پیریوڈونٹائٹس (Periodontitis) مسوڑھوں کا ایک انفیکشن ہے جو دانتوں کے گرد موجود نرم ٹشوز کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دانتوں کو سہارا دینے والی ہڈی کو بھی متاثر کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں دانت ہل سکتے ہیں یا گر سکتے ہیں۔ مناسب دیکھ بھال سے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔
علامات
پیریوڈونٹائٹس کی یہ علامات ہو سکتی ہیں:
٭ مسوڑھوں میں سوجن یا پھولا ہوا ہونا
٭ مسوڑھوں کا سرخ یا گہرا جامنی رنگ ہونا
٭ برش یا فلاس کرنے پر خون آنا
٭ سانس سے مسلسل بدبو آنا
٭ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان پیپ آنا
٭ چبانے میں درد ہونا
٭ دانتوں کے درمیان نئی خالی جگہیں بننا
٭ مسوڑھوں کا پیچھے ہٹنا اور دانت لمبے نظر آنا
٭ دانت بند کرنے کے انداز میں تبدیلی آنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر آپ کو پیریوڈونٹائٹس کی کوئی بھی علامت نظر آئے تو جلد از جلد ڈینٹسٹ کو دکھائیں۔ بروقت علاج سے بیماری کے نقصان کو کم کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
وجوہات
پیریوڈونٹائٹس ان وجوہات کے باعث ہو سکتی ہے:
٭ دانتوں پر پلاک (بیکٹیریا کی تہہ) جمع ہونا
٭ پلاک کا سخت ہو کر ٹارٹر بن جانا
٭ مسوڑھوں کی سوزش کا بروقت علاج نہ ہونا
٭ مسوڑھوں اور دانتوں کے درمیان گہری جیبیں بن جانا
خطرے کے عوامل
یہ عوامل پیریوڈونٹائٹس کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ مسوڑھوں کی سوزش ہونا
٭ منہ اور دانتوں کی صفائی کا خیال نہ رکھنا
٭ سگریٹ نوشی، تمباکو یا ویپنگ کرنا
٭ حمل یا مینوپاز کے دوران ہارمونز میں تبدیلی آنا
٭ موٹاپا یا غذائیت کی کمی، خصوصاً وٹامن سی کی کمی ہونا
٭ فیملی ہسٹری
٭ منہ خشک کرنے والی یا مسوڑھوں کو متاثر کرنے والی ادویات استعمال کرنا
٭ لیوکیمیا، HIV/AIDS، کینسر، ذیابیطس، ریمیٹائیڈ آرتھرائٹس یا کرونز کی بیماری
پیچیدگیاں
اگر پیریوڈونٹائٹس کا علاج نہ کیا جائے تو دانت گر سکتے ہیں۔ بعض اوقات اس کے جراثیم خون میں شامل ہو کر جسم کے دیگر حصوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جس سے سانس کی بیماریاں، دل کی بیماری، ریمیٹائڈ آرتھرائٹس، قبل از وقت پیدائش وغیرہ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بچاؤ کے تدابیر
پیریوڈونٹائٹس سے بچاؤ کے لیے یہ احتیاطیں کریں:
٭ دن میں کم از کم دو بار دانت برش کریں اور روزانہ فلاس کریں
٭ منہ اور دانتوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
٭ ہر 6 سے 12 ماہ بعد دانتوں کا معائنہ اور صفائی کروائیں
٭ اگر خطرے کے عوامل موجود ہوں تو ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق زیادہ بار ڈینٹل کلیننگ کروائیں
تشخیص
پیریوڈونٹائٹس کی تشخیص علامات، جسمانی معائنے اور میڈیکل ہسٹری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ معائنہ اور ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:
٭ منہ کا معائنہ کر کے پلاک، ٹارٹر اور خون آنے کی جانچ کرنا
٭ دانتوں اور مسوڑھوں کے درمیان جیبوں کی گہرائی ڈینٹل پروب سے ناپنا
٭ ہڈی کے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے دانتوں کے ایکسرے کرنا
علاج
پیریوڈونٹائٹس کے علاج میں یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
٭ دانتوں سے پلاک اور ٹارٹر کی صفائی (اسکیلنگ) کروانا
٭ دانتوں کی جڑوں کی صفائی (روٹ پلاننگ) کروانا
٭ اینٹی بایوٹک ادویات یا ماؤتھ واش استعمال کرنا
٭ ضرورت پڑنے پر مسوڑھوں کی سرجری کروانا
٭ مسوڑھوں یا ہڈی کی پیوندکاری کروانا
٭ ہڈی اور مسوڑھوں کی دوبارہ نشوونما کے لیے خصوصی علاج کروانا
٭ روزانہ منہ اور دانتوں کی صفائی کا خیال رکھنا اور تمباکو نوشی ترک کرنا
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا پیریوڈونٹائٹس سے دانت گر سکتے ہیں؟
جی ہاں، علاج نہ ہونے پر دانت ہل سکتے ہیں یا گر سکتے ہیں۔
کیا پیریوڈونٹائٹس صرف برش نہ کرنے سے ہوتی ہے؟
نہیں، سگریٹ نوشی، ذیابیطس اور دیگر عوامل بھی اس کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
کیا پیریوڈونٹائٹس کا علاج ممکن ہے؟
جی ہاں، بروقت علاج اور منہ کی اچھی صفائی سے اسے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ اگر آپ کو مسوڑھوں سے خون آنا، سوجن، دانت ہلنے یا دیگر علامات محسوس ہوں تو جلد از جلد اپنے ڈینٹسٹ سے رجوع کریں۔