لاہور کے میو ہسپتال میں 51 سالہ شخص ریبیز سے انتقال کر گیا۔ ہسپتال کے مطابق اسے کتے نے چہرے پر کاٹا تھا۔ بعد میں لیبارٹری ٹیسٹ میں ریبیز وائرس کی تصدیق ہوئی۔
ڈاکٹروں کے مطابق چہرے، سر یا گردن پر کتے کے کاٹنے سے وائرس نسبتاً جلد دماغ تک پہنچ سکتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد اس بیماری سے بچنے کے امکانات نہایت کم رہ جاتے ہیں۔ تاہم کاٹنے کے فوراً بعد مناسب علاج سے ریبیز سے بچاؤ ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوراً صابن اور بہتے پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔ اس کے بعد جلد از جلد طبی مرکز جائیں۔ ڈاکٹر کے مشورے سے ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبیولن لگوائیں۔
صوبائی ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں حالیہ برسوں کے دوران کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں علاج میں تاخیر نہ کریں۔