفلت سے بیدار ہو جائے۔ طلب اور رسد میں وسیع فرق کو مٹانے کیلئے روایتی طریقوں سے ہٹ کرایم ہیلتھ‘ ٹیلی ہیلتھ اور ای ہیلتھ جیسے جدید طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بعض جگہوں پر قدیم طریقوں پر اصرار اور تبدیلی کی مزاحمت کرنے میںبہت معمولی فرق ہوتا ہے۔ ارباب حل و عقد کواندرونی خود احتسابی کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of