الرجی کیا ہے

1

الرجی کیا ہے

ہمارے جسم میں ایک خاص نظام ہے جو حملہ آورجراثیم کے خلاف ہماری کی حفاظت کرتا ہے۔ الرجی کے مریضوں میں یہ مدافعتی نظام ضرورت سے زیادہ متحرک ہوجاتا ہے۔ جب ہم سانس لیتے ہیں تو ہماری فضاء میں گرد اورمردہ حشرات الارض کے جسمانی اعضاء کی کچھ  مقدار ہمارے پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے ۔ایسے میں اکثر لوگوں کا جسم شدیدردعمل ظاہرنہیں کرتا لیکن جن لوگوں کوکسی چیز سے الرجی ہو‘ ان کا مدافعتی نظام غیرمعمولی شدت سے حرکت میں آ جاتا ہے ۔

ہوائی الرجنز آنکھوں میں پڑیں تو وہ سرخ ہوجاتی ہیں‘ ان میں خارش ہوتی ہے اوران سے پانی آتا ہے۔ اگر یہ ناک میں داخل ہوں تو چھینکیں آتی ہیں اورناک سے پانی بہتا ہے۔ ایسے میں ناک بند ہو سکتی ہے اورگلے میں ریشہ بھی گرسکتا ہے جسے الرجی کی وجہ سے نتھنوں کی سوزش  کہا جاتا ہے۔

الرجی اور موسم

موسم کے ساتھ مختلف طرح کے الرجنز متحرک ہو جاتے ہیں۔ سردیوں میں بالعموم وائرل انفیکشن زیادہ عام ہے جو ناک اورگلے کو متاثر کرتا ہے۔ اگر الرجی کے مریض کو اس کی وجہ سے نزلہ زکام ہو جائے تو اس کے اثرات بہت برے ہو سکتے ہیں، یہاں تک کہ اس کا دمہ بھی متحرک ہوسکتا ہے۔

فروری اورمارچ میں بہار کا موسم شروع ہوجاتاہے۔ یہ پولن الرجی کا سیزن ہے اور اگرآپ اسلام آباد میں ہیں تو یہ آپ کو بری طرح سے متاثر کر سکتا ہے‘ اس لئے کہ وہاں ملبری کی مختلف اقسام کے درخت بہت زیادہ ہیں۔ یہ مسئلہ اگرچہ لاہورمیں بھی ہے لیکن یہ اتنا زیادہ نہیں اور اس کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔اپریل اورمئی گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ اس میں گندم کی گرد فضا میں معلق رہتی ہے اورہوا کے ساتھ 10سے 15کلومیٹر تک باآسانی جا سکتی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں اس ماحول میں سارا سال کچھ نہیں ہوتا لیکن ان دنوں ان کی الرجی بگڑ جاتی ہے۔

جون اورجولائی میں گزشتہ چند سالوں سے رمضان المبارک میں لوگوں کی بڑی تعداد عمرے پر جاتی ہے اوروہاں فلو کا شکار ہوجاتی ہے۔ وہاں کا فلو وائرس بھی کوئی عام نہیں‘ انٹرنیشنل وائرس ہوتا ہے۔عمرے کے بعد زائرین جب پاکستان آتے ہیں تو اپنے ساتھ مختلف طرح کے وائرس لے کر آتے ہیں۔ جولائی سے ستمبرکے مہینوں میں ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے گھروں کے اندر نم جگہوں مثلاً غسل خانوں، کپڑے دھونے کی جگہوں اور کمروں میں سبزیا کالے رنگ کی کائی نظر آتی ہے۔ اس موسم میں بھی الرجی کی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اکتوبراورنومبر چاولوں کی چھَڑائی کا موسم ہے لہٰذا جن علاقوں میں چاول کاشت ہوتا ہے‘ ان میں لوگ اس کی الرجی سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

کرنے کے کام

ہوا میں پائے جانے والے الرجنز ناک اورگلے کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہو سکتے ہیں لہٰذا ان اعضاء کو صاف رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے لئے صرف نمک اورپانی کی ضرورت ہے جو ہر فرد کو باآسانی دستیاب ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ ایک گلاس نیم گرم پانی لیں ۔اس میں چائے کا ایک چوتھائی چمچ سادہ نمک(آئیوڈین والا نہیں) ڈال کر بغیر سوئی کے خالی انجیکشن میں بھرلیں۔ بالغ حضرات 10سی سی‘ 12 سال سے کم بچے پانچ سی سی جبکہ چھوٹے تین سی سی والی سرنج استعمال کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد بیسن کے سامنے کھڑے ہوکر آگے کی طرف جھکیں اورسرکودائیں یا بائیں طرف ہلکا سا ٹیڑھا کریں۔ پھر انجیکشن کے ذریعے نمک ملا پانی آہستہ آہستہ ناک میں ڈالیں۔ اگریہ عمل ٹھیک طرح کیا جائے تو پانی ایک نتھنے سے گزرکر دوسرے سے باہرآجاتا ہے ۔ اگرایسا نہ ہو تو بھی کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد ناک کواچھی طرح صاف کریں اورجو پانی بچے‘ اس سے غرارے کر لیں۔ آخرمیں زیتون کا تیل یا پٹرولیم جیلی نتھنوں کی اندرونی سطح پر لگا دیں۔ اس سے گردوغباراورالرجنز چپک جائیں گے اورناک کو دوہرا تحفظ مل جائے گا۔

 allergic dermatitis, harvesting, irritants, rashes, allergic asthma, season

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x