ٹک ٹاک پر مقبول ہونے والی سمندری گھاس "سی موس” کو سوشل میڈیا صارفین جاددوئی دوا قرار دے رہے ہیں۔ اسے جلد کی چمک، وزن میں کمی اور معدے کی بہتری کا ذریعہ بتایا جا رہا ہے۔ مختلف ویڈیوز میں اسے کافی میں ملایا جا رہا ہے، فیس ماسک میں استعمال کیا جا رہا ہے یا جیل کی صورت میں کھایا جا رہا ہے۔
سی موس کو آئرش موس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی لال سمندری گھاس ہے جو آئرلینڈ، بحرِ اوقیانوس اور گرم علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا مادہ "کیراجینن” کئی مصنوعات کو گاڑھا کرنے میں استعمال ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سی موس میں آئرن، میگنیشیم، آیوڈین اور وٹامنز پائے جاتے ہیں۔ وٹامن اے، ای اور پولی فینولز جلد کی صحت اور سوزش میں کمی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے جلد پر اثرات کے ثبوت محدود ہیں۔
سوشل میڈیا پر اسے وزن کم کرنے والا سپر فوڈ بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس دعوے کی سائنسی بنیاد موجود نہیں۔ اس میں فائبر کی موجودگی پیٹ بھرنے کا احساس دے سکتی ہے، تاہم اس سے وزن میں کمی کے واضح شواہد نہیں ملے۔
پولی سیکرائڈز کی موجودگی معدے کی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن اس حوالے سے بھی تحقیق ناکافی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سی موس میں آیوڈین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ تھائرائیڈ کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بھاری دھاتیں بھی جذب کر سکتی ہے جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ سی موس کو متوازن غذا کے سپلیمنٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، مگر اسے معجزاتی علاج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔